فلسفہ آذادی کو سمجھئیے۔۔۔۔۔۔!!

فلسفہ آذادی کو سمجھئیے۔۔۔۔۔۔!!

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے عوام پچھلے اٹھاسٹھ سالوں سے یکم نومبر کو یوم آذادی بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ مناتے آرہے ہیں۔یقیناًیہ  اُن عظیم غازیوں اور شہیدوں کے قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے جن کے زور بازو نے ڈوگرہ فوج کو شکست دیکر اٹھایئس ہزار مربع میل خطے کو قلیل وقت میں فتح کرکے ایک تاریخ رقم کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر عزم اور ہمت کے ساتھ میدان میں ڈٹ جائے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے ۔

میں اُن تمام غازیوں اور شہیدوں خاص طور پر فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان آف گلگت کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے ساتھیوں سے ملکرخطہ قراقرم کو ڈوگروں کی غلامی سے نجات دلا کر ایک آذاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔

مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ قوموں کی تاریخ میں شائد ہی کوئی ایسی مثال موجود ہو کہ کوئی ریاست آزادی کے بعد صرف چودہ دن تک دنیا کے نقشے پر اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا ہو ۔ہمیں ماننا پڑے گا کہ جس طرح آذای ایک حقیقت تھی بلکل اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس انقلاب کو ناکام بنانے کیلئے برطانوی سامراجی ایجنٹ میجر بروان اور انکے حواریوں نے بھر پور کردار ادا کیا اور انہی سازشوں کو الحاق کا نام دیکر ہمارے قومی ہیروز کو دیوار سے لگا کر بغیر کسی معاہدے کے ایک تحصلیدار کے ہاتھ میں خطہ قراقرم کا نظم نسق تھما دیا۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ حصے ایک عرصے تک مہاراجہ کشمیر کے زیر نگین رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ مہاراجہ سے پہلے جموں کشمیر پر لداخی بلتی اور گلگتی بادشاہوں نے طویل حکمرانی کی ہے لیکن جب تاریخ سازشوں کی نذر ہوجاتی ہے تو قوموں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی دوسروں کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ایسا ہی کچھ گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ہوا جنگ آذادی کے وقت چونکہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا اور آذادی کے فورا بعد کیونکہ یہ علاقے کشمیر کے دوسرے ریاستوں کی نسبت سیاسی طور پر بھی کمزور تھے اسی کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں نے نہ صرف ہماری آذاد ی پر شب خون مارا بلکہ ہماری شناخت کو بھی متازعہ بنا یا۔ یوں اگر ہم سولہ نومبر سے لیکر اٹھائیس اپریل تک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس ریاست کے عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے کے باوجود ثمر ات نہیں مل سکے۔

یہاں سردار ابراہیم کی آمد اور پھر ہمارے عوام سے پوچھے بغیر کشمیری لیڈران طرف سے معاہدہ کراچیکے بعد اُنیس سو اکہتر تک اس خطے کو بلکل نظرانداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری آذادی کی کوئی حیثیت ہی نہیں کیونکہ آذاد قوموں کے ساتھ اسطرح کے واقعات پیش آنا اور عوام آنکھ بند کرکے صرف یوم آذادی کے دن کو یاد رکھ کر تالیان بجانا یقیناًہماری کوتاہیوں کی ناقابل معافی داستان ہیں۔ستم ظریفی کی انتہا اگر دیکھیں تویہاں آذاد کشمیر سے ہٹ کر ایف سی آر نافذ کرکیا گیا لیکن گلگت بلتستان کی ملکیت کے دعوے دار کشمیری لیڈران کو منہ کھولنے کو توفیق نہیں ہوئی۔

خدا خدا کرکے جب بھٹونے ریاست کا دورہ کیا تواُنہوں نے سب سے پہلے ایف سی آر کا خاتما کرنے کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بھی ختم کردیا لیکن یہاں بھی گلگت بلتستان کے دعوے داروں نے سلے منہ کو کھولنے زحمت نہیں کی. اسی طرح ضیاالحق جب تخت اسلام آباد پر جمان ہوئے تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر کشمیر سے ہٹ کر یہاں مارشل لاء نافذ کردیااُنہوں نے نہ صرف مارشل لاء نافذ کیا بلکہ گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی بنیاد رکھی ریاستی مشنیری کے ذریعے یہاں لشکر کشی کرائی گئی، لیکن کوئی ٹس سے مس تک بھی نہیں ہوا. اُس جراثیم کو گلگت بلتستان کے عوام آج بھی بھگت رہے ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ریاستی حقوق اور ریاست کے باشندوں کے حوالے سے کسی کو کوئی پراہ ہی نہیں ہے. کیونکہ ہمارے عوام کو شروع دن سے ہی ایک کام بتایا ہے وہ ہے نعرے لگوانے کا، یہی وجہ ہے کہ ہم گلگت بلتستان والے سال میں کئی بار یوم آذادی مناتے ہیں. یہ ماجرا بھی شائد ہی دنیا میں کہیں دیکھنے کو ملے۔اب تو حدیہ ہوگئی کہ ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی مسلہ کشمیر کا حصہ ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا ہے تودوسری طرف موصوف دربار اسلام آباد سے اسپیشل(یعنی معذور) صوبے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

ایک اور پروگرام میں موصوف مسلک کی بنیاد پر ریاست کا سودا کرنے اورعوام کو تقسیم کرنے کی طرف اشارہ کر رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ انکا بس چلے تو ریاست کو لائف ٹائم عہدے کے عوض فروخت کردیں۔پس معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس حد تک سیاسی سوجھ بوجھ اور وسعت فکر رکھتے ہیں ایسے میں بھلا ہم آذادی کا دن منا نا کر دنیا کو کیا بتلانا چاہتے ہیں ؟کہ ہم بے حس ، لاشعور اور سوئی قوم ہیں؟ ہم نے احمقوں اور کم ظرفوں کو لیڈر قبول کیا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں محدود پرنٹ میڈیا میں بھی سچ بولنے لکھنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں یہاں کی صحافت بھی مصلحت کے قیدیوں کی ایک لمبی فہرست میں شامل ہے. یہاں قومی خبریں بھی اسکرینینگ کے بعد ہی شائع ہوتی ہیں.

تو پھر کونسی آذادی ….. کیا آذادی؟

اب وزیر اعظم صاحب کی سُنیں تو امریکہ یاتری کے دوران کسی انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی قیدی نہیں سچ تو یہ ہے کہ یہاں آج بھی یہاں ریاستی حقوق کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سرکاری طور پر ذدکوب کیا جاتا ہے اور اس وقت کئی قومی رہنماصرف اس جرم میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کے جیلوں میں غداری کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں کہ وہ ریاست میں قانون کی عمل درآمد چاہتے ہیں کیا یہی آذادی ہے؟

ہمارے سابق وزیراعلیٰ سے لیکر موجودہ قاری صاحب تک کو معلوم ہی نہیں کہ ہمارے اصل مسائل کیا ہیں ؟

بس یہی کہنا ہے کہ ہم نے الحاق کیا تھا لہذا ہمیں قبول کیجئے تو دوسری طرف وفاق بارہا کہہ چُکے ہیں کہ تم آئینی طور پر ہمارا کا حصہ نہیں ہو. لہذا تمہارے ہاں پر جو نظام رائج ہے اس نظام کاپاکستان کے کسی آئینی صوبے یا شہری پر اطلاق کرنے کی کوشش کرنا بھی غیر قانونی ہے.

یہی وجہ ہے کہ ہمارے عدالتی حکم ناموں کا جو حال ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ لیکن کیا کریں ہمارے سیاست دان اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ہماری محدود حیثیت کی وجہ سے ہمارے ہاں مسائل بڑھتی چلی جارہی ہیں سرکاری اداروں میں کرپشن عام ہو چُکی ہیں آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے جدید تعلیم کا فقدان ہیں، زراعت سے لیکر منرل اور سیاحت کے حوالے سے تمام تر قدرتی وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم آج بھی اسلام آباد سے گندم کی بھیگ مانگ رہے ہیں کیا آذادی کا مطلب یہی ہے ؟کیا یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے؟

لہذا آزادی کا دن منا کر اپنے اوپر ماتم کرنے کی بجائے آذادی کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے.

اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حق خود ارادیت کیلئے کوشش کرنی ہوگی. اور وفاق پاکستان کو بھی چاہئے کہ اس مسلے پراب لوریوں سے کام چلانے کی  بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے،  کیونکہ اس مسلے کی آڑ میں دشمن ملکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں.

یہاں کے عوام تمام تر ناانصافیوں کے باوجود جس وفاداری کے ساتھ ہر میدان میں پاکستان کا نام روشن اور دفاع کر رہے ہیں اس بات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے ہونگے کیونکہ اس وقت جو نظام یہاں رائج ہے اس نظام سے یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں یہاں کے عوام آج بھی صحت ،تعلیم ، خوراک ،بہتر انفراسٹرکچر اور کرپشن فری معاشرے کیلئے ترس رہے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام اب متازعہ کے دھبے کو مٹانا چاہتے ہیں لہذا اس دھبے کو مٹانے کیلئے قانون سازی کرنی ہوگی. چند لوگوں کے مفاد کو ترجیح دینے کے بجائے عوام کو خود مختار بنانا ہوگا. اللہ ہم سب کو قانون کے دائرے میں رہ کر قومی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آ مین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔