چلاس کی ڈائری: متاثرین ڈیم کے لئے کٹھن مرحلہ

چلاس کی ڈائری: متاثرین ڈیم کے لئے کٹھن مرحلہ

56 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:مجیب الرحمان

10296567_681066105294186_5577373311334493622_nوطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔جہاں پیدائش ہوتی ہے زندگی گزرتی ہے وہاں کے درو دیوار اور گلیوں کوچوں بلکہ ہر چیز سے یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ وطن سے محبت کے حوالے سے احادیث نبویﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو وطن سے محبت ایک فطری اور شرعی تقاضا ہوتا معلوم ہوتا ہے۔فرماتے ہیں کہ جب حضور پاک ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے جحفہ پہنچے تو مکہ شریف کی جانب رغبت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک آیت اتاری جس کا مفہوم یہ ہے، بے شک جس نے تم پر قرآن فرض کیا وہ تمہیں پھیر جائے گا، جہاں پھرنا چاہتے ہو یعنی مکے کی طرف۔ سرور کونین ﷺ جب ہجرت فرما کر مکہ سے جانے لگے تو فرمایا کرتے تھے اے اللہ ہمارے اندر مدینے کی اتنی محبت پیدا کر دے جتنی تو نے مکہ کی محبت دی ہے،مدینے کی آب و ہوا درست فرما دے اور ہمارے لئے مدینے کے صاع اور مد (ناپنے کے پیمانے)میں برکت عطا فرما۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایک صحابی نے آپﷺ سے مکہ کے اوصاف بیان فرمائے تو آپﷺ نے اس صحابی سے فرمایا کہ اصیل بس کرو ہمیں مکہ شریف کے اوصاف بیان کر کے غمزدہ نہ کرو۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضورپاکﷺ کسی بھی سفر سے آتے تو مدینہ شریف کی اونچی منزلیں دیکھ کر خوش ہوتے اور اونٹنی تیزی سے دوڑاتےیا کوئی اور جانور ہوتا تو اس کو حرکت دیتے۔ ان احادیث اور واقعات سے وطن عزیز کی محبت اور رغبت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک حکیمانہ قول بھی ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا تقاضا ہے۔

محترم قارئین کرام ضلع دیامر تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اپنے مخصوص محل وقوع اور روایات و ثقافت کے اعتبار سےدنیا بھر میں اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔اس کی ایک ایک چٹان اور ایک ایک چپے میں ایک تاریخ محفوظ ہے۔اسی ضلعے کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔اس ضلعے کو زمانہ قدیم سے تجارتی راہداری کے مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے ۔دریائے سندھ کا ایک طویل حصہ بھی اس ضلعے کے دامن سے گزر تا ہے۔2006میں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں پانی کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے ڈیم بنانے کا فیصلہ ہوا تو دنیا کا سب سے بڑا کنکریٹ ڈیم بنانے کے لئے دیامر کی جغرافیائی ساخت کا انتخاب ہوا۔اس وقت کے حکمران آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بذات خود آکر اس وقت زمین کی تقریب کا افتتاح کیا۔اور ڈیم کی تعمیر کے لئے عوام دیامر سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی بھی یقین دہانی کی۔اور عوام کو مراعات اور مالی فوائد کے سبز باغ بھی دکھائے ۔افتتاحی تقریب میں دیامر کے منتخب نمائندوں نے ملکی مفاد اور استحکام کی خاطرڈیم کی تعمیر کے لئے سر تسلیم خم کیا۔ جس کے بعد ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پر کام کا آغاز ہوا۔2008میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈیم کی تعمیر کی منظوری ہوئی یوں اٹھارہ اکتوبر 2011کو اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ڈیم کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اسکے بعد ڈیم کے لئے حصول اراضی واپڈا کالونی کی تعمیر کا بھی آغاز ہوا۔

ضلع دیامر جہاں اپنے مخصوص محل وقوع اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے وہاں شاندار روایات کا بھی مظہر ہے۔یہاں کے باسی سادہ لوح امن پسند مہمان نواز اور اسلام پسند ہیں۔وہی پر جذبہ حب الوطنی بھی انکے دلوں میں بھری پڑی ہے۔ مملکت خداداد کی سالمیت اور استحکام کی خاطر اہلیان دیامر نے اپنی تمام تر املاک ،آبا و اجداد کی قبریں ،مساجد،تاریخی ورثے سمیت اپنی تمام تر روایات کو قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔حکومت ،واپڈا اور متاثرین کے مابین اراضی املاک کی قیمتیں مختص کرنے سمیت دیگر معاہدے بھی ہوئے۔جس کے بعد متاثرین کے املاک و اراضی کے معاوضوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

اب متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کے املاک و اراضیات کے معاوضوں کی ادائیگی کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے۔امید ہے کہ جلد ہی معاوضوں کی ادائیگی کا سلسلہ مکمل ہو جائے گا۔جس کے بعد دنیا کے سب سے بڑے کنکریٹ ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔جس کے بعد متاثرین اپنے قیمتی سرمایے جہاں پر انہوں نے اپنی زندگی گزاری آبا واجداد کی یادیں سب کچھ چھوڑ کرکہیں اور جا بسیں گے۔جہاں ایک نئی زندگی کا آغاز کرینگے۔یہاں پر مجھے تربیلا ڈیم سے متاثرہ ایک ضعیف العمر شخص کے آنسو بھی یاد آنے لگے۔اپنے قارئین سے شئیر ضرور کرونگا ۔رواں سال غازی ہیملیٹ میں تربیلاڈیم سے متاثرہ ایک ستر اسی سالہ بارلیش بزرگ سے ملاقات ہوئی سوال کیا کہ ڈیم بننے سے آپکی زندگی میں کیا تبدیلی آئی اور کیا مشکلات پیش آئیں۔تو اس بزرگ نے کہا کہ انہوں نے ملک کی تعمیر و ترقی اور استحکام کی خاطر قربانی دی ہے جس پر انہیں فخر ہے۔ہمیں کچھ نہ بھی ملا تو ہم خوش ہیں۔کیونکہ ہماری وجہ سے ہمارا ملک روشن ہو رہا ہے۔ہمارے کسی بھائی کے گھر میں اجالا تو ہو رہا ہے اور کسی کسان بھائی کی زمین سیراب ہو رہی ہے۔جب مشکلات کا ذکر کرنے لگے توانکے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔انکا کہنا تھا کہ وہ اپنے آبا و اجداد کی بنائی ہوئی بستی میں اپنی روایات اور یادوں سے بھری پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں تھی گھر کے ساتھ کھیتوں میں سبزیاں اور پھل اگتے تھے۔سال بھر انکا گزر بسر آرام سے ہوتا تھا۔رشتہ دار دوست احباب ساتھ ہوا کرتے تھے۔ایکدوسروں کی غم خوشی میں آجا سکتے تھے۔ڈیم کی وجہ سے ساری یادیں سارے یار دوست رشتہ دار بچھڑ گئے۔آباء و اجداد کی قبروں پر فاتحہ خوانی سے بھی محروم ہوگئے۔کوئی رشتہ دار سندھ میں آباد ہوا تو کوئی پنجاب، کوئی خیبر پختونخواہ تو کوئی کہیں اور ایک دوسروں کی غم خوشی میں شریک ہونے سے بھی رہ گئے ہیں۔اب رہائشی پلاٹ دئے گئے ہیں اس میں مشکل سے سر چھپانے کے لئے مکان بنایا ہے۔ہر چیزبازار خرید کر کھانے پر مجبور ہیں۔ڈیم کو بنے کئی سال بیت گئے ہیں مگر ہماری حالت تاحال سنبھل نہیں سکی ہے۔با با جی کا اتنا کہنا تھا کہ آواز مزید بھاری ہوگئی اور ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ کسی کو بھی اپنی جھونپڑی سے بھی مہاجر نہ کر دے۔جس کے بعد با با جی مسلسل روتے رہے اور ہچکیاں لیتے رہے۔قارئین کرام یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ تربیلا ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ افراد کو حکومت کی جانب سے غازی ہیملیٹ اور ٹوپی ہیملیٹ دو نئی بستیاں بنا کردوبارہ آباد کر دیا گیا ہے۔مگر اکثر متاثرین ملک کے دوسرے شہروں میں آباد ہوئے ہیں۔

دیامر کے متاثرین کو بھی اپنی سنہری یادوں ،تاریخ اور روایت قربان کرنے کی مشکل گھڑی آن پہنچی ہے۔اور بچپن لڑکپن جوانی بڑھاپا آبا ء واجداد کی ہاتھوں کی بنی عمارتیں ان کے انمٹ نقو ش یادیں یار دوست ہمسایہ رشتہ دار الغرض ہر چیز ان سے چھن جانے والی ہے۔کوئی بھی شخص اپنی جھونپڑی کو بھی خوشی سے نہیں چھوڑ سکتا۔ اتنا بڑا فیصلہ کبھی نہ بھولنے والا کوئی صدمے سے ہر گز کم نہیں ہے۔اس صورتحال اور تکلیف دہ کیفیت کو وہ شخص بہتر سمجھ سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزرا ہو۔

گزشتہ دنوں اخبارات میں ایک شہ سرخی نظر سے گزری جس میں نو منتخب پیپلز پارٹی کے صدر امجد حسین کے نام سے منسوب ایک بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دیامر میں متاثرین ڈیم کو حد سے زیادہ معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل بھی وزیر اعظم پاکستان نوزشریف صاحب نے بھی سابقہ دور حکومت میں متاثرین سے مقرر کئے گئے اراضی کی قیمتوں پر نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کی تھی۔اور کہا تھا کہ ڈیم متاثرین کو زمین کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ کیوں دی جا رہی ہے۔مجھے ان بیانات اور اقدامات پر سخت افسوس اورحیرت ہوئی۔متاثرین کو کہاں فی کنال کے کروڑوں روپے دئے جا رہے ہیں۔اس وقت دیامرکے ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس میں اراضی کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کر دی گئی ہے۔جس میں مضروعہ زمین کی قیمت فی کنال تیرہ لاکھ پچھہتر ہزار غیر مضروعہ زمین کی قیمت پانچ لاکھ، بنجر اراضی فی کنال تین لاکھ بارہ ہزار پانچ سو روپے کمرشل ایریا ز کی قیمت دی جا رہی ہےجبکہ تھور ہڈر گوہر آباد،کھنبری اور دیگر علاقوں میں مضروعہ اراضی کی قیمت بمشکل آٹھ لاکھ اور اس سے بھی کم دی گئی ہے۔جبکہ ان علاقوں میں انڈر چینل اراضی فی کنال ایک لاکھ روپے دی گئی ہے۔دیامر میں اس وقت بنجر،سنگلاخ اراضی کی قیمت چالیس سے پچاس لاکھ روپے فی کنال ہے ۔جہاں پر نہ پانی ہے اور نہ کوئی اور سہولت۔ملک کے دوسرے شہروں میں بھی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہیں۔ مکانات کے معاوضے بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ ایک پختہ کمرے کی قیمت دو سے چار لاکھ بمشکل دئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک مکان کی تعمیر پر لاگت دوگنی آتی ہے۔ ایک عام متاثرہ شخص جس کے پاس تین کمروں کا مکان تھا اب معاوضے کی ملنے والی رقم سے وہ ایک کمرہ بھی دوبارہ تعمیر نہیں کرواسکتا ہے۔

بلاشبہ دیامر کے عوام کی ملک کی تعمیر و ترقی اور استحکام کی خاطر دی جانے والی اس عظیم قربانی کو تاریخ میں سنہرے الفاظ سے ضرور لکھا جائے گا۔متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان کی داد رسی کی ضرورت ہے۔انہیں سہارا دیا جائے نہ کہ انکی دل آزاری کی جائے۔حکومت بھی متاثرین سے کئے گئے وعدے نبھائے اور فوری طور پر متاثرین کو دوبارہ آبادکاری اور ری سٹیلمنٹ کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔واپڈا معاہدے کے تحت متاثرین کو جلد از جلد ماڈل ویلیجز میں پلاٹس فراہم کرے تاکہ متاثرین معاوضے کی رقم سے اپنے لئے سر چھپانے چھت بنا سکیں۔دیامر بھاشہ ڈیم کی زد میں آنے والے عظیم ثقافتی ورثے کو حسب وعدہ میوزیم بنا کر وہاں محفوظ کر لے تاکہ ہماری عظیم ثقافت اور روایات محفوظ ہو سکیں آنے والی نسلیں اس عظیم ورثے سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔