ادب پارے: حاجی سرمیکی بیادِ غالب

ادب پارے: حاجی سرمیکی بیادِ غالب

32 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

haji baqir (2)اردو شاعری کے امام اسداللہ خان غالب کی سالگرہ ادبستان بلتستان میں کچھ اس بے کیفی اور خاموشی سے گزرگئی نہ تو کہیں کوئی مشاعرہ تھا اور نہ کوئی قابل ذکر تقریب ۔ یوں تو سرکارِ بے سروکار اردو کو قومی زبان گردانتی اردو پر بڑا احسان جتاتی ہے مگر اردو زبان کے اس محسن اعظم کی سالگرہ پر طوطا چشمی کا مظاہرہ کرنا ان کی اپنی بدذوقی اور کم فہمی کی علامت ہے۔ غالب کو گویازندہ و پائندہ رکھنے کے لئے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ۔ ہر ادب شناس اور باذوق فرد کے گمان پر ان کے بے مثل فن ریختہ گوئی انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔غالب کو اردو کے نامور شعراء گنج معانی سے مستعار کرتے ہیں البتہ خود غالب اپنے پیشرو میرتقی میر کو داد دیتے ہیں ۔ غالب کو کوئی کیسے بھولے ، حضرت خود اپنے فن کے بارے میں گویا ہیں کہ نظم و نثر ایزد دانا و توانا کی عنایت سے خوب ہوچکا اگر اس نے چاہا تو قیامت تک میرا نام و نشان باقی رہے گا۔ اپنے ہم عصر ین ہو یا متاخرین اردو ادب کے سالکان غالب کے طرز و اسلوب کے معترف اور مقلد رہے ہیں ۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے بقول غالب ہندوستان کے سب سے عظیم شاعر تھے۔ علامہ اقبال بھی ان کی لطف گویائی کو اپنے لئے خارج ازامکان قراردیتے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالرحمان بجنوری صاحب یہاں تک کہہ گئے کہ ہندوستان کی دو الہامی کتابیں ہیں ایک مقدس وید اور ایک دیوانِ غالب۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دیوان غالب سے زیادہ نہ کوئی دیوان پڑھا گیا اور نہ کسی دیوان کی اتنی چھپائی ہوئی۔ غالب ۱۷ دسمبر ۱۷۹۷ء میں تاج محل کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ۷۲ سال کی عمر پائی ۔حالیہ تاریخ پیدائش ان کی ۲۱۸ ویں یوم ولادت تھی ۔ غالب کی زندگی کسی بھی طور ایک عام آدمی سے مختلف نہیں تھی ۔ انہوں نے نہایت سادہ مگر بھرپور زندگی گزاری۔ کچی عمر میں ازواجی رشتے میں بندھ گئے ۔ ۱۳ سال کی کم سنی میں بیرون آگرہ مقیم نواب الٰہی بخش کے گھر کا داماد بنا۔ وہ لوگ دہلی میں مقیم تھے ۔ اس بندھن میں بندھنے کے بعد غالب کا آگرہ آنا جانا متروک ہوا اور یوں وہیں اردوِ معلی دہلی کے مکین ہوئے۔ آگرہ میں ان کے نانا کی بڑی جاگیر تھی اس کے علاوہ متعدد دیہات میں ان کی بڑی املاک تھی جہاں ان کے ملازمین متعین تھے۔ کمسنی کی شادی بھی عہد شباب میں غالب کی خوبروئی پر گزند نہ ڈال سکی اور عینی شاہدین کے مطابق وہ دہلی کے خوبرو لوگوں میں شمار تھے۔ غالب کی زندگی سادہ مزاجی کے تجربات اور ان کے تلخ نتائج سے لبریز تھی جو ان کے فن کو نکھارنے میں اوربیان میں حقیقت پسندی کا رنگ بکھیرنے میں مددگار رہی۔ انہوں نے سادہ ترین زندگی اور اس کے تلخ ترین لمحات کو بڑی دیدہ دلیری اور جراء ت کے ساتھ گزرا ۔ ان کی شاعری میں وہ برملا پن ہے جو خمارِرسوم و قیود سے بالکل بھی سرگشتہ و پابند نہیں تھے۔ ان کے ہاں ایک طرف تصوفانہ بے کسی ، مفلسی ، بے ثباتی دنیا کے رنگ نظر آتے ہیں تو دوسری طرف عزت نفس اور خودشناسی کی بے ساختگی اور تکریم دکھائی دیتی ہے۔ غالب ظاہری وضع داری کے نہ صرف اپنی شاعری کے اندر منکر نظرآتے ہیں بلکہ ان کی نجی زندگی میں بھی ایسے ہی خیالات کے مالک نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے دہلی کی پچاس سالہ قیام میں کبھی اپنا کوئی گھر نہیں بنایا اور نہ ہی خریدا۔ بلکہ عیوبِ برہنگی کو جب تک کفن نے ڈھانپ نہ لیاوہ کرائیے کے مکانات میں مقیم رہے ۔ ان کے ہاں یکے بعد دیگرے پانچ بچوں نے جنم لیا لیکن کسی کی زندگی بھی باپ کے دل میں خوشی کے گل نہیں کھلا سکی اور یک بہ یک یوں کوچ کرتے رہے کہ سوز نہاں ہمیشہ ہرا کا ہرا رکھا۔غالب اپنی زندگی میں بھی اسی قدر مشقت پسند تھے کہ شورِ پند ناصح سے ان کو نمک پاشی برجراحتِ جان معلوم ہوتا تھا۔ان کی شاعری میں نہ سلجھنے والی بحث آفرین استعارات کی گتھیاں ان کے خود گزارے لمحات اور ان لمحوں میں خود سے ہوئے کشمکش کا بیان معلوم ہوتا ہے۔

غالب کی استادی صرف اس میں نہیں کہ انہوں نے الفاظ و استعارات یا معانی ومطالب سے اپنی شاعری میں رنگ بکھیرے ہیں بلکہ ان کی شاعری میں وہ درویشانہ سادگی اور عالمانہ بیان و گفتار ہے کہ قاری کو فکر فردا اور تدبر آمیز میلانات کی طرف خود بخود راغب کردیتا ہے۔ ان کی بطور انسان ایک صفت صاف گوئی بھی ہے وہ اکثر شعراء کے بر خلاف صرف اپنے خیالات کی دنیا میں مگن رہنے والا نہیں تھا بلکہ خود کو اوروں کی نظر سے بھی دیکھتے پرکھتے تھے۔ ان کے اپنے بقول اپنے اشعار میں فلسفہ اور مسائل کے بیان میں کمال درجہ مہارت پر ولی ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں اور اپنی بادہ خوری کے راز سے پردہ چاک کرتے ہیں ۔مرزا اپنی انا اور تکریم کے اس قدر پاسدار تھے کہ کبھی کسی کے ہاں نوکری نہیں کی۔ ایک بار مسٹر ٹامس سکریٹری ہند دہلی کالج میں مدرسین کی تعیناتی کے معاملے میں وارد ہوئے۔ ان دنوں میں کالج میں ماہوار ۱۰۰ روپے پگھار پر عربی زبان کے استاد متعین تھے تو انہوں نے فارسی زبان کے بھی ایک استاد کی تعیناتی کا سوچا ۔ اس حوالے سے گفت وشنید میں مرزا، مومن خان اور مولوی امام بخش کا نام تجویز کیا ۔ سکریٹری صاحب نے پہلے پہل مرزا کو بلوایا تو صاحب پالکی نشین ڈیرے پر تشریف آور ہوئے۔ سکریٹری کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے اندر بلایا تاہم مرزا صاحب پالکی سے اتر کر اس انتظار میں کھڑے رہے کہ حسب دستور میزبان انہیں لینے آئیں گے۔ کافی دیر بعد سکریٹری صاحب خود باہر آئے اور کہا کہ آپ دربار گورنری میں تشریف لائیں گے تو آپ کا اسی طرح استقبال کیا جائے گا مگر اس وقت آپ نوکری کے لئے آئے ہیں ، اس موقع پر یہ برتاؤ ممکن نہیں ہو سکتا۔ مرزا گویا ہوئے کہ یہاں نوکری کے لئے اس لئے آئے تھے کہ اعزاز کچھ زیادہ ہو نہ کہ اس لئے کہ اعزاز موجودہ میں بھی فرق آئے۔ صاحب نے کہا کہ ہم قائدے سے مجبور ہیں تو غالب نے کہا کہ مجھے اس خدمت سے معاف رکھا جائے، یہ کہہ کر لوٹ گئے۔

ایسے شعراء روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ کچھ صاحبانِ روزگار شناس ایسے بھی ہیں جو شعر وشاعری کو خلوت یا فرقت کا کام سمجھتے ہیں یا پھر اس میں موسیقی کے سروتال کی آمیزش سے تفریح طبع کا سامان کرلیتا ہے ۔ تاہم شاعری نے دورِ آمریت ، بادشاہت اور فرعونیت کے سایوں میں وہ لافانی گونج پیدا کی ہے کہ استعارات ، تلمیحات اور محاورات کے ذریعے پیغامات اور حالات و واقعات کو نسل نو تک پہنچانے کا ایک محفوظ راستہ فراہم کیا ہے ۔ شعروادب صرف زبان و ثقافت کی بقا کی حد تک اہم نہیں بلکہ شاعری وہ مضبوط میڈیئم ہے جو رائے عامہ کی ترویج میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ شعر وادب کا ذوق فی زمانہ جس طرح زوال پذیر ہے اس حوالے سے ملکی سطح پر تعلیمی اداروں، ادب و ثقافتی ترویج کے لئے قائم اداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی عدم توجہی کارفرما نظر آتی ہے ۔ اچھے شاعر کا پیدا نہ ہونا اتنا بڑا المیہ نہیں بلکہ اس ضمن میں طبع آزما لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہونا اور اس حوالے سے مواقع کا فراہم نہ ہونا زیادہ تشویش ناک امر ہے ۔ وطن عزیز پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت بلتستان میں موجود ادبی تنظیمیں اور فورمز زیادہ سرگرم نظر آتی ہے ۔ اس حوالے سے حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ چند شعراء کو از خود جو مواقع ملتے ہیں وہاں وہ اپنے فن کو اجاگر کرنے میں اپنے تئیں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور اس شعبے میں نوواردوں کی رہنمائی اور پذیرائی بھی کرتے ہیں ۔ البتہ چند ایک تنظیموں کے آپس میں ذاتی عناد اور بغض وکینے کی بو بھی آتی ہے جو نہ ادب شناسی کی عکاسی کرتا ہے اور نہ آنے والی نسلوں کو راہ سنوارنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ غالب جیسے بڑے شاعر کا فن اور ان کی زندگی اسی نظریے کی عکاسی کرتی ہے کہ فن اور فنکار فرقے، سیاست اور رنگ و نسل کی سرحدوں سے بالا ومبریٰ ہوتے ہیں ۔ شاعر کی زندگی اور ان کا بیان باہم ہم آہنگ ہو تو اس کا فن اس کو بعد ازوفات بھی فنا ہونے نہیں دیتا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author