سول سوسائٹی کے ادارے اور انتظامی صلاحیت

سول سوسائٹی کے ادارے اور انتظامی صلاحیت

25 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: دیدار علی شاہ

ترقی کی اس تیزرفتار دنیا میں نااہلی اور بد انتظامی انسان اور معاشرے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ترقی میں پیچھے دکھیل دیتا ہے اور معاشرے میں نا انصافی شروع ہوجاتی ہیں اسی لیئے اگر معاشرے میں ترقیاتی کام کرنے والے اداروں میں انتظامی صلاحیت بہتر ہو اور اس کردارمیں اہل لوگوں کا اثر زیادہ ہوں تو وہ معاشرہ کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، کسی بھی ملک میں اجتماعی ترقی کے پروگرام میں غیر سرکاری تنظیموں کا اہم کردار ہوتا ہیں یہ تنظیمیں مخیر حضرات اور دوسرے اداروں کے مالی تعاون سے عوام کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اسی طرح سے پاکستان میں بھی ان اداروں نے متعدد اجتماعی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں اور ساتھ ساتھ کسی حد تک مسائل بھی حل ہو رہی ہیں ان تمام اداروں کا مقصد اجتماعی ترقی کے پروگرامز میں حکومت کا ہاتھ بٹھانا ہیں،گلگت بلتستان کی سماجی اور معاشی ترقی میں بھی ان اداروں نے مثالی کردار ادا کی ہیں جس میں خاص کر انفراسٹریکچر، اقتصادی، زرعی ،تعلیم،صحت اور خاص کر نوجوان نسل کی بہتر مستقبل کے لیئے مختلف پروگرامزوغیرہ شامل ہیں جس کا مقصد یہاں کے نوجوانوں کوجسمانی، سماجی، معاشی، ذہنی، جذباتی، نفسیاتی، مہارت،اور عقلی طور پر تیار کرنا ہے تاکہ یہ نوجوان نسل آنے ولے وقتوں میں زندگی کے ہر شعبے سے واقف اور مہارت حاصل کر سکے اور ان نوجوانوں کے اندر ایسے قائدانہ صلاحیت پیدا ہو کہ یہ نئی نسل مستقبل میں معاشی اور معاشرتی طور پر مظبوط ہو سکے، لیکن اگر کسی بھی ادارے کی انتظامی صلاحیت اگر مظبوط نہ ہو تو ترقی کا کام ممکن نہیں اس کے لیے ضروری ہیں کہ انتظامی صلاحیت بہتر سے بہتر ہوں۔
اگر ہم گلگت بلتستان میں ضلع غذریاسین کی بات کرے تو یہ گلگت شہر سے تقریباً 121کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں یہاں کے لوگ زیادہ تر چھوٹے پیمانے پر کاربار اور زراعت سے وابستہ ہیں،یہاں کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے پرائیویٹ اداروں کا بھی کردار ہے جس میں اے کے آر ایس پی کا نام قابل ذکر ہیں 80کی دہائی سے لے کر ابھی تک اور خاص کر دیہی و خواتین تنظیمات کا کردار مثالی رہا ہیں اور یہ سب اب اجتماعی طور پر لوکل سپورٹ آرگنائزیشن کی شکل اختیار کی ہیں یہ ادارہ اب غذر و یاسین میں الکریم ڈولپمینٹ آرگنائزیشن (AKDO)کے نام سے کام کر رہی ہیں،دوسرے ایل ایس اوز کی نسبت اس کا کام غذر و یاسین میں کامیاب رہی ہیں،یہ ادارہ اے کے آر ایس پی کی مدد سے 2005سے لے کر ابھی تک ترقیاتی کاموں میں مصروف عمل ہے اور ضلع غذر میں یہ اب تک کا پہلا ادارہ ہیں جسے Pakistan Centre for philanthropy(PCP) نے سرٹیفایئڈکی ہیں اور جس میں اس ادارے کی جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مرد و خواتین شامل ہیں اور اس کے ساتھ منسلک دیہی تنظیمات کی تعداد 20 ،24خواتین اور 8 کمیونٹی آرگنائزیشنز شامل ہیں،اس ادارے کہ ابھی تک کامیاب اور اہم پروجیکٹ کمیونٹی ہال اور ریسورس سینٹر کہ تعمیر اور بنجر زمین کو آبادکرنے کے لیئے کوہل کی تعمیر ہیں اس کمیونٹی ہال و ریسورس سینٹر کو مختلف کاموں کے لیئے استعمال کیا جاتا ہیں جس میں میٹنگز ،ورکشاپس،سمینارز وغیرہ شامل ہیں اور دوسرا سیلاب سے تباہ شدہ کوہل کی تعمیر اور بنجر زمین تک پانی کو ممکن بنایا ہیں اس کمیونٹی ہال اور ریسورس سینٹر کی تعمیر میں ایل ایس او کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کے دوسرے ادارے اور خاص کر ڈپارٹمنٹ آف رورل ڈولپمنٹ اور لوکل گورنمنٹ کی بھرپور تعاون سے تعمیر ہواجو کہ قابل تعریف ہیں۔
الکریم ڈولپمنٹ آرگنائزیشن اُن LSOsمیں سے ہے جو کہ اپنے پروجیکٹس میں مکمل طور پر کامیاب رہی ہیں اور اس ادارے کی کارکردگی کا جائزہ مختلف طریقوں سے کی گئی ہیں جس میں جمہوری طریقہ انتظام و انتظامی صلاحیت، موثر طریقے سے کمیونٹی میں اثرانداز اور رضاکارانہ طور پر انتظامات شامل ہے جس کے تحت یہ ادارہ جمہوری طریقے سے اپنے جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب کرتا ہیں اور مقررہ وقت پر ان کی میٹنگز بھی ہوتی رہتی ہیں اس ادارے نے کمیونٹی میں مختلف گروپس اور کمیٹی تشکیل دیں کر اپنے کام کو آسانی سے عمل میں لاتا ہیں اور اس ادارے کی تمام حساب کتاب کہ ریکارڈز بھی موجود ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے تمام ترقیاتی کاموں کی فیصلہ سازی میں تمام دیہی و خواتین تنظیمات کو شامل کرتا ہیں اور خاص کر نوجوان نسل کے لیے پروگرام کا انعقاد اور انہیں اس ادارے میں شامل کرتا ہیں،اس ادارے کے تمام بجٹ اور بچت کے دستاویزات بھی مکمل طور پر موجود ہیں اور اس ادارے نے اپنے لیے پانچ سالہ پلان تیار کر کے اسے جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور کروا کر اس پر عمل جاری ہیں اور ان تمام مراحل میں جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کو ان کی ذمہ داری کا مکمل احساس اور معلوم ہیں فانینشل پالیسی کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی تیار کیا گیا ہیں کی وہ دوسرے ادارے یا لوگوں کو ٹریننگز دیں سکے اور خاص کر دوسرے اداروں کے ساتھ روابط پیدا کی ہیں جس میں خاص کر گورنمنٹ کے ادارے اور Donor Agencyشامل ہیں اور ان کی مدد سے یہ ابھی تک مختلف پروجیکٹس چلا رہا ہے،اس ادارے میں تمام ممبران والینٹیرزکے طور پر کام کر رہے ہیں اور خاص کر نوجوان نسل سب سے آگے ہیں اور ساتھ ساتھ اسٹاف کے لیئے مختلف ٹرینگز کا انعقاد بھی کرتا ہیں تاکہ ادارے کی انتظامی حالات کو بہتر بنایا جاسکے۔
یہ ادارہ اپنے تمام کاموں میں دیہی و خواتین تنظیمات کوشامل کر کے حصہ دار بناتی ہے اور ہر پروجیکٹس کے دوران اداروں اور لوگوں سے رائے ضرور لیتا ہیں تاکہ آئندہ کے لیے کام کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جاسکے ،AKDOنے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر اپنے Sustainabilityکو برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع پلان ترتیب دیا ہیں اور اسے جنرل باڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظوری کے بعداس پر تیزی سے کام جاری ہیں اسی لیے تمام ادارے اور یہاں کے مقامی لوگ LSOسے مطمئن ہیں۔
اس ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید بعض چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہیں جس میں خواتین اور نوجوان نسل کی شمولیت کوقانونی طور پر جنرل باڈی سے منظور کر کے ادارے کی انتظام میں شامل کریں اور دوسرے اداروں یا لوگوں کی شکایات کے لیے ایک بہتر طریقہ کار واضع کریں تاکہ ان شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کی کارکردگی میں بہتری لایاجائے،اپنے تمام رپورٹس کو اپنے زیلی اداروں اور ڈونرز کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ وہ مطمئن ہوسکے اور آئندہ کے لیے نئی حکمت عملی کی جا سکے ،ساتھ ساتھ تمام والینٹیرز ممبران کے لیئے ایک بہتر اور جامع پلان کی ضرورت ہیں تاکہ ان کی دلچسپی بڑھ جائے ۔
قارئین کرام اس ادارے کی طرح بہتر منصوبہ بندی، بہتر حکمت عملی، بہتر صلاحیت، بہتر اقدامات،بہترانتظامی صلاحیت ہر اداروں میں ہونی چاہیے اور خاص کر گلگت بلتستان کے ان اداروں میں جو یہاں کے لوگوں کی فلاحی،سماجی اور معاشی بہتری پر کام کر رہے ہیں اگر ان تمام اداروں کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی بہتر ہوئی تویہاں کے لوگوں کی طرز زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آئی گی اور اس مثبت تبدیلی کے لیئے ضروری ہیں کہ معاشرے میں پسندیدگی، رضامندی اور قبولیت زیادہ سے زیادہ ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments