بلتی ثقافت کی پہچان ریڈیو سکردو

بلتی ثقافت کی پہچان ریڈیو سکردو

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر زاہد ستروغی یتو

چودہ اگست 1948 کی صبح جب ڈوگروں کی غلامی سے میر ا بلتستان آزا د ہوا ہمیں ایک نئی صبح نئی زندگی کے ساتھ خوبصورت بلتی یول کا نام ملا تب سے ابھی تک ہم اس میں رہ ر ہے ہیں ۔ اُ س زمانے کی بات کریں تو لوک بہت محنتی اور غیرت من تھے مگر غریبی کی وجہ سے ایک وقت کا دوٹی بھی بہت مشکل سے ملتا تھاپھر بھی دل بلتیوں کیلئے دھڑکتا تھا۔ کسی سے بھیگ نہیں مانگتے تھے جو ملتے سب مل کر کھاتے گر وہ جزبہ وہ محبت آج ہو تا بلتی یول بلتی ثقافت کو دنیا میں ایک نام ملتا مگر آج بلتی ثقافت کو پہچانے والا کوئی نہیں۔ پرانے زمانے کی مثالیں پرانے زمانے کی باتیں آج ہم بلتی لوک گیت کی شکل میں سنتے دل خون کے آنسو روتا ہے لوک گیت وہ داستان ہے جو تاریخ کو سمجھنا دکھ بھری باتوں کو پہچانا بلتستان کے ہر وادی کے لوگوں کی دکھ بھری کہانی جو لوک گیت کی شکل میں ہمیں ملتا ہے اس کوسمجھنے والاآب کوئی نہیں ۔

ایک زمانہ تھا جب ہم چھوٹے تھے ریڈیو پاکستان سکردو سے بلتی قدیم گیت نشر کرتے تو لوک روتے تھے مگر ھم سمجتے تھے یہ لوگ پاگل ہیں جو ایک گانا سن کر روتے ہیں۔ مگر اج پتہ چلا یہ وہ داستان تھے جو دل کے اندر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جب میری عمر 20 سال تھی ا اس وقت ہر روز ریڈیو سکردو سے اپو وتھول کے پروگرم سکرچن سنتے تھے ۔اپو وتھول کی خوبصورت کہانیاں اور عباس سودے صاحب کی خوبصورت باتیں آج بھی نہیں بھول سکے ہیں۔ اس وقت جب ریڈیو پر گیت آئے تو ہم ماضی کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔ آج میں بھی اچھی طرح بلتی لوک گیت گا سکتا ہوں۔ جب پہلی بار خپلو کونسل ہال میں مجھے بلتی لوگ گیت ستروغی یتو گانے کا موقع ملا اسی دن سے ستروغی یتو بن گیاہوں۔ اس کے بعد سمندر پار چلا آیا۔ یہاں آکر تنہائی نے اور بھی لوگ گیت سیکھنے کو ملا ۔اس کے بعد واٹس ایپ پر سکرچن کے نام سے ایک گروپ کھولا جس میں بلتستان لداخ کرگل تورتوک سے بھی لوک اکٹھے کئے۔ زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ 45 سال سے بچھڑے ہوئے بھایؤں سے ملے گا۔ مگر اس سکرچن گروپ کی وجہ سے بہت سارے بچھڑے خاندان کو ایک کیا اس کے بعد ہم نے سوچا بلتی ثقافت کو پردیس میں بھی کوئی پہچانے کوئی یاد کرے میرے ایک دوست رامش شگری کو کہہ کر ریڈیو سکردو کے لیئے ایک ایپس بنایا آج ہم الحمداللہ ہر روز ریڈیو سکردو سن سکتے ہیں۔

عباس کھرگرونگ صاحب کے پروگرم ہلچنگرہ آر جے زہرا بتول صاحبہ کا پروگرم سکرچن سن کر پردیس کودیس سمجھ کر حوصلے سے رہ لیتا ہوں۔ زہرا بتول واقعی میں بلتی زبان و ادب کی خدمت کر رہی ہیں ۔وہ جس انداز سے خالص بلتی بولتی ہیں اور بلتی واقعات کو پیش کرتی ہیں بالخصوص بلتی فنکاروں کو مائک پہ لاتی ہیں ہم پر دیسی لوگوں اپنی زبان و ثقافت و ادب سے واقفت کا موقعہ میسر آتا ہے ۔ اس پروگرم کی وجہ سے ہمیں پردیس میں سکون ملتا ہے ۔ آج گلگت بلتستان کی ثقافت گلگت بلتستان کے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کرنا چائیے ۔ ہم اپنی مادری زبان بولنے والوں سے نفرت کرتے ہیں کہ یہ جاہل بلتی ہیں۔ انگریز کی زبان کو استعمال کرنے والوں کو بہت عزت ہے احترام ہے۔ ارے جاہل تو وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بڑا قابل مفکر دانشور شاعر انگریزی اخبار کا کالم نگار سمجھتے ہیں ۔ مجھے محبت کی حسین دامن میں بسنے والوں سے پیار ہے۔ میں پریوں کے دیس میں بسنے والے بزرگوں کی فیس دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہوں ۔آج کل بلتی ثقافت بلتی کلچر کو چھوڑ کر نوجوان نسل امریکی کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ موبائل فون میں دیکھے تو ہر کسی کے پاس انڈین میوزک انگلش میوزک ہر طرف امریکن کلچر کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ بلتی قار سے نفرت بلتی بلگوس سے نفرت بلتی زبان سے نفرت بلتی زان کھوربا، تل کورفڑینی چھو سے نفرت ہر کوئی بلگوس کی جگہ پر انگلش پینٹ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں،خوبانی کے جوس کے بجائے پیپسی سیون آب مرنڈا پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

افسوس ہائے جس گھر میں زان پکائیں تو غربت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ژبکھور کھاتے تو کہتے ہیں یہ بلتی لوگ پرانے زمانے کا دماغ رکھتے ہیں۔ ابھی تک چینج نہیں ہو۔ پہلے زمانے میں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں تھی۔ بدن پر ہزاروں پیون لگا کر کپڑے پہنتے تھے ۔جوتے کا نام ہی نہیں معلوم تھا پر بھی خوش رہتے تھے ۔آپس میں محبت امن اتفاق اتحاد تھا۔ آج کل کے دور میں بیس جوڑا کپڑا دس جوڑے بوٹ ہر ٹائم پر مختلف قسم کے کھانے پر بھی خوش نہیں محبت نہیں۔ امن نہیں سکون نہیں چین سے سو نہیں سکتے ہر گھر میں بیماری مرچ تیل ہر طاقتی چیزوں سے پرہیز یہ سب کچھ بلتی ثقافت بلتی رہن سہن بلتی کلچر بلتی دیسی کھانا چھوڑنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ آج کل آپ اپنے محلے میں دیکھو تو تین یا چار بزرگ نظر آتے ہیں ۔پہلے زمانے میں محلے کے مسجد میں تین لائن عمر رسیدہ بزرگوں کی ہوتی تھیں۔ آج کل مسجد کی چاروں طرف نگاہ کریں تو تین چار بزرگ نظر آتے ہیں کیوں کس وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے آپ خود سمجھ جائیں گے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔