عوامی ایکشن کمیٹی ہی گلگت بلتستان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے، استور کے اہم رہنماوں نے شمولیت کا اعلان کردیا

عوامی ایکشن کمیٹی ہی گلگت بلتستان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے، استور کے اہم رہنماوں نے شمولیت کا اعلان کردیا

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور (بیورو رپورٹ)عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان ہی مسائل کو حل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔گزاشتہ ایک سال سے میں ایسے پلیٹ کی تلاش کررہا تھاانشاللہ اس پلیٹ فارم کے زریعے گلگت بلتستان سمیت استور کی بہتر نمائندگی کروں گا۔ قوم پرست تنظیم کے چیرمین و سابق امیدور گلگت بلتستان اسمبلی ڈاکٹر غلام عباس،پاکستان پیپلز پارٹی کے سنیر رہنما شمس الدین،ال پاکستان مسلم لیگ گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات ارشاد ملک نے اپنی پریس کانفرنس میں عوامی ایکشن کمیٹی میں باقاعدہ شمولیات کا اعلان کیا۔ پریس کانفرنس کے موقعے پر عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنما،کنوئینر عوامی ایکشن کمیٹی استور امیر جماعت اسلامی گلگت بلتستان مولانا عبدالسمیع، سابق رکن گلگت بلتستان، ڈپٹی کنویئنر عوامی ایکشن کمیٹی استور مظفر ریلے،ترجمان عوامی ایکشن کمیٹی استور عبدلحلیم مصطفوی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم عبداللہ خان،عبدلقیوم،بھی موجودتھے۔

اس موقعے پر چیرمین قراقرم نیشنل مومنٹ ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کی میں گازشتہ تیس سالوں سے گلگت بلتستان کے حقوق کی جھنگ لڑ رہا ہوں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس چلا رہا ہوں ۔ گلگت بلتستان کا خطہ یہاں کے باسیوں نے خود آزاد کیا ہے ہم آج اس خطے کی عوام کو تقسیم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہے گلگت بلتستان کی ایک اپنی پہچان ہے اس خطے کی پہچان کو وفاقی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ختم کررہے ہیں ۔جبکہ آزاد کشمیر اور جموں کشمیر کی اپنی پہچان بن سکتی ہے ۔ ان کو الگ سیٹ اپ دیا جارہا ہے تو گلگت بلتستان کو کیوں نہیں گلگت بلتستان میں لیڈر شپ کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہمارے فیصلے وفاق میں بیھٹے وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کررہی ہے کیا وہ وزیر اعظم ہمارے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں نہیں تو پھر اس وزیر اعظم کو ہماری رایئے کا احترام کرنا چاہے اور گلگت بلتستان کی عوام کی خوائیش کے مطابق یہاں پر بھی کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینا چاہئے۔13اپریل 1949کو کراچی معائدے کے تحت گلگت بلتستان کو ایک ایگرمنٹ کرکے دیا گیا ہے وہ ایگرمنٹ آج بھی ختم ہوسکتا ہے کیا اس وقت گلگت بلتستان کا کوئی لیڈر نہیں تھا 13اگست 1948کو یونٹیڈ نیشن باقاعدہ آڈرز جاری کئے تھے جس کے مطابق چھ ماہ کے اند لوکل اتھارٹی قایم کرنا تھا انڈیا پاکستان نے اس معائدے پر باقاعدہ دستخط کیا ہے جس کے بعد مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں سیٹ اپ دیا گیا لیکن گلگت بلتستان کو لوکل اتھارٹی کی جگہ FCRکا قانوں ملا جو مجرموں کے لیے بنایا گیا تھا ۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یہ خطے کے ان شہدوں نے قربانیاں اس لیے نہیں دی تھی کی یہاں کے لوگوں پر زبردستی فیصلے تھوپیں جائیں،پریس کانفرنس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شمس الدین نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی استور تمام پارٹیوں کے کھول سے نکل کر عوامی مفادت کے لیے کام کررہے ہیں اسلیے ہم عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل ہونیکا فیصلہ کیا ہے۔ہم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہروقت کھڑے ہیں اور اپنا سب کچھ عوام کی خدمت میں صرف کرینگے۔

اے پی ایم ایل گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات ارشاد ملک نے کہا عوامی ایکش کمیٹی ہی اصل میں عوام کی آواز ہے اس لیے ہم نے اس میں شمولیات کا اعلان کیا ہے۔پریس کانفرنس سے سابق رکن رکن اسمبلی مظفر ریلے،عبد الحیلم مصطفوی، عبداللہ خان ، عبدلقیوم نے بھی خطاب کیا۔ عوامی یکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے سنیر رہنما وامیر جماعت اسلامی مولانا عبدالسمیع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی و سماجی رہنما اور قرقرم نیشنل مومنٹ کے چیرمین اور دیگر شامل ہونے والے تمام رہنماوں کا تہ دل سے شکر یہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کی عوامی ایکشن کمیٹی ان کی موجودگی میں مزید بہتر اور فعال ہوگی ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔