تعلیمات اقبال مشعل راہ کی ضمانت ہے

تعلیمات اقبال مشعل راہ کی ضمانت ہے

101 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ٓٓٓآج علامہ اقبال کا یوم ولادت ہے ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال 9نومبر 1877کو سیالکوٹ کے لوئر مڈل کلاس کے تاجر شیخ نورمحمد کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کی خاندان کو مذہب سے بہت لگاؤ تھا۔علامہ اقبال کی والدہ محترمہ امام بی بی ان پڑھ ہونے کے باوجود ایک مدبر، نیک صفت اور معاملہ فہم خاتون تھی ۔آپ نے اقبال کی تعلیم تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ علامہ محمد اقبال ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ بیسوی صدی کے سب سے عظیم مسلم مفکر ،شاعر مشرق اور صاحب بصیرت سیاسی رہنماتھے ۔ رب کائنات نے انھیں بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔انھوں نے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کی ترغیب دی ، پیغام اقبال نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کو غلامی سے آزاد ہونے کی تدبیر بتاتا ہے۔علامہ اقبال ایسے دور میں پیدا ہوئے جب پوری مسلمان قوم غلامی کی زندگی گزار رہی تھی ، جبکہ انھیں ساری آسائیشں حاصل تھیں۔ یہاں تک کہ وہ 1905میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے اور لنکنزان یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی، جب کہ جرمنی کی میونخ یونیوسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد علامہ اقبال واپس ہندوستان آگئے۔ ان کے پاس اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے تمام مواقعے موجود تھے لیکن انھوں نے اپنی قوم کی رہنمائی کے لیے مستقبل کی قربانی دینے کو ترجیح دی۔ آج اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو تاریخ کے اوراق آپ کی بصیرت، فراست ، معاملہ فہمی اور دورُ اندایشی نیز قوم سے خیرخواہی کی روشنی سے جگمگا رہے ہیں۔اقبال کو مشرقی اور مغربی علوم پر کمال کی مہارت حاصل تھی اور وہ انگریزوں کے عزائم سے بھی بخوبی اگاہ تھے اسی لیے وہ مغربی تہذب سے سخت بیزار تھے ۔وہ اسلامی فکرونظر کے علمبردار تھے۔وہ مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگاکر اسلامی اقدار اور روایت کوانُ کے لیے مشعل راہ بنانا چاہتے تھے ۔اقبال کو اسلام کی تاریخ اور اصولوں پر یقین کامل تھا اسی لیے انہوں نے اپنی فکری شاعری اور نثر کے زریعے مسلمانوں کو حال کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی صفوں کودرست کرکے مستقبل کی جدوجہد کیلئے تیار کرنے کا عزم سے سرشار کیا ۔ 1857 کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں کی جانب سے مسلمانان ہند کو بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انگریزوں نے ہندووں کی حمایت اور مسلمانوں کی تباہی پر مبنی پالیسیوں کے زریعے نقصان پہنچانے کا کوئی بھی زریعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا اس دوران مسلمانان ہندکو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے سرسید احمد خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنے انداز میں اسلامی افکار کو توضیع کرتے ہوئے برصغیر جنوبی اشیا میں مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی ۔لیکن اقبال نے وجدانہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فکری اور تخلیقی پیغام کے زریعے جس طرح مسلمانوں کیلئے ہندوستان میں مسلم قومیت کی بنیاد پر ایک علحیدہ وطن کا مطالبے کا تعین کیا اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔علامہ اقبال نے اسلام کو نظریہ قومیت کی بنیاد بنایا اور مسلمانان ہند کے لیے ایک علیحدہوطن کا خواب دیکھا۔ اس خواب کی تعبیر کو ممکن بنانے میں اقبال وجدان کی اہمیت اپنی جگہ مقدم ہے انھوں نے اپنی شاعری کے زریعے مسلمانان ہند اور خاص طور پر نوجوانوں کو گرمایا اور ان کے جداگانہ سیاسی حقوق کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لیے ایک مملکت خداداد کی تشکیل ممکن بنا دیا۔ علامہ اقبال نے ایک مفکر کی حیثیت سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا غم اٹھا رکھا تھا ۔علامہ اقبال کو نوجوانو ں کی صلاحیتوں پر اعتماد تھا ۔ اسی لیے علامہ اقبال نے نوجوانوں کی سوچ تبدیل کرنے پر محنت کی، اقبال کا شاھین ایک ایسی مثالی زندگی کا نام ہے جو خوداری اور قابلیت سے بھرپور ہے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہیں جوانوں میں
نظر آتی ہیں انُ کو اپنی منزل آسمانوں میں
علامہ اقبال کی سوچ صرف تخیالاتی دور اندیشی نہیں بلکہ ایک مسلم فلاحی معاشرے کی بنیاد تھی، علامہ اقبال نے جہاں اپنی شاعری سے نوجوانوں کے جذبات ابھارے وہیں نوجوانوں کو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ضروری رہنمائی بھی کی ۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
صداقت عدالت اور شجاعت جیسے اوصاف کے ساتھ امیدوار کو اپنے رب کے ساتھ گہرے تعلق کا ہونا بھی لازمی ہے جس سے خدا کی مدد اور نصرت ہر وقت ہر گھڑی اس کے ساتھ ہو ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ قومی اور ملی وحدت کا فقدان ہے ۔ہم اتحاد ویگانگت ، اخوت و اجتماعیت اور بھائی چارے کے درس کو فراموش کرچکے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم مختلف مسائل سے دوچار ہیں خدا ہم سب کو خلوص نیت کے ساتھ تعلیمات اقبال پر عمل کرتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے کی توفیق دے
فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں۔
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔