بروغل سمیت چترال کے بالائی علاقوں میں چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے مقامی افراد کے ساتھ گفت وشنید کا تیسرا دور مکمل ہوگیا

بروغل سمیت چترال کے بالائی علاقوں میں چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے مقامی افراد کے ساتھ گفت وشنید کا تیسرا دور مکمل ہوگیا

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
دورافتادہ وادی بروغل کے مقامی افراد

دورافتادہ وادی بروغل کے مقامی افراد

چترال(نذیرحسین شاہ نذیر)پیڈو کے ہائیڈل پاور پراجیکٹ کے زیر اہتمام بروغل کے گاؤں چکارجوکہ سطح سمندرسے 12800کی بلندی پر 20کلوواٹ،یارخون لشٹ میں50کلوواٹ،کندخون اپریارخون 100کلوواٹ اورسولاسپور میں 200کلوواٹ پیدواری گنجائش کے حامل بجلی گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں گفت و شنید کا تسیرا دور رکھا گیا۔ جس میں ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ضیاء اللہ، سوشل آرگنائزر نورالدین ،فنانس منیجررضاء،چیئرمینBYLSOبروغل یارخون عمررفیع اورتمام لوکل سپورٹ آرگنائزیشن کے منیجرزاورممبروں نے کثیرتعدادمیں شرکت کی ۔اس موقع پر ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹرانجینئرضیاء اللہ نے تینوں مقامات پر کمیونٹی کو تمام قواعد وضوابط سے آگاہ کیا جس کے بعد سائٹ پر کام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کمیونٹی پر واضح کردیاکہ اس پراجیکٹ کے تحت تمام پاؤر پراجیکٹ انتہائی احتیاط اور جانفشانی کے ساتھ اور بروقت پایہ تکمیل کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے طول وعرض میں آبی وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے موجودہ پراجیکٹ صوبائی حکومت کا ایک تحفہ ہے۔ انجینئر ضیاء نے کہاکہ ہائیڈروپروجیکٹ پختونخوا انرجی ڈولپمنٹ آرگنائریشن گورنمنٹ آف خیبرپختونخواکے تعاون پیڈواے کے ارایس پی کے زیرنگرانی چترال کے کونے کونے میں پسماندہ علاقوں میں چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھربنایاجائے گاجن کی پایہ تکمیل سے ہزاروں آبادی کو بجلی کی سہولت فراہم کرے گی جبکہ اس انتہائی سرد علاقے میں موسم سرما میں پکانے ، حرارت حاصل کرنے اور روشنی کے لئے لکڑی اور گوبر پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔اس موقع پر لوکل سپورٹ آرگنائزیشن بروغل کے چیئرمین عمررفیع نے کہاکہ پیڈواے کے ارایس پی کی طرف سے بجلی گھروں کی تعمیر پر اُن کے کے مشکورہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہما رے آباو اجدادنے ان دور افتادہ اورپسماندہ علاقوں میں انتہائی مشکلات کے باوجود اس علاقے کو نہیں چھوڑا اوراپنی تہذیب وتمدن کے ساتھ یہاں مصائب ومشکلات کا مقابلہ کرتے رہے۔چترال میں پانی کافی مقدارمیں ہے جن کو صرف بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔بروغل میں جلانے کی لکڑی بھی نہیں ہے یہاں کے مکین گھاس جلاکرزندگی بسرکررہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔