گلگت بلتستان میں سیاحت کا فروغ کیسے ممکن ہے

گلگت بلتستان میں سیاحت کا فروغ کیسے ممکن ہے

29 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شجاعت علی
منگل۲۴نومبر۲۰۱۵ کو وزیر ا اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف نے نامزدگورنر گلگت بلتستان جناب میر غضنفرعلی خان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے گلگت کا چند گھنٹوں پر محیط دورہ کیا۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لئے جلد ایک مربوط لائحہ عمل تیارکرے انہوں نے گورنرگلگت بلتستا ن سے بھی درخواست کی کہ وہ وزیر اعلی گلگت بلتستان سے اس معاملے میں ضرورتعاون کرے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سال بہت ذیادہ تعداد میں سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ بہت ذیادہ لوگوں کے ایک ساتھ ایک ہی وقت میں سفر کرنے سے ہوٹلوں اور مسافر خانوں میں رہائش کا مسئلہ پیش آیا اس مسئلے سے آ ئندہ نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کو ابھی سے منصوبہ بندی یا تیاری کرنی ہوگی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی وزیر اعظم پاکستان اپنے گزشتہ دوروں میں وزیر اعلی سے کہہ چکے ہیں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہیں۔ کہتے ہے سفر وسیلہ ظفر ہے۔ جس مُلک میں مقامی سیاحت پروان چھڑے وہاں لوگوں کی معاشی حالت کی بہتری کی عکاسی ہوتی ہے۔ لوگ تبھی سفر کرتے ہیں جب ان کا جیب ( قوت خرید) ان کا ساتھ دے۔ مقامی سیاحت ملک کی معشیت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں بین الاقوامی یا غیر ملکی سیاح عموماً مہم جوئی، ثقافتی دورں، اور مذہبی رسومات کی ادا ئیگی کے لیے آتے ہیں۔ غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی جانب متوجہ کرنے کے لئے وفاقی سطح پہ غیر ملکی سیاحوں کو ویزہ اور پرمٹ( اجازت نامہ) کے حصول کے نظام کو آسان، سستا اور سادہ بنانے کی ضرورت ہیں۔ مارکیٹنگ کے شعبے پر بھی توجہ درکار ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں کامیاب ضربِ عضب آپریشن ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، قراقرم ہائی وے توسیعی منصوبہ اور عطا آباد ٹنل کی تکمیل سے بہت سار ے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔ یہاں اگر الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کا تذکرہ نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی۔ ایکسپریس ٹیلی وژن کے پروگرام سفر ہے شرط نے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکل کر پاکستان دیکھنے پر آمادہ کیا تو پاکستان کے نامور فوٹوگرافروں اور فلم سازوں نے اپنے کیمروں کی آنکھ سے پاکستان کے لوگوں کو بالخصوص اور دنیا کو بالعموم الیکٹرونک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کا وہ چہرہ دکھایا جسے بنفسِ نفیس دیکھنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا۔ اہل علم حضرات نے ا پنے ذورِ قلم سے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ گلگت بلتستان میں فطرت کی خوبصورتیوں اور رنگینیوں کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے لوگوں کو باورکرایا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا سوئٹزرلینڈ ہے۔یہاں کی جنت نظیر وادیاں، خوش اخلاق لوگ، مہذب معاشرہ، ثقافتی ورثے، دلوں کو موہ لینے والی موسیقی اور جذبہ حب الوطنی اپنی مثال آپ ہے۔ پھر کیا ہوا لوگ جوق در جوق گلگت بلتستان کی جانب چل پڑے۔ بہت ساری حسین یادیں لیکر جب وہ واپس گھرلوٹے اہل و عیال، دوست احباب ، عزیزوں اور فطرت شناس لوگوں کو اپنی داستانِ سفر سنائے تو بہت سارے لوگوں کے دلوں میں گلگت بلتستان دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اورتو اور لوئر دیر اور سرگودھا سے تعلق رکھنے والی دو مہم جو لڑکیوں نے اس سال سائیکل پہ گلگت بلتستان کا چکر لگا کر سب کو حیران کر دیا۔ کمال ہے ہمارے معاشرے میں ایسے با ہمت خواتین بھی موجود ہے۔

اپنے قارئین کی معلومات میں اضافے کے لئے یہاں یہ بتانا مناسب سمجھتا ہوں کہ گلگت بلتستان پہلے سات اضلاع پر مشتمل تھا مگر اس سال تین نئے اضلاع کے بننے سے اب یہ تعداد دس ہو گئی ہے۔ ان دس اضلاع کے نام یہ ہیں: گلگت، ہنزہ، نگر، غذر، دیامیر، استور، سکردو، گانچھے، کھرمنگ، اور شگر ۔ لوگ عموماً چترال کو بھی گلگت بلتستان کا حصہ سمجھتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ چترال صوبہ خیبرپختونخواہ کا ضلع ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں بروغیل گلگت بلتستان کا حصہ ہے یا چترال کا؟ جواب کے لیے کومنٹ کرے۔
میرا براہِ راست سیاحت کے شعبے سے کوئی واسطہ نہیں مگر گلگت بلتستان کے فرزندہونے کے ناطے ایک تعلق ضرور ہے۔میری ناقص رائے میں گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اگر مندرجہ ذیل دس نکات پر توجہ دے تو گلگت بلتستان میں سیاحت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔

۱۔ پُر امن ماحول کا قیام: سیاحت کے فروغ کے لئے پرامن ماحول کا قیام یقینی بنانا پہلی شرط ہے۔ میدان جنگ میں کوئی بھی سیاح اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر نہیں جاتا۔ لوگ وہاں جانا پسند کرتے ہیں جہاں داخلی اور خارجی امن و امان کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔ سیاسی ماحول کا پر امن ہونا بھی سیاحت کے لئے ضروری ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے سے قبل گلگت بلتستان میں بین الاقوامی یا غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد سیروتفریح کے لیے آیا کرتی تھی مگر اس کے بعد حالات کافی بدل گئے۔ ملکی، علاقائی، اور مقامی ماحول کا سازگار ہونابھی سیاحت کے فروغ کے لئے نیک شگونی کی علامت ہوتی ہے۔

۲۔ سیاحوں کو ذحمت نہیں بلکہ سہولت چاہیے: گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو علاقائی یا جغرافیائی شناخت کے لحاظ سے سیاحوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہیں۔ مقامی(لوکل)، غیر مقامی( نان لوکل)، اور غیر ملکی ( فورنرز)۔ مقامی لوگوں کو عموماً گلگت بلتستان میں آذادنہ گھومنے پھرنے کہ اجازت ہیں۔ مگر غیر مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ سہولت سے ذیادہ ذحمت پر مبنی ہے۔جگہ جگہ اندرج اور پوچھ گچھ کا معاملہ اس میں سر فہرست ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد سے بطور سیاح اگر آ پ گلگت بلتستان کے سفر پہ نکلے تو پتہ نہیں کتنی جگہ سیاحوں کو پولیس چیک پوسٹس پہ اندراج( جسے عرفِ عام میں انٹری کہتے ہے) کے لئے اُتارا جاتا ہے۔ سیاحوں کے سیکورٹی کے مسائل اپنی جگہ مگر آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں رہ کے بھی ہم پرانے طریقوں پہ اکتفا کرتے ہیں نت نئے اور جدید طریقوں سے استفادہ نہیں کرتے۔ تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے صارف ہونے کے باوجود ہم اپنے پولیس چیک پوسٹس کو آپس میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے نہیں ملا سکے ہیں۔ شائد یہ ہماری ترجیعات میں شامل نہیں۔ اگر مخصوص جنکشن پوائنٹس مثلاً ٹیکسلا، بالاکوٹ، بابوسر، رائیکوٹ، سکردو، استور، ہنزہ ، خونجراب، دیوسائی، اورغذر وغیرہ میں جدید رپورٹنگ روم قائم کیا جائے انہیں آپس میں منسلک کیا جائے جہاں ملکی سیاحوں کے شناختی کارڈ اور غیر ملکی سیاحوں کے پاسپورٹ اور ویزہ کو سکین کر کے باقی پوائنٹس کو ارسال اور اگاہ کیا جائے تو بار بار مسافروں کو گاڈیوں سے اتر کر پولیس رجسٹر میں چیک پوسٹس پہ اندارج کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لمبی سفر پہ اگر آپ بار بار تھکے اور سوئے ہوئے مسافروں کو انٹری کے لئے جگائیں گے تو اس سے ایک غلط تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارے ہاں ابھی بھی دستی نظام( مینول سسٹم) رائج ہے ۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ اگر سیاح گروپ کی شکل میں سفر کر رہے ہوں تو ان کے گائیڈ کے پاس ایک ناموں کی فہرست( نیمنگ لِسٹ) ہوتی ہے جسے چیک پوسٹس پہ دے کے جان چڑا یا جاتاہے۔ پولیس والے بھی اسے ایک آسان حل کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پولیس والے یہ چیک کر لے کہ جو نام لسٹ میں درج ہیں وہ اصلی ہے اور وہی مسافر گاڈی میں بیٹھے سفر کر رہے ہیں۔ عام حالات میں ڈرائیور ہی یہ لسٹ پولیس والے کو تھما دیتا ہے۔ بعض جگہوں میں ایسے پولیس والے انٹری کے لیے بیٹھتے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں انگلش بولنا تو درکنار، رجسٹر میں اندراج کرنا بھی صحیح سے نہیں آتا۔ یہ سب باتیں کہنے کا ایک ہی مقصدہے کہ پتہ چلے ہمارے نظام میں کہاں کیاکیا نقائص موجود ہیں اور انکا ممکنہ حل کیا ہے۔

۳۔ پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی فعالیت: ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( نیٹکو) کی طرح پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) بھی حکومت پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہیں جس کے مینڈیٹ میں سیاحت کی ترویج سر فہرست ہیں۔ اٹھاروی آئینی ترمیم کے بعد پی ٹی ڈی سی بلکل غیر فعال دکھائی دے رہا ہے۔ سیاحت پاکستان کی ایک اہم صنعت ہے مگر اس وقت بغیر کسی وفاقی وذیر کی سر پرستی کے چل رہا ہے۔ اس وقت وفاقی سطح پر محکمہ سیاحت کا کوئی کُل وقتی وذیر موجود نہیں۔ صوبائی حکومت تو وفاقی حکومت کی ہدایت پر چلتا ہے۔ جب وفاقی سطح پہ محکمہ سیاحت عملاً غیر فعال ہو تو اس کا اثر صوبوں پہ لاذماً پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ سیاحت میں ایسے پروفیشنلز کو شامل کیا جائے جو سیاحت کے حوالے سے معلومات ، تجربہ اور ہنر رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ ہی پی ٹی ڈی سی کو نیٹکو کی طرح اپنے گاؤں پر کھڑا کر سکیں گے۔ صوبائی محکمہ سیاحت کو بھی فعال کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اختیارات کی صوبائی حکومتوں کو منتقلی سے سیاحت کو نچلی سطح تک متعارف کیا جا سکتا ہے۔

۴۔ سیا حت اور مقا می حکومتیں: بہت سارے ایسے کام ہیں جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتی۔ مثلاً ٹریکنگ روٹس پہ صفائی ستھرائی کا قیام، کیمپ سائٹس کا قیام اور سہولیات کی دستیابی، راستوں اور پلوں کی تعمیر اور مرمت، مسافر خانوں کا قیام، پورٹرز، باورچی، گائیڈ، پورٹر سردار کا بندوبست کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں جو مقامی لوگ ذیادہ بہتر انداذ میں انتظام کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مقامی نمائندوں کو با اختیار بنانا، انہیں فنڈز فراہم کرنا، اپنے ضروریات کا جائزہ لیکر ان کے لئے عملی اقدام اٹھانا وغیرہ ایسے کام ہے جو مقامی آبادی ذیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہیں۔ اے کے آر ایس پی نے جس طرح مائیکرو چیلنج ایوارڈ کا قیام عمل میں لایا ہے جس میں مقامی لوگوں کو ان کے ایل ایس او یا سی بی او کے ذریعے پہلے پروپوزل بنانا سیکھایا جاتا ہیں پھر وہ اپنے علاقے کی مشکلات اور ضروریات کا جائزہ لیکر پروپوزل جمع کرتے ہیں انہیں فنڈز فراہم کیا جاتا ہے جسے وہ خود استعمال کرتے ہیں فنڈ فراہم کرنے والا ادارہ صرف کام کی نگرانی اور لوگوں رہنمائی، اور سرپرستی کرتی ہے تاکہ مطلوبہ نتائج کو مقررہ وقت اور مقررہ وسائل میں حاصل کیا جا سکے۔ یہ بات عیان ہے کہ حکومت کی تحویل میں رہ کے ادارے منافع بخش نہیں ہو سکتے مثلاً پی آئی اے اور پی ٹی ڈی سی جنکا سیاحت کے فروغ میں کلیدی کردار ہے۔۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ کی حکومت نے سرکاری ریسٹ ہاوسز کو عام عوام کے لیے کھول دیے اور وہاں سے منافع کمانا شروع کردیا۔ اسی طرح چترال میں چھوٹے چھوٹے بجلی گھر لگانے کے لیے اے کے آر ایس پی کے وسیع تجربے اور مقامی آبادی کی خدمات سے وہاں کی مقامی حکومت بہترین کام کر رہی ہے۔

۵۔ محکمہ خوراک اور صحت کا کردار: سیاحوں کو صحت بخش اور صاف ستھری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے محکمہ خوراک کو بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرز پر چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی عائشہ ممتاز جیسی قابل ، فرض شناس اور ایماندار لوگ موجود ہیں جنہیں بس ایک بہتر منتظم کی سر پرستی چاہیے۔ ہوٹلوں، مسافر خانوں، ریسٹورنٹس، چائے خانوں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی کے معیار کو بہتر بنانے سے سیاحوں کا دھیان اور ذیادہ گلگت بلتستان کی طرف ہو گا۔ایک شکایت یہ بھی عموماً سننے کو ملتی ہے کہ گلگت بلتستان کے وہ علاقے جہاں بہت ذیادہ سیاح جاتے ہیں وہاں کوڈا کرکٹ یا گندگی کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول بندوبست نہیں۔ گلیشیرز پہ رفع حاجت کرنے سے سفید چادر کی مانند گلیشیرز اب رنگین دکھائی دینے لگے ہیں۔ کنکورڈیا اور کے۔ٹو بیس کیمپ اس کی ذندہ مثالیں ہے۔ کیا وجہ ہے ہر سال کے ۔ٹو بیس کیمپ پہ کلین اپ ایکسپیڈیشن بھیجنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مطلب صاف ضاہر ہے جہاں ٹورسٹ ذیادہ جاتے ہیں وہاں گندگی بھی اُتنی ہی ہوتی ہے۔ مگر اس کے لئے کوئی دیرپا حل ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ کریم آباد ہنزہ ہر سال سیا حوں کی مرکز نگاہ ہوتی ہے۔ سینکڑوں سیاح یہاں آتے ہیں مگرکیا مجال کسی کو کہیں گندگی نظر آئے وجہ صاف ظاہر ہے کہ مقامی قیادت نے اس کے لئے ایک بہتر حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہاں کے لوگ صفائی کی اہمیت اور گندگی کے نقصانات سے باخبر ہیں تبھی تو سیاح ہنزہ کی خوبصورتی کی تعریف کرتے رہتے ہیں۔

۶۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کردار: گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک شکایت یہ بھی اکثر سننے کو ملتا ہے کہ حکومت وقت کی جانب سے یکساں کرایہ نامے کا نفاذ نہیں ہوتا۔ ڈرائیور حضرات مقامی لوگوں سے کچھ اور سیاحوں سے کچھ کرایہ وصول کرتے ہیں۔ جب مسافر گاڈیوں میں سیاح بھی سفر کر رہے ہوں اور سیاحوں سے الگ کرایا وصول کیا جائے اور یہ بات ان کے علم میں آئے تو اس سے سیاحوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ آخر کار وہ بھی ہماری طرح انسان ہے۔ اسی طرح بکنک کے گاڈیوں میں بھی سیاحوں سے مناسب یا جائز کرایے کا وصول یقینی بنانا بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ اقدامات ہے جو بظاہر چھوٹے لگتے ہیں مگر ان کے اثرات بڑے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

ٍ۷۔ سیا ح سہولت مرکز (ٹورسٹ فیسلٹیشن سنٹرز) کا قیام: سیاحوں کو صحیح وقت پہ صحیح معلومات فراہم کرنا بھی ایک اہم عمل ہے۔ اجنبی لوگوں کو اجنبیت کا احساس نہ ہونے دینا ہی اصل مہمان نوازی ہے۔ کسی انجان شخص کی بہتر رہنمائی اورسے ہم تعلقات کی ایک اچھی پُل استوار کرسکتے ہیں۔ سیاحوں کو بعض دفعہ مقامی لوگوں سے شکایات بھی ہوتی ہے ان کے شکایات کا ازالہ کرنا بھی اشد ضر وری ہے تاکہ وہ علاقے اور لوگوں کے بارے میں اچھے تاثرات لئے واپس اپنے گھروں کو لوٹے۔

۸۔ ذرائع نقل و حمل اور مواصلات کا نظام: سیاحت کے فروغ کے لئے بہتری سفری سہولیات کا ہونا اشد ضروری ہے۔ جب تک آپ کے فضائی، بحری اور بری ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر نہیں ہوگا سیاح کہیں پر بھی سیر و سیاحت سے ہچکچاتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں فضائی سفر کے لئے پی آئی اے کو اپنے فلائٹس کی تعداد بڑھانے اور سروس کے معیار کو بین الاقومی معیار کے ہم پلہ کرنا ہوگا۔ بہترین روڈ نیٹ ورک ، بہترین ہوائی اڈے، بہترین نظارے اور بہترین لوگ اگر کسی معاشرے میں ہوں تو وہاں لوگ کیوں نہیں آئیں گے۔ بلکل اس طرح مواصلات کا جدید نظام بھی بہت سارے سیاحوں کے لئے ا طمینان کا سبب ہوتا ہے۔ بہتر مواصلاتی نظام سیاحوں کو اپنے گھر والوں، عزیزوں اور دیگر لوگوں سے جڑا رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی ایمر جنسی حالت میں مواصلات کے بہتر نظام سے ہی لوگ جلدی اپنے پیاروں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ایس ۔سی۔او واحد ٹیلیکام آپریٹر ہونے کے باوجود بہت سارے گاؤں میں مواصلات کے نظام پہنچانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال گلگت بلتستان کی وہ وادی جہاں سے ثمینہ بیگ ، رجب شاہ سمیت کئی نامور کوہ پیماہ پیدا ہوئے جنہوں نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا۔ جو رقبے کے لحاظ سے ہنزہ کا سب سے بڑا گاؤں ہے جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سالانہ سینکڑوں سیاح مختلف مقاصد کے تحت آتے ہیں مگر ابھی تک وہاں مواصلات کا کوئی نظام نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے وہ مقامات جہاں بہت ذیادہ سیاح آتے ہیں ان کی ایک فہرست مرتب کی جائے اور اس بات کا بھی کھوج لگایا جائے کہ ایسے علاقوں کی بنیادی محرومیاں کیا ہے جن کو پورا کرنے سے سے مقامی آبادی کو فائدہ ملنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کا بھی بھلا ہو سکتا ہے۔

۹۔ ٹور آپریٹرز کو گلگت بلتستان کی سطح پر ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ چلے کون کہاں سے ٹور کا بندوبست کرتا ہے۔ اگر ضلعی حکومت ٹورز کا انعقاد کرنے والوں کو این او سی جاری کرنے کا ایک نظام وضع کرے (بے شک آن لائن ہی سہی) تو ایک تو ٹور آپریٹرز کا ایک ڈیٹا بیس خود بخود معرض وجود میں آئے گا۔ دوئم یہ کہ متعلقہ شخص یا آفس کا رابطہ نمبر ضلعی حکومت یا محکمہ سیاحت کے پاس ہونے سے ایمرجنسی حالات میں بہتر مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اور سوئم یہ کہ سیاحوں کی اصل تعداد کاتعین کرنا آسان ہوگا۔

۱۰۔ عوامی آگاہی مہم: وقت کی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاحت کے شعبے سے منسلک ہے ان کے لیے ایک اگاہی مہم کا آغاذ کیا جائے۔ جس میں ٹور آپریٹرز، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، دکاندار، گائیڈز، کوہ پیماہ، ڈرائیورز، اور دیگر لوگوں کو شامل کیا جائے جس میں انہیں سیاحوں سے بہتر انداز میں پیش آنے کے طریقے، اچھی مہمان نوازی، برتاؤ، حسن سلوک، رواداری، فلاح انسانیت، اور دیگر موضوعات پہ تربیت دی جائے۔ ہوٹل انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہوں یا ٹرانسپورٹ، ٹورز کا اہتمام کرنے والے ہوں یا مہم جوئی پہ ساتھ چلنے والے، سیکورٹی اہلکار ہو یا عام آدمی، ہر کوئی اپنے علاقے اور ملک کا ایمبیسڈر یعنی نمائندہ ہوتا ہے۔ جتنا اچھا برتاؤ سیاحوں کے ساتھ ہوگا اتنا ہو علاقے کی پہچان ہوگی اور سیاحت کو فروغ ملے گا ۔ قصہ مختصراً یہ کہ گلگت بلتستان کے بہت سارے لوگوں کا روذگار سیا حت سے وابسطہ ہے۔ سیاحت ہماری ذندگی کی بقاء کا حصہ ہے۔ سیاحت ہم سے ہے اور ہم سیا حت سے۔

یہ تحریر خالصتاً میری ذاتی معلومات ، مشاہدات اور رائے پر مبنی ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔ قارئین کا اس سے متفق ہوناہر گز ضروری نہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔