محسنِ ملت ،سرسلطان محمد شاہ آغاخان (سوئم)

محسنِ ملت ،سرسلطان محمد شاہ آغاخان (سوئم)

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ازقلم نزار فرمان علی

’’اے ہمارے پروردگا ر ! تو نے رحمت اور علم میں ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے‘‘ القرآن۔اسلامی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آغا شاہ علی شاہ آغاخان دوئم کی شادی نواب عالیہ شمس الملک سے ہوئی جو ایران کے خاندان قاچار کے شاہ محمد علی کی بھتیجی اور ایران کے وزیراعظم نظام الدولہ کی صاحبزادی تھی۔آغاخان سوئم سرسلطان محمد شاہ، نواب عالیہ شمس الملک کے بطن سے 2نومبر1877ء بروز جمعہ المبارک کو کراچی (محمد ٹیکری) میں ولادت باسعادت ہوئی۔آپ تاریخ عالم میں سرآغاخا ن کے نام سے مشہور ہیں۔سرآغاخان آل نبیﷺ اور حضرت علی ؑ کی 48 ویں پشت میں سے تھے۔اس لحاظ سے مسلک شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے 48 ویں موروثی امام تھے۔سات سال نو ماہ کی عمر میں تخت امامت پر فائض ہوئے اور شیعہ امامی اسماعیلی امامت میں طویل ترین رہبری عطا فرمائی۔آپ کی پیدائش کی خوشخبری پر دادا جان نے بمبئی سے بذریعہ تار ارشاد فرمایا”اس کا نام سلطان رکھو یہ دنیا میں سلطان بنے گااور اس کے زمانے میں عجیب عجیب واقعات رونما ہونگے۔یہ دنیا بھر میں مشہور ہونگے”۔بچپن میں والد بزرگوار اور دادا جان سے براہ راست فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیم میں والدہ ماجدہ کا بھی نہایت اہم کردار رہا ہے۔ان کی زیر نگرانی مختلف ماہرین تعلیم و ادب سے عربی ،فارسی،انگریزی ،فرانسیسی،جرمن اور اردو زبان میں مہارت حاصل کیا۔اسلامی علوم کی بصیرت اور مغربی تصورات وافکار پر دسترس حاصل کیا۔آپ بچپن ہی سے رومی،حافظ،شیخ عطار اور عمر خیام کا کلام شوق سے پڑھتے تھے۔خدائے بزرگ وبرتر نے آپ کو باطنی انعامات وعنایتوں کے ساتھ دنیاوی دولت سے بھی مالا مال فرمایا تھا۔جسے انسانیت ،امت اور جماعت کی خوشحالی کیلئے صرف فرمایا۔فلاح ملت اور قیام واستحکام پاکستان کیلئے آپ کی انتھک جدوجہد اورلا زوال قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

سر آغا خا ن سوئم مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے میں برصغیر کے ممتاز رہنماؤں میں نمایاں رہے،آپ مسلم لیگ کے بانی صدر کی حیثیت سے 1906سے 1912تک بے لوث خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ اتحاد امت کے عظیم داعی تھے ،مسلمانوں کواپنے فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آئندہ نسلوں کی خوشحالی بلخصوص قیام پاکستان کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تن ،من ،دھن کوشاں رہے۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد عربی کو قومی زبان کے طور پر اپنانے پر بہت زور دیا۔سر آغا خان سوئم 1937کو لیگ آف نیشنز (اقوام متحدہ)کا صدر منتخب کیا گیا اس ادارے کے ذمے دنیا بھر کے مملکتوں کے مابین امن وہم آہنگی قائم کرنا تھا چونکہ عالمی ادارے میں زیادہ تر بااثر رکن ممالک کی نمائندگی تھی چنانچہ آپ نے بحیثیت صدر کئی مسلم ممالک کو نمائندگی دلانے کیلئے پرزور تگ ودو کی۔خصوصاً مصر و افغانستان کی ممبر شپ کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔آپ نے عالمی برادری کو امن عالم کے حوالے سے بے جا فوجی طاقت بڑھانے اور وسیع پیمانے پر جنگی ساز وسامان بنانے کی حوصلہ شکنی فرمائی اور زور دیتے تھے کہ تمام انسان حضرت آدم کی اولاد ہیں ان کو صلح وخیر خواہی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے ۔آپ نے بطورسربراہِ بین الاقوامی تنظیم دوسری جنگ عظیم روکنے کیلئے جہاں یورپی ممالک کے دورے کئے وہیں ہٹلر سے ملاقات کر کے اسے اس حرکت سے روکنے کی بھرپور کوشش کی مگرتوقعات کے برعکس جنگ چھڑنے کے ساتھ ہی لیگ آف نیشنز منتشرہوگئی۔بحیثیت عظیم انسانی فلاح کار اقوام عالم کی بلا تفریق رنگ ،نسل ومذہب ،خیر اندیشی و مدد کرتے تھے اس حوالے سے تعلیم،صحت اور سماجی خوشحالی کے میدانوں میں آپ کے جدوجہد تاریخ کا سنہرا باب ہے،مثلاً ہندوؤں کی بنارس یونیورسٹی کی مالی اعانت کا معاملہ ہو یا ایران کے زرتشتی کمیونٹی کے تعلیمی مسائل حل کرنے کیلئے سکولوں کے قیام کی کاوشیں ،افریقہ کے عیسائیوں کے معاشرتی بہبودکے امور ہوں یا ایران،عراق اور شام کے مسلمانوں کے معاشی حالات سنوارنے کے منصوبے جس میں مساجد کی تعمیر اور قرآن و سیرت نبویؐ پر کتابوں کی اشاعت اور علوم اسلامی کے فروغ میں بھرپور معاونت فرمائی۔مشرقی افریقہ کے پرتگیزی علاقے میں جہاں 70فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی جو نسلاً افریقی تھے سر آغا خان نے ان کی سماجی ترقی کیلئے تعلیمی و صحت عامہ کے ادارے قائم کئے اور ہمیشہ دست تعاون جاری رکھا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی پر یورپی اتحادیوں کی طرف سے ظلم اور تھریس کے علاقے پر یونانیوں کے قبضے اور ترکی کے پایہ تخت استنبول کی طرف بڑھنے کی ہدایت پر برطانوی وزیر اعظم کو جلالی انداز میں خبردار کیا ۔’’مسٹر پرائم منسٹر یونانیوں کو ہم پر چھوڑ دو حالانکہ میں ضیف ہوگیا ہوں مگر ہم تلوار لے کر جائیں گے اور یونانیوں کو نکال دیں گے اور ہم اپنے جہازوں کا انتظام خود کریں گے۔‘‘

1945میں مسلم ویلفیئر سوسائٹی برائے افریقہ قائم کیا جس کے تحت تنزانیہ ،یوگانڈا،کینیا اور جنوبی افریقہ میں تبلیغ دین ،مدارس ومساجد کی تعمیر اور جہالت و افلاس کے خاتمے کیلئے بھی مالی امداد دیتے رہے۔سر سلطان محمد شاہ آغا خان نے انگلستان کے مسلمانوں کے مذہبی وتمدنی تشخص کی مضبوطی کیلئے دینی مدارس و مساجد کی تعمیر اور رہائشی مسائل کے حل خاص طور پر مسلم قبرستان کیلئے زمین دلوائی ،اسلامی علوم و معارف کی نشر واشاعت کے مد میں فنڈز فراہم کئے۔سرسلطان محمد شاہ آغاخان کے جشن امامت کی جوبلیوں یعنی سلور، گولڈن اور پلاٹینیم جوبلیوں میں شریک دنیا کی جماعتوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے نذرانوں سے حاصل ہونے والی رقوم کو انسانیت و امت کی معاشی و سماجی ترقی کیلئے مختص کیا گیا۔ آپ نے شمعِ علم سے انسانی اذہان کو منور کرنے کیلئے ایشیاء اور افریقہ میں 200سے زائد آغاخان سکولز اور حفظان صحت کے معیار کو قائم رکھنے کیلئے سینکڑوں ہیلتھ سنٹرز قائم کئے۔ آپ کے درخشاں دور امامت میں اسماعیلی مریدایک طویل خاموشی کے بعد منظر عام پر آگئے آپ کی فقیدالمثال دینی قیادت نے جماعت کی کثیر الجہتی ترقی کیلئے ہنگامی بنیاد پر کثیر المقاصد ادارے اور پروگرامز تشکیل دیے جن میں سکولز،ہسپتال، ہاوسنگ سوسائیٹز ،بنک اور انشورنس کمپنیاں اور متعدد اقدامات شامل ہیں۔ جس کی بدولت اسماعیلی مسلمان نہایت تیزی سے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط شناخت کے حامل روشن اور ترقی یافتہ جماعت بن گئی۔ سنتِ نبوی ؐکی رو سے حصول علم کو لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے یکساں طور پر ضروری قرار دیا گیا ہے۔آپ بھی اپنے مورثوں کی طرح تعلیم نسواں کے معاملے میں واضح اور دوٹوک موقف رکھتے تھے آپ نے ایک خوبصورت مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ذاتی طور پر اگر میرے دو بچے ہوتے ان میں سے ایک لڑکا اور دوسری لڑکی ہوتی اور اگر میری مالی حیثیت ان میں سے صرف ایک کو تعلیم دینے کی ہوتی تو میں اس بات میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ اپنی بچی کو تعلیم دلاؤں تاکہ خاندان اور نسلوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔‘‘

برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی و تمدنی عروج کی اساس یعنی سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی بنانے میں سرآغاخان کا کردار ناقابل فراموش ہے اس علمی جہاد میں نہ صرف اپنی جیب سے لاکھوں روپے پیش کئے بلکہ مذکورہ تعلیمی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہندوستان کے شہر شہر ، گاؤں اور گھر جاکر دستِ مبارک پھیلاکر چندہ جمع کیا ۔ اس حوالے سے جب آپ ہندوستان کے امیر بااثر شخص کے دروازے پر دستک دیتے ہیں جو آپ کا سخت مخالف تھا آپ کو دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے آپ اپنی ٹوپی اس کے آگے رکھتے ہوئے کہتے ہیں میں امت کی فلاح و بہبود کیلئے آپ کے دروازے پر آیا ہوں آپ کی اخلاقی عظمت سے متاثر ہوکر اپنے خزانے کے دروازے وا کردیتا ہے،آپ کی درویشانہ صفت کی تعریف کرتے ہوئیایک اخبار تبصرہ کرتا ہے کہ کسی سے ہو سکتا ہے کہ ایوان شاہی سے نکل کر گھر گھر بھیک مانگتا پھرے،یونیورسٹی کی تعمیر و تکمیل میں آپ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انتظامیہ کی درخواست پر مسلسل اٹھارہ برس تک پرووائس چانسلر رہے۔آپ نے اپنے مدبرانہ خطابت اور پُر اثر تحریروں سے مغربی اخبارات و جرائد میں اسلام فہمی پر مبنی قلمی جہاد جاری رکھاجس کے نتیجے میں اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں اغیار میں پائی جانے والی دقیانوسی سوچ کو مثبت بنانے میں موثر ثابت ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ کی مشہور تصانیف ’’ہند عبوری دور میں‘‘(India in Transition) جس میں متحدہ ہندوستان کے سیاسی و سماجی حالات اور اہل ہند کے دیرینہ مسائل اور ان کے حل کی ضرورت پر ایک اہم دستاویز ہے۔آپ کی خود نوشت سوانح عمری ’’آپ بیتی آغاخان‘‘ جو ایک بین الاقوامی اہمیت کے حامل کتاب ہے جس میں آپ نے اپنی 80 سالہ بلند پایہ عملی زندگی کے حوالے سے مثلاً تعلیم و تربیت،مشاغل و مصروفیات، سیاسی ،مذہبی و علمی شخصیات سے ملاقاتیں، سربراہان مملکت اور زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور اقوام عالم سے مختلف حوالوں سے اشتراک عمل اور خدمات،خصوصاً اسلام اور مذاہب عالم پربصیرت افروز افکار و عمیق نقطہ نظر ، قارئین کے لئے ان تمام مذکورہ نکات کا لب لباب موجود ہے۔

آپ کی انسانیت کیلئے بلا تفریق رنگ نسل ،ذات و مذہب کے لئے تن من دھن سے پیش کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں بین الاقوامی سطح پر بے شمار اعزاز ات اور القابات سے نوازا گیا۔تخت برطانیہ کی طرف سے آپ کو ہزہائنس، گرانڈکمانڈر آف دی آرڈر آف اسٹار آف انڈیا، گرینڈ کمانڈر آف دی آرڈر آف انڈین ایمپائر اور وائسرائے آف انڈیا نے لیجسلیٹیو کونسل آف انڈیا کی سیٹ بھی رکھی۔اور 1924ء میں ہندوستان کی کونسل آف اسٹیٹ نے سرآغاخان کو امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش کی۔1949ء میں حکومت ایران نے انہیں ایرانی قومیت عطا کی اور ہز رائل ہائنس یعنی حضرت والا کا لقب دیا گیا۔یورپ میں مظہر الدین شاہ قاچار سے ملاقات میں آپ کو اسٹار آف پرشیا،شمس الھمایوں، ترکی کے سلطان حمید کی طرف سے اسٹار آف ترکی،جرمن بادشاہ قیصر ولیم کی طرف سے فرسٹ کلاس پروشین آرڈر آف دی روئل کرونیٹ پوٹسڈیم، اور سلطان زنجبار کی طرف سے برئلینٹ اسٹا ر آف زنجبار اور بہت سے القابات و اعزازات آپ کے اعزاز میں پیش کئے گئے۔

مولانا نذیر احمد آپ کی ملی خدما ت کے اعتراف میں فارسی میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ترجمہ”جہانوں کو دیکھا ہے میں نے،چاند جیسے چہرے دیکھے ہیں میں نے،بہت سی خوبیوں کا مشاہدہ کیا ہے میں نے،لیکن آپ(سرآغا خان)کچھ مختلف ہی ہیں “۔24فروری 1911میں علی گڑھ یونیورسٹی کی چندہ مہم کے سلسلے میں جب یہاں لاہور پہنچے ۔ ہزاروں کی تعداد میں پُر جوش لوگ سر آغا خان کو “خوش آمدید”کہنے اور ان کا خیر مقدم کرنے کیلئے جمع ہو ئے ہیں۔سر آغا خان ہندوستان میں ایک مسلم یونیورسٹی بنانے کیلئے چندہ جمع کرنے آئے ہیں تاکہ مسلم کالج علی گڑھ کے بانی کے اُس خواب کی تعبیر کر دے جس نے یہ کہا تھا کہ “غیب سے ایک ہاتھ بلند ہوگا جو اس کام کو پورا کریگا”۔ایک سجی ہوئی خوبصورت و شاندار گاڑی اپنے معزز مہمان کو بٹھائے چلی آرہی ہے،اور برصغیر پاک وہند کے عظیم لیڈران اپنے محسن مہمان کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دینے کیلئے اس گاڑی کو بجائے گھوڑوں کے خود کھینچ رہے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جس کالج کو یونیورسٹی بنایا جا رہا ہے اس کے افراد ی قوت کے ذریعے تحریک آزادی اور تخلیق پاکستان کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں جو یقینی طور پر کامیابی کی کلید ثابت ہوئی۔ایک اور موقع پر علامہ شبلی نعمانی نے آپ کی شان میں ایک نظم پیش کی جس کا ایک مصرعہ یوں ہے ۔ترجمہ”اگر چہ جمہورمسالک کے عقیدے کے لحاظ سے سر آغا خان خدا نہیں ہیں لیکن وہ مسلمانِ عالم کی کشتی کے ناخدا ضرور ہیں”۔

میں اپنے مضمون کا اختتام ہز رائل ہائینس پرنس آغا خان سوم کی خود نوشت سوانح عمری “دی میمائرس آف آغا خان کا ایک باب”اسلام میرے مورثوں کا مذہب ہے کے ایک خوبصورت اقتباس سے کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں”اسلام میں انتہائی ترکِ دنیا اور ترکِ لذات و تعلقات نہیں ہے،نہ کوئی رُہبانیت ہے۔فاقہ کشی کر کے جسم کو گھلانا نہیں

ہے۔اس کے علاوہ جسم کو مطیع بنانے کیلئے کسی قسم کی جسمانی تکلیف پہنچانا،کوڑے مارنا نہیں ہے۔۔۔۔فلسفہ خوشی کے مضمون میں آپ فرماتے ہیں ’’کہ اپنی خواہش کو واقعہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا سیکھو نہ کہ واقعے کو اپنی خواہش کے مطابق‘‘۔۔’’کوشش کرنا زندگی کا مقصد ہے کامیابی یا ناکامی خدا کے ہاتھ میں ہے پس کوشش کرنا انسان کا فرض ہے اور اس میں اسے خوشی ملنی چاہیے‘‘۔

پاک پروردگار اپنا خصوصی فضل و کرم فرما کر امت اور اہل وطن کو حفظ و امان میں رکھتے ہوئے ترقی و کامرانی نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔