دیہات میں اب تعلیم  کی مخالفت شد و مد سے کیوں نہیں کی جاتی ہے؟

دیہات میں اب تعلیم کی مخالفت شد و مد سے کیوں نہیں کی جاتی ہے؟

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

فرحت قاضی

عام طور پر خیال کیاجاتا ہے کہ جاگیردار تعلیم کا مخالف ہوتا ہے۔ گوکہ یہ سچ ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جاگیردار فقط اس تعلیم سے بیر رکھتا ہے جس سے اس کے مفادات پر ضرب پڑتی ہو۔ قبائلی اور جاگیردارانہ نظام اور بادشاہت کے ادوار میں کتب اور کتب خانے بھی ہوتے تھے۔ حکیم حکمت کی کتب کا مطالعہ کرتا تھا، ایک مکتبہ فکر علم نجوم سے دل چسپی رکھتا تھ، تاریخ اور ادب کے کئی نایاب شہ پارے ان ہی ادوار میں تخلیق کئے گئے۔ موسیقی کا ایک بڑا خزانہ ان ہی ادوار کا کارنامہ ہے یہ ایسے کام ہیں جن کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہاں ہمارا موضوع جدید سرمایہ دارانہ علوم اور تعلیمات ہیں۔

برطانوی دورحکومت میں نوآبادیاتی تقاضوں اور سرمایہ دارانہ جبر کے تحت متحدہ ہند میں جدید تعلیمی اداروں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تو ہمارے ادھر پس ماندہ دیہات میں ان کو شکوک و شبہات کی نگاہوں سے دیکھا گیا چنانچہ اسی لئے یہاں سکول کھولنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی کیونکہ ان کو مروجہ روایات،ثقافت اور سماجی قدروں کے خلاف مشہور کردیا گیا تھا۔

یہ مخالفت عرصہ دراز تک زور و شور سے جاری رہی مگر اب ہمیں شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور پس ماندہ دیہات میں بھی تعلیمی ادارے نظر آتے ہیں اگر کہیں مخالفت ہوتی بھی ہے تو اس میں وہ شدت اور حدت نہیں پائی جاتی ہے۔

ایک دیہہ چند مکانوں اور نفوس پر مشتمل نہیں رہا جن خاندانون کے پاس محدود زمین ہوتی تھی اور اس پر وہ کھیتی باڑی کرتے تھے باپ کی فوتگی سے وہ بیٹوں اور پھر اس طرح نواسوں میں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرنے پر ایک ٹکڑا زمین سے اب خاندان بھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتی ہیں اسی لئے وہاں سے قریبی اور دور کے شہروں کی جانب منتقلی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

علاوہ ازیں دیہہ میں کھیت مزدور ایک جاگیردار کی ضرورت سے بڑھ گئے ہیں جن کے روٹی، کپڑے اور رہائش کی ضروریات کو پورا کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔

غریب غرباء کو روزگار اور معاش کے ایک سے زائد وسائل ہاتھ لگ گئے ہیں جبکہ سرکاری اور نجی ملازمتوں میں ان کی دل چسپی بڑھنے لگی۔ دیہی باشندوں کے معاش اور دیگر ضروریات کے لئے شہروں کا رخ کرنے سے قدیم جاگیردارانہ رشتوں میں جان نہیں رہی ہے دیہات اور گاؤں میں خان خوانین بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ غریبوں نے جاگیرداروں کے معاشی بندھن سے آزاد ہونے پر نسبتاًآزاد فضاؤں میں سانس لینا شروع کردیا ہے کئی محنت کشوں نے یہ رشتے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توڑ دیئے ہیں اور شہری زندگی اختیار کرلی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات میں اضافہ ہوا اور یہ ضروریات جو دیہہ پوری نہیں کرسکتا ہے وہاں کے باسی ان کی تکمیل کے لئے باہر نکل آئے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں ہر حکومت نے زراعت اوران آبادیوں کو نظر انداز کیا چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ آبادی بڑھ گئی ہے اور وہاں پر طبی اور تعلیمی سہولیات مفقود ہیں۔

دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائیوں نے دیہات خصوصاً قبائلی علاقہ جات کی بعض بڑی بڑی آبادیوں کو آئی ڈی پیز بنادیا اور یہ آپریشن جہاں طول پکڑ گئے اس عرصہ میں ان علاقوں کے عوام بندوبستی علاقوں خصوصاً شہروں میں جذب ہوگئے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ جب تک ان علاقوں میں یورینیم، سونے اور قیمتی پتھر کے ذخائر موجود ہیں کاروائیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ان حالات نے نوجوانوں میں شعوری اور غیر شعوری طور پر تبدیلیاں پیدا کردی ہیں یہ اب اپنے آباو اجداد کی مانند نہیں سوچتے ہیں۔چنانچہ اگر باپ اور دادا قدیم قبائلی اور جاگیردارانہ روایات،رواجات،رسومات اور سماجی قدروں کے پابند ہیں تو بیٹااور نواسہ ان کے حوالے سے سخت گیر نہیں ہیں چنانچہ قدیم بند قبائلی معاشرہ اب مزید بند نہیں رہے گا اس حقیقت کا اندازہ انگریز کے نوآبادیاتی قوانین کے خلاف مسلسل جدوجہد سے کیا جاسکتا ہے۔

لولی لنگڑی اور کرپٹ سہی مگر جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ اور خصوصاً میڈیا نے عوام کو سوچنے اور سمجھنے کے نئے زاویے دئیے ہیں۔

جن دیہات میں جدید تعلیم کو انگریزی کہ کر عوام کو اس سے دور رکھا جاتا تھا وہاں گرلز سکول بھی قائم ہوچکے ہیں چنانچہ خواتین کے حوالے سے کٹر نوعیت کے تصورات میں بھی لچک آچکی ہے اور خواتین کے جمہوری حقوق کے چرچے بھی ہورہے ہیں۔

دیہات میں تعلیم کی مخالفت میں شدت نہ رہنے کی ایک بڑی اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ انگریز راج اور اس کے کچھ عرصہ تک جو نصاب تیار کیا جاتا تھا اس کا بنیادی مقصد و منتہا انگریز کا اثر و رسوخ اور سرمایہ دارانہ تصورات کا نفوذ اور اس طبقہ کے آگے بڑھنے کے لئے راستہ بنانا تھا بلاشبہ انگریز دور حکومت میں نصاب تعلیم ان کے مفادات اور خواہشات کا آئینہ دار تھا اس کے پس پردہ نوآبادیاتی مقاصد بھی کارفرما تھے تاہم اس سے عام دیہی اور شہری کے شعور میں بھی اضافہ ہوا۔

جدید تعلیم کے حصول سے نوجوان کا رشتہ مغرب اور یورپ خصوصاً امریکہ اور برطانیہ سے جڑ گیا اور وہ اب وہاں پر نئی ایجادات، اختراعات اور تصورات سے متاثر ہوتا ہے چنانچہ ایک پس ماندہ دیہہ اور شہر میں ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آباو اجداد سے مختلف نظر آتا ہے۔

پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی اقتدار کے حصول کے لئے کھینچا تانی کا آغاز ہوگیا تھا جس سے ملک کی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہوا اس کا زیادہ تر فائدہ جاگیردار طبقہ کو پہنچا کیونکہ اس عرصہ میں سرمایہ دار طبقہ کو ابھرنے اور قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کا موقع نہیں مل سکا جبکہ جدید علوم در حقیقت جدید سرمایہ دار طبقہ کی ضرورت ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے دیگر شعبہ جات اور اداروں کی مانند تعلیم کا شعبہ بھی جاگیرداروں کے زیر تصرف آگیا اور ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جانے لگا جس سے دیہی اور شہری باشندوں کے سیاسی اور سماجی شعور میں بڑھاوے کے کم ہی امکانات موجود رہتے ہیں۔

نصاب تعلیم سے اس سچائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

چنانچہ ان میں پیشوں اور پیشہ وروں سے کراہیت ملتی ہے ہمسایہ ممالک کے خلاف شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ ملک کے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا ذمہ دار ان ممالک اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کو ٹھہرایا جاتا ہے قدیم روایات،رواجات،رسومات اور سماجی قدروں کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاتا ہے ماضی کو حال پر ترجیح دیتے ہوئے پدرم سلطان بود کا پرچار کیا جاتا ہے حقائق سے چشم پوشی عام ہے تنقید اور منطقی سوچ و فکر سے طلبہ کو دور دور رکھا جاتا ہے کاروباری سوچ پیدا نہیں ہونے دی جاتی ہے ایک توہم پرست اور جذباتی ماحول برقرار رکھنے کی سعی وکاوش کی جاتی ہے چنانچہ جاگیردار طبقہ جس نوعیت کا ماحول اور تعلیمات چاہتا ہے اس کا اہتمام کیا گیا ہے اسی لئے اب دیہات میں تعلیم کی مخالفت پہلی جیسی شد و مد سے نہیں ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ معاشی،سماجی اور سیاسی حالات کا جبر،ضروریات اور ہمسایہ ممالک چین، بھارت اور افغانستان میں رواں ترقیاتی منصوبے ملک کے نوجوانوں کو اپنے حالات کا ناقدانہ جائزہ لینے پر مجبور کررہے ہیں۔

ان کو یہ احساس بھی دلاتے رہتے ہیں کہ جس طرح بالادست طبقہ سب اچھا کی رٹ لگاتا ہے یہ حقیقت نہیں ہے کہیں پر خامی اور کمی ضرور موجود ہے جس کی بدولت ہم دنیا تو چھوڑ ہمسایہ ممالک سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ گو کہ ایسے نوجوانوں اور لکھاریوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے تاہم وقت گزرنے پر ان میں اضافہ ہوگا اور اس کے آثار ان کی مایوسی، بے اطمینانی اور ہر ایک شے کو شکوک و شبہات کی نگاہوں سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ یہی احساسات ان کو تعلیم کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

جاگیردار طبقہ نے فرسودہ نظام کو برقرار رکھنے کے لئے خاندان، افراد خانہ اور مٹی سے محبت کے جو جذباتی حصار ایستادہ کئے ہوئے تھے وہ غربت،بے روزگاری،جدید تعلیم،بیرون ممالک کی جانب نوجوانوں کی آمد ورفت کے آگے زیادہ دیرتک نہیں ٹھہر سکتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔