تکفیری اور خارجی سوچ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے: مولانا امیر حمزہ

سکردو(عابد شگری)مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے اپنے مسلمان بھائی کی مال اور جان کی حفاظت دوسرے مسلمان پر فرض ہیں۔اسلام امن اور آشتی کا دین ہے اس میں کسی تکفیری اور خارجی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں۔جو ایسی فتوی یا سوچ رکھتے ہیں انکا اسلام سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ایک اسلامی ملک میں دہشت گردی اور مسلمانوں کی قتل عام ہرگز جائز نہیں بلکہ کسی غیر مسلم مل یا یہودی ملک میں بھی اس کی ممانعت ہیں۔ان خیالات کا اظہار نظریہ پاکستان کونسل کے چیئرمین نظریہ پاکستان رابطہ کونسل مولانا امیر حمزہ اور جنرل سیکریٹری قاری شیخ یعقوب شیخ نے کورومیں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانہ امیر حمزہ نے کہا کہ اس ملک کو ہم سب نے مل کربنایا تھا اب اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان اسلام کی نام پر معرض وجود میں آیا ۔اور اسلام میں فرقہ واریت اور دہشتگردی و تکفیریت کی کوئی گنجائش نہیں جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف اور اسلام کی نام کو بدنام کرنے کی سامراجی اور استعمار کی ایجنڈے پر گامزن ہے ان کا اسلام سے دور کا کوئی تعلق نہیں۔ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنے اور امن کی فضاء کو قائم رکھنے کیلئے مذہبی آہنگی کو بڑھانے کی ضرورت ہیں۔پاک چائنہ کوریڈور کو کامیاب بنانے اور اس ملک میں امن کو بحال رکھنے کیلئے ہم سب کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ بلتستان ایک پرامن خطہ ہے اس کی پرامن فضا ء کو برقرار رکھنے کیلئے تمام مذہب و مسالک کے لوگوں کو ملکر رہ نے اور اسلام کی امن کی پیغام کا عام کرنے کی ضرورت ہیں۔قاری شیخ یعقوب شیخ نے کہا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے اپنے مسلمان بھائی کی مال اور جان کی حفاظت دوسرے مسلمان پر فرض ہیں۔اسلام امن اور آشتی کا دین ہے اس میں کسی تکفیری اور خارجی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں۔جو ایسی فتوی یا سوچ رکھتے ہیں انکا اسلام سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ایک اسلامی ملک میں دہشت گردی اور مسلمانوں کی قتل عام ہرگز جائز نہیں بلکہ کسی غیر مسلم مل یا یہودی ملک میں بھی اس کی ممانعت ہیں۔انہوں نے فوج کے سالار جنرل راحیل شریف کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا جن کی انتھک محنت اور سوچ کی وجہ سے اس ملک سے دہشت گردوں کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔اور یہ ملک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہورہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments