اوشکھنداس کے زلزلہ متاثرین دو ماہ گزرنے کے باوجود امداد سے محروم، خون جما دینے والی سردی میں ٹینٹ میں زندگی گزارنے پر مجبور

اوشکھنداس کے زلزلہ متاثرین دو ماہ گزرنے کے باوجود امداد سے محروم، خون جما دینے والی سردی میں ٹینٹ میں زندگی گزارنے پر مجبور

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( رپورٹر ) اوشکھنداس کے زلزلہ متاثرین خون جماد دینے والی سردی میں آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ زلزلہ متاثرین کیلئے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ متاثرہ افراد نے حکومت سے فوری طور پر بحالی کا مطالبہ کر دیا ۔ اوشکھنداس میں حالیہ زلزلہ متاثرین جن میں رحیم الدین ، عیسیٰ خان و دیگر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور حلقے سے منتخب نمائندہ صوبائی وزیر تعمیرات کی جانب سے زلزلہ متاثرین کیلئے کیئے گئے اعلان پر اب تک کوئی عمل در آمد نہیں ہوسکا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اوشکھنداس کے زلزلہ متاثرین دو ماہ گزرنے کے باوجود امداد سے محروم ہیں اور اس خون جما دینے والی سردی میں آسمان تلے ٹینٹ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا شدید سردی کے باعث ان کی مشکلات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جبکہ معصوم بچے موسمی بیماریوں کی زد میں آرہے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے متاثرین کی بحالی کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔