گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور وکلا ء تحریک۔

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور وکلا ء تحریک۔

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر اشفاق احمد ایڈوکیٹ

Ashfaq Ahmed Adovcateگلگت بلتستان دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں کو ہ قراقرم ، کوہ ہندوکش اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے۔28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا یہ خطہ انتہائی اہم جغرافیائی حدود کا حامل ہے اس کی جغرافیائی حدود چین، انڈیا، تبت ، سابق سویت یونین ، افغانستان اور آزاد کشمیر کے ساتھ ملتی ہیں۔ اسلیئے یہ خطہ ایشیاء کا ہارٹ لینڈ اور دنیا کی چھت بھی کہلاتا ہے قدرتی حسن سے مالا مال اس خطے کی منفرد تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور یہ خطہ تازہ پانی کے ذخائر ؍ گلیشرز بے شمار قدرتی وسائل ، اور دنیا کی دوسری بلند ترین چو ٹی K-2 کے علاوہ Rock Art کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ حالیہ دنوں چائنہ پاکستان اکنامک کوری ڈور اور نیو سلک روٹ کی تعمیر کی وجہ سے بھی دنیا بھر کے ممالک کی توجہ اور دلچسپی کا باعث بن چکا ہے 1842 سے قبل یہ خطہ آزاد خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھا مثلاً قدیم تاریخ میں دردستان ، بروشال اوربلورستان کی ریاستیں جبکہ جدید تاریخ میں اس خطے میں قدیم یونان کی طرح چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستیں موجود تھیں جن میں ریاست ہنزہ نگر ، پونیال اشکومن ، چلاس اور چترال کی شاہی ریاست قابل ذکر ہیں لیکن تاریخ کی ستم ظریفی کے باعث اس خطے پر تاج برطانیہ نے ڈوگرہ افواج کے ساتھ مل کر انیسویں صدی کے آخری دہائی میں ایک خونی جنگ کے ذریعے قبضہ کیا اور 1877 میں گلگت ایجنسی قائم کی اور یہاں اپنا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کر کے اس خطے میں نو آبادیاتی نظام کی بنیاد ڈالی اور اس علاقے پر 1947تک تاج برطانیہ اور مہاراجہ کشمیر کی حکومت قائم رہی ، لیکن یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے گلگت سکاوٹس کے مقامی افواج کے ساتھ مل کر ڈوگرہ اقتدار کا اس علاقے سے ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا اورآزادی کا اعلان کیا اسلئے ہر سال یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان کو سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے لیکن ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کے محض 16 دنوں کے بعدجنگ آزادی کے نمائندوں نے بلا مشروط اس خطے کو ریاست پاکستان کے حوالہ کیا اس لئے برٹش میجر براؤن نے جنگ آزادی گلگت بلتستان کو بغاوت گلگت کا نام دیا ہے نیجتاً انگریز پولیٹکل ایجنٹ کی جگہ پاکستان سے بھیجے گئے ایک نائب تحصیلدار سردار محمد عالم نے علاقے کا اقتدار سنبھال لیالیکن بدقسمتی سے یہ خطہ آجکل دنیا کے مختلف ریاستوں کے زیر کنٹرول ہے مثلاً کرگل اور لداخ انڈیا کے زیر تسلط ہے جبکہ خطے کا ایک حصہ مثلاً چترال اور شیناکی کوہستان کو پاکستان نے اپنے صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کیا ہے جبکہ دو ہزار مربع میل پر مشتمل علاقہ اقصائے چن کو 1963 میں ایک سرحدی معاہدے کے تحت ریاست پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کے حوالہ کیا ہے۔ جبکہ باقی ماندہ علاقہ ریاست پاکستان کے زیر انتظام ہے اور عوام کی ایک اکثریت کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی تا حال اس خطے کو ریاست پاکستان نے اپنے آئین میں شامل نہیں کیا ہے۔ اور یہاں کے تقریباً 20 لاکھ عوام کو بنیا دی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں ، نہ ہی یہا ں کے عوام کو اپنے قدرتی وسائل پر حق ملکیت اور حق حاکمیت حاصل ہے ۔ گزشتہ 68 سالوں سے خطے پر ایک نو آبادیاتی نظام مسلط کر کے عوام کو تیسرے درجے کے شہری کے طور پر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کی عوام میں احساس محرومی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے جبکہ خظے کا مستقبل غیر یقینی کی کیفیت سے دو چار ہے ۔ 

لہٰذا اسی تاریخی پس منظر اور موجودہ معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے وکلاء نے بمقام گلگت ہائی کورٹ بار میں ” گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور عدلیہ کے مسائل ” کے عنوان سے دو روزہ وکلاء کنونشن منعقد کر کے گلگت بلتستان میں ایک قانونی اور سیاسی بحث کی باقاعدہ بنیا د رکھی اور تاریخ کے اس نازک موڑ پر ایک زندہ اور با شعور قوم ہونے کا ثبوت دیا جو کہ قابل تحسین اور جرائتمندانہ قدم ہے۔ لہٰذا یہ اعتراف کرنا لازمی ہے کہ دنیا کی سیاسی تحریکوں میں وکلاء کا کردار نمایاں اور فیصلہ کن رہا ہے چونکہ وکلاء کا پیشہ اس بات کا تقاضا کر تا ہے کہ وہ قانون کی بالا دستی اور انصاف کے حصول کے لے جد وجہد کرتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کریں اور اپنے علاقے کی نمائندگی کرتے ہوئے بنیا دی انسانی حقوق کے حصول کو یقینی بنا کر اپنا قومی فریضہ ادا کریں ۔جس طر ح ماضی میں وکلاء نے دنیا کی سیاسی تحریکوں میں اپنا کردار اد ا کر کے سیاسی تحریکوں کو ایک نئی جہت دی ہے مثلاً 1917 کے عظیم روسی انقلاب کا بانی لینن جو کہ ایک وکیل تھے اور انہوں نے زار روس کے ظلم و جبر کے خلاف جد و جہد کر کے روسی غریب عوام کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے زار روس کی غلامی سے آزادی دلائی تھی اور اس طرح برصغیر پاک و ہند میں تاج برطانیہ کی غلامی سے نجات دلانے کیلئے جدو جہد کرنے والے قائدین میں بھی وکلاء سر فہرست تھے مثلاً تحریک پاکستان کے چوٹی کے لیڈر اور پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال بھی وکیل تھے جبکہ برصغیرمیں عدم تشدد کے فلسفے کے پرچار کرنے والے گاندھی جی بھی ایک وکیل تھے اس طرح کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کے بانی فیڈل کاسترو بھی ایک وکیل تھے اور حالیہ سالوں پاکستان میں مشرف آمریت کے خلاف جمہوریت کی بحالی کیلئے وکلا ء تحریک بھی قابل ذکر ہے ۔

دنیا بھر کی طرح گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں وکلاء کا کردار قابل ذکر رہا ہے مثلاً 1970 کی دہائی میں FCR (فرنٹیر کرایئمز ریگولیشن ) کے کالے قوانین کے خلاف تحریک چلانے والے قائدین کی اکثریت بھی وکلا ء پر مشتمل تھی جن میں جو ہر علی ایڈوکیٹ ، فضل الرحمٰن عالمگیر اور ایڈوکیٹ شیر ولی پونیالی کے خدمات قابل ذکر ہیں ۔ چنانچہ گلگت بلتستان کے وکلاء نے ماضی کی ان شاندا ر روایات کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے آئینی حقو ق کے حصول کیلئے خطے کے عوام میں وکلاء تحریک کی بنیاد رکھی اور کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز ایڈوکیٹ وائس چئیرمین گلگت بلتستان بار کونسل نے کہا” ہمیں ماننا پڑے گا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان کا De Fecto کنٹرول ہے اور حکومت نے تا حال سپریم کورٹ آف پاکستان کے1999 کے فیصلے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق پاکستان پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا ہے اس فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق پاکستان کو حکم دیا ہے کہ یہاں کے عوام کو تما م بنیادی حقوق ایک آئینی سیٹ اپ کے تحت مہیا کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ جی ۔ بی گورننس آرڈر وزارت امور کشمیرکے ایک بابو کی تخلیق ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں اور ایک آئینی سیٹ اپ کا مطالبہ کرتے ہیں” ۔

محمد عیسٰی ایڈوکیٹ صدر سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن گلگت بلتستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ” موجود گلگت بلتستان سیلف گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آرڈر 2009 کا صرف نام ہی خوبصورت ہے نظام برائے نام اور نو آبادیاتی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں چونکہ اس ایگزیکیٹوآرڈر کے شیڈول 5 کے تحت 75% کوٹہ غیر مقامی افراد کیلئے مختص ہے نتیجتاً 17 سے 21 گریڈ تک کے تمام سرکاری آفیسران وفاق سے آتے ہیں اب تو تحصیلدار تک باہر سے آنے لگے ہیں اور اس نظام کے تحت مقامی افراد سے روزگار کا حق بھی چھینا گیا ہے” جبکہ ہائی کورٹ بار گلگت بلتستان کے صدر ملک کفایت الرحمٰن نے کہا کہ ” گلگت بلتستان کا خصوصی سٹیٹس ہی میں علاقے کا مفاد ہے بھر بھی عوام کی اکثریت چاہتی ہے تو اس خطے کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا جائے” 

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر جی۔بی کونسل امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا ” دنیا بھر میں واقعات پر انقلابات رونما ہوتے ہیں لیکن گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں واقعات تو ہوتے ہیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، 28 ہزار مربع میل پر مشتمل 20 لاکھ عوام کو بنیادی حقوق کیوں حاصل نہیں ہیں؟ یہاں جنم لینی والی ہر تحریک کو فرقہ واریت کے ذریعے توڑا جاتاہے ، یہاں کے عوام میں سے کوئی بھی گورنر کیلئے موزوں کیوں نہیں ہے؟ یہاں کے عوام کو ناقابل اعتماد تصور کرتے پنجاب سے گورنر کو درآمد کیا ہے یہی نہیں بلکہ چیف سیکریٹری اور سیکریٹری پلاننگ کے عہدوں کیلئے بھی ہم اہل کیوں نہیں ہیں ؟ نہ ہی گلگت بلتستان کے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کیلئے مقامی افراد کوموزوں سمجھا جا تا ہے اسلئے حکومت پاکستان کو وضاحت کرنی ہوگی اگر ہم متنازعہ ہیں اور جموں کشمیر ریاست کا حصہ ہیں تو ہمارے حقوق کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہریوں کو ریاست پاکستان نے ایک آئین دیا ہے جہاں مقامی وزیر اعظم اور مقامی صدر ہے اور تمام سرکاری اداروں کے سربراہ لوکل ہیں اور سٹیٹ سبجکٹ رول بھی نافذ عمل ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ریاست ہندوستان نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت تمام بنیادی حقوق دیے ہیں مثلاً مقبوضہ کشمیرکے شہری کیلئے انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے پر کوئی قانونی قد غن نہیں ہے اور وہاں کے شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ انڈین پارلیمنٹ کا ممبر بنے اور انڈین گورنمنٹ کا حصہ بنے جبکہ کوئی بھی انڈین شہری مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کیلئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتاہے نہ ہی کوئی انڈین شہری کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے کیونکہ انڈیا نے مقبو ضہ کشمیر میں مہا راجہ ہری سنگھ کا دیا ہوا 20 اپریل 1927 کا باشندگان ریاست کا قانون یعنی سٹیٹ سبجیکٹ کے قانون کو بحال رکھا ہے ۔

جبکہ حکومت پاکستان نے سٹیزن شپ ایکٹ ۱۹۵۱ کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستانی شہری قرار دیا ہے جبکہ گورننس آرڈر 2009 کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کو گلگت بلتستان کا شہری بھی قرار دیا ہے مثلاً گورننس آرڈر کے پارٹ 1 آرٹیکل 2(B) کے تحت شہری سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس گلگت بلتستان کا ڈومیسائل ہے جو کہ سٹیزن شپ ایکٹ 1951 سے متصادم ہے اور اسی بنیا د پر گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی پامالی کرتے ہوئے غیر مقامی افراد کو خلاف قانون ڈومیسائل جاری کیا جاتاہے جس سے علاقے کی ڈیمو گرافی میں تبدیلی کے واضح خدشات پائے جاتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری پاکستان کی عدالتوں کیلئے اہل نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس گلگت بلتستان کا ڈومیسائل ہے اسلئے ہم پاکستان کی قومی اسمبلی ، سینیٹ اور پاکستان کے صدر و وزیر اعظم اور وزیروں کے عہدوں کیلئے نااہل قرار دیے گئے ہیں، حیرت کی بات ہے کہ گلگت بلتستان کے شہری پاکستان کی فو ج اور سول سروس کیلئے اہل ہیں اور وزیرستان سے لے کرکارگل ، بلوچستان سے وانا تک پاکستان کی دفاع کیلئے قابل اعتبار سمجھے جاتے ہیں اسلئے کارگل جنگ میں یہاں کے ایک شہری کو نشان حیدر سے نوازا گیا لیکن پاکستان کے فیصلو ں میں یہاں کا کوئی شہری شریک نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ ہمار قصور یہ ہے کہ ہم پاکستان کے آئین میں شامل نہیں ہیں اور جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے قومی وسائل پر حق ملکیت اور حق حاکمیت مانگتے ہیں تو فوراً دلیل دی جاتی ہے کہ یہ علاقہ تو متنازعہ ہے اس طرح یہ خطہ بغیر مالک کے اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں ہے اسلئے یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ اگر ہمارا خطہ متنازعہ ہے تو پھر اس سرزمین پرزیر تعمیر پاک چائینہ اکنامک کوری ڈور پر 20 لاکھ عوام کی مرضی کے بغیر دستخط کرنا بھی متنازعہ اور غیرقانونی ہے اور ، بونجی ڈیم ، دیامر بھاشا ڈیم اور اکیسویں ترمیم کے تحت یہاں فوجی عدالتوں کا قیام بھی غیر قانونی ہے “

وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شکیل احمدایڈوکیٹ نے کہا ” دھرتی ماں ہوتی ہے اور ماں کبھی متنازعہ نہیں ہو سکتی ہے، ہمارا خطہ متنازعہ نہیں ہے اگر متنازعہ ہے تو پاکستان کا آئین ہے جس میں یہ خطہ تاحال شامل نہیں کیا گیا ہے اس کی وجہ ہمارے عوام میں اتحاد و اتفاق کی کمی ہے لہٰذا ایک پْرامن سیاسی تحریک کے ذریعے ہی بنیادی حقوق اور ایک آئینی صوبے کا حصول ممکن ہے”

گلگت بلتستان میں رائج موجودہ گورننس آرڈر پر بات کرتے ہوئے سابق صدر ڈسٹرکٹ بار راجہ ضیاء الرحمٰن ایڈوکیٹ نے کہا” ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی دیا جائے اور تمام اختیارات کو کا نا ڈویژن سے اٹھا کر گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے اور گلگت بلتستان کو ایک مکمل آزاد اور آئینی صوبہ بنایا جائے اور اس خطے کو مشترکہ مفادات کونسل میں نمائندگی دی جائے اور NFC Award میں اس کا جائز حصہ دیا جائے ،گلگت بلتستان کو ایک کسٹم فری زون قرار دیا جائے اور اکنامک کوری ڈور بننے سے گلگت بلتستان پر جو ماحولیاتی اثرات مرتب ہونگے گلیشیرز پگھلینگے سے جو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اس کا ازالہ کیاجائے ۔جب تک گلگت بلتستان کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی نہیں دی جاتی تب تک یہاں پر کوئی انکم ٹیکس کا نٖفا ذ ہمیں منظور نہیں” ۔

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر بات کرتے ہوئے سابق صدر ہائی کورٹ بار گلگت بلتستان احسان علی ایڈوکیٹ نے کہا ” اہم مسئلہ یہ کالونیل سسٹم ہے جس کے ذریعے بغیر نمائندگی دیے غیر قانونی طریقے سے غریب عوام پر ٹیکسوں کا نٖفاذ اور غیر مقامی افراد کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے ، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی پامالی بھی اسی کالونیل سسٹم کے ضمنی اثرات ہیں انہوں نے کہا یہ خطہ متنازعہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی یہاں حکمرانی متنازعہ ہے گلگت بلتستان میں زیر تعمیر پاک چائینہ اکنامک کوری ڈور سے حاصل ہونے والے 46ارب ڈالر سے گلگت بلتستان کو کچھ نہیں ملنے والا ہے ، انہوں نے کہاچین اکنامک کوری ڈور بنانے سے پہلے ہمارا دو ہزار مربع میل علاقہ واپس کرے جو چین نے 1963 میں یہاں کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر حکومت پاکستان سے ایک سرحدی معاہدہ کے ذریعے حاصل کیا ہے ۔ گلگت بلتستان گورننس آرڈر 2009 کے آرٹیکل 92 میں لکھا گیا ہے

کہ گورننس آرڈر سے UNO کی گلگت بلتستان کے حوالے سے پاس کی ہوئی قراردادیں متاثر نہ ہوں جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے مینذیٹ کے مطابق اسمبلی کے ممبران صرف 61 چیزوں پر قانون سازی کرسکتی ہے جو کہ میونسپل معاملات تک محدود ہیں اسلئے گلگت بلتستان اسمبلی کو اس خطے کی آئینی حیثیت پر فیصلہ کر نے کا کوئی حق و اختیار حاصل نہیں کیونکہ یہ اسمبلی بھی اسی کالونیل سسٹم کی پیداوار ہے اسلئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ اسلئے موجودہ اسمبلی سے عوام کے حقوق کے تحفظ کی توقع کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

وکلا ء کنونشن کے اختتام پر گلگت بلتستان کے وکلا ء نے گلگت بلتستان سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر 2009 کو نو آبادیاتی نظام کا تسلسل قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کیا اور ریاست پاکستان سے مطالبہ کیا کہ؛۔

۱۔ حکومت پاکستان کو واضح کر نا ہو گا کہ اگر گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام پاکستان کے شہری ہیں تو ہمیں پاکستان کے آئین میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے۔ کیونکہ 1947 سے آ ج تک یہ علاقہ ریاست پاکستان کے زیر انتظام تو ہے لیکن تا حال 28 ہزار مربع میل پر مشتمل یہ خطہ آئین پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔

۲۔ اگر گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا فریق ہے اور متنازعہ خطہ ہے جیسا کہUNCIP کے قرار دادوں میں درج ہے تو پھر یہاں کے عوام کو فوراً انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کی طرح و ہ تمام حقوق دیے جائیں جو انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو مہیا کیا ہے یاپاکستانی زیر انتظام آزاد کشمیرطرز کا سیٹ اپ آئینی گارنٹی کے تحت یقینی بنایا جائے بصورت دیگر گلگت بلتستان کے وکلاء خطے کے حقوق کیلئے وکلاء تحریک کو نئی جہت دے کر اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرینگے ۔

اگر چہ آج دنیا بھر میں علٰحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان میں عوام کی ایک اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر رہی ہے جسے ریاست پاکستان نے تاحال قبول نہیں کیا ہے اس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر پر انڈیا پاکستان کی پہلی جنگ کے بعد جب دونوں ممالک نے اقوام متحدہ سے رابطہ کیا تو اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر ایک کمیشن مقرر کیا جس نے13 اگست 1948 ، 5 جنوری1949 اور 28 اپریل 1949 کو تین قراردادیں پاس کئے جن کو عام طور UNCIPکی قراردادیں بھی کہتے ہیں اور ان قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا فریق قرار دیا گیا ہے اسلئے ان علاقوں کے عوام نے اپنے مستقبل کا تعین بذریعہ استصواب رائے طے کرنی ہے کہ آیا انہوں نے پاکستان کیساتھ الحاق کرنا ہے یا انڈیا کے ساتھ۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت پاکستان نے گزشتہ 68 سالوں سے ایک نو آبادیاتی نظام مسلط کیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ اس خطے کے تعلق کو جواز بنا کر خطے کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے اور حالیہ دنوں گلگت بلتستان کی ایک عدالت نے جب جیو ٹی۔وی کے خلاف فیصلہ سنایا تو اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں اسلئے گلگت بلتستان کی عدالتیں پاکستان کے شہریوں کو سزا نہیں دے سکتی اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ ، اگر چہ انڈیا پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں لڑی ہیں لیکن تا حال یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا ہے اور یہ مسئلہ UNO کے سرد خانے میں پڑا ہے اور مستقبل قریب میں بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے کوئی امکانات نظر نہیںآ رہے ہیں اسلیئے گلگت بلتستان کے عوام کو تمام بنیادی حقوق فراہم کرنا اور خطے کے وسائل پر عوام کی حق ملکیت اور حق حاکمیت کو یقینی بنانا اور اندرونی خودمختاری دینا ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے اور علاقے میں موجود احساس محرومی کے خاتمے کیلئے بنیادی حقوق کی فراہمی اور اختیارات کی منتقلی وقت کی ضرورت ہے کیونکہ حقوق اور اختیارات کی منتقلی سے ممالک کمزور نہیں بلکہ مظبوط ہوتے ہیں جیسا کہ اٹھارویں ترمیم کے باعث بلوچستان میں علٰحیدگی کی تحریکیں کمزور پڑ گئی اور برہمداغ بگٹی جیسے علٰحیدگی پسند رہنما کو پاکستان کا حامی بنا یا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اختیارات اور حقوق کی منتقلی اور اعتماد کا اظہار وفاق کو ہمیشہ مظبوط کر تا ہے کمزور نہیں ، لہٰذا حکومت پاکستان کی گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق سے محروم رکھنے اور غیر معینہ مدت کیلئے غلام در غلام رکھنے کی پالیسی باعث تشویش ہے جو کہ گلگت بلتستان کو مشرقی پاکستان جیسے سانحہ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اسلیئے حکمران وقت ہو ش کے ناخن لیں اور فوراً گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی ، انسانی، جمہوری اور آئینی حقوق کویقینی بنائے اور حق ملکیت اور حق حاکمیت کو تسلیم کرتے ہو ئے فوری طور پر عوام کو اختیارات منتقل کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔