بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔

بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کسی گاؤں میں ایک کسان کا قتل ہواجو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔اہلِ خانہ غم سے نڈھال تھے اور پریشان بھی۔۔۔ گاؤں میں قتل کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں تھا۔ اس بار بھی گاؤں کے’’ خدا ترس‘‘وڈیرے نے مقتول کے ورثا کی مالی مدد کا اعلان کیا۔ گاؤں والوں نے وڈیرے کے حق میں نعرے لگائے اور بزرگوں نے دعائیں دیں۔اگرچہ بہت سے لوگ جانتے تھے کہ یہ قتل بھی وڈیرے نے ہی کروایا ہے مگر نعرہ لگانے میں وہ بھی پیش پیش تھے۔

تحریر: علی احمد جان
تحریر: علی احمد جان

اس کہانی کو دہرانے کا مقصد گزشتہ دنوں رونما ہونے والے دو افساس ناک واقعات پر روشنی ڈالنا تھا۔ ۱۲ اکتوبر کو مسجد الحرام کے صحن میں کرین گرنے سے سو سے زائد حاجی شہیدہوگئے اور ۵۰۰ کے قریب حجاج زخمی ہوگئے۔ اس سانحے کو شہر میں شدید موسم کا نتیجہ قرار دیا گیا،۔ شہیدوں اور زخمیوں کے لئے امداد کا اعلان کیا گیا۔اس واقعے کے صرف ۱۵ دن بعد ۲۵ اکتوبر کو اسی سر زمین پاک پر دوسرا واقعہ مکہ سے ۵ کلو میٹر دور منٰی میں رونما ہوا۔جس میں شیطان کو کنکریاں مارتے وقت بھگدڈ مچنے سے ۱۱۰۰ حجاج شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ سعودی حکام کے مطابق حاجیوں کی بڑی تعداد کی ایک ہی مقام پر موجودگی کی وجہ سے بھگدڈ مچی جس کے نتیجے میں بہت سے حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے شہید ہوگئے۔

شہداء میں پچاس کے قریب پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ بیسیوں افراد بشمول خواتین لا پتہ ہیں۔واضح رہے کہ ’’رمی‘‘ حج سے متعلقہ اسلامی اصطلاح مسلمان دوران حج تین علامتی شیطانوں کو ذولحج کی گیارہ اور بارہ تاریخ کو سات سات کنکر ترتیب وار مارتے ہیں۔اس عمل کے دوران ماضی میں بھی حج کے موقع پر حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ جس میں۲۰۰۶ کا سانحہ قابل ذکر ہے جس میں ساڑھے تین سو ہلاکتیں ہوتی تھیں۔

پاکستان میں ان واقعات کو دو زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے ۔ایک وہ تمام افراد جومذہبی عقیدت کی وجہ سے ان واقعات کو اللٰہ کی رضا سمجھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے خلاف کچھ کہنے کو گناہ قرار دیا جا رہا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو انتظامی امور میں غفلت پر تنقید کر رہے ہیں اور درست کر رہے ہیں۔اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں سوال پوچھنا ہر ایک انسان کا فرض بنتا ہے۔مگر حکومت پاکستان نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ منٰی سانحے پر سعودی حکومت کی انتظامی نا اہلی پر بات کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اس نوٹس میں آئین کے آرٹیکل ۱۹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق بد انتظامی پر سوالات اٹھانے سے دوست ملک سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

یوں پاکستان نے ثابت کردیا کہ اسے سعودی عرب سے تعلقات اپنے شہریوں کی جان سے زیادہ عزیز ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ انسانیت سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔

اول تو ہمارا کئی وجوہات کے بنا پر میڈیااس طرح کے واقعات کے بارے میں کوئی تنقیدی پروگرام نشر نہیں کرتا۔اس بار ایک آدھ ٹی وی چینلوں نے سوالات اٹھائے بھی تو حکومت نے انہیں خاموش کروانے کے لئے اس نوٹس کا سہارا لیا۔

ان واقعات کے بعد کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ ۳۰ سے ۴۰ لاکھ حاجیوں کی موجودگی میں بھی عمارتوں کی توسیع کا کام کیوں جاری تھا؟ اس بارے میں ایک عام خیال یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تیزی سے گرنے کے بعد سعودی معیشت کو اگر کوئی چیز بے تحاشا منافع فراہم کر سکتی ہے تو وہ ہے حج اور عمرہ۔۔۔جس سے سعودی حکومت سالانہ کھربوں روپے منافع کماتی ہے کیونکہ اس دوران سعودی تسبیح، ٹوپی، کھجور سے لے کر آبِ زم زم کی خالی بوتل تک مہنگے داموں بیچتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس حج اور عمرہ سے سعودی حکومت نے ۲ کھرب روپے کمائے تھے۔

سعودی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ حاجیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے سانحہ منٰی رونما ہوا۔ تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں حاجیوں کے لئے انتظامات ان کے بس میں نہیں تو پھر ایک خاص کوٹا مقرر کر کے حاجیوں کی تعداد کم کیوں نہیں کرتے۔ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ہر ایک ملک سے ایک مخصوص تعداد میں حاجی فریضۂ حج کے لئے سعودی عرب جائیں، لیکن منافعے کی ہوس میں ایسا کوئی بھی اقدام نہیں کیا گیا۔

سعودی حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ مسلم دنیا کا اس سر زمین سے ایک جذباتی لگاؤ ہے اور یہی اندھی عقیدت سوال پوچھنے سے روکتی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ لواحقین کو ’’ریال مبارک‘‘ دے کر خاموش کروا دیا جاتا ہے اور زیادہ تر لوگ الّٰلہ کی رضا سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں جون ایلیاء کا ایک شعر شدت سے یاد آرہا ہے۔

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔