مسگر ویلی میں 48 انچ ٹرافی ہمالین آئی بیکس کا شکار

مسگر ویلی میں 48 انچ ٹرافی ہمالین آئی بیکس کا شکار

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پ ر) گزشتہ روز ضلع ہنزہ کے سرحدی علاقے منتکہ مسگر ویلی میں ہمالین آئی بیکس کا پہلا ٹرافی شکار ہوا جوکہ 48″ انچ ریکارڈ کیا گیا۔ سلیم اللہ خان جن کا تعلق ہنزہ سے ہے اور اس وقت کویت میں مقیم ہیں، نے ہمالین آئی بیکس کا کامیابی سے شکار کیا۔ وخان وائلڈ لائف ٹریکس کمپنی نے مذکورہ شکار کا بندوبست کیا۔

مسگر ویلی جوکہ گلگت بلتستان کا آخری سرحدی گاؤں ہے کی سرحدیں ہمسایہ ملک چین اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ مسگر ویلی جنگلی حیات خصوصا ہمالین آئی بیکس، مارکوپولو شیپ اور برفانی چیتے کی آبادی کے لحاظ سے گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کا سب سے بڑا علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

شیرشاہ ہنزائی، جنرل سیکریٹری مسگر کنزرونسی نے پریس کو بتایا کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور غیر سرکاری تنظیم وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے تعاون سے مسگر ویلی میں پہلی بار گزشتہ سال کنزرویشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔ غلام محمد، کنزرویٹر وائلڈ لائف اینڈ پارکس اور انکے آفیسران نے نومبر 2015 کو مسگر کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے مسگر کمیونٹی کے ساتھ اس سلسلے میں میٹنگ کی اور کنزرویشن کا قیام عمل میں آیا اور مسگر ویلی بھی کمونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریا (CCHA) قرار دیا گیا۔ یوں مسگر ویلی بھی گلگت بلتستان خصوصا گوجال ہنزہ کے دیگر علاقوں کے صف میں شامل ہوگیا جہاں عرصہ دراز سے کنزرویشن قائم ہے اور عوام ٹرافی ہنٹنگ کے ثمرات سے مستفید ہورہے ہیں۔ اُمید کی جاتی ہے کہ آنے والے وقتوں میں مسگر ویلی میں مذید ٹرافی ہنٹنگ ہوجائے گی اور اس سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور قدرتی وسائل خصوصا جنگلی حیات کے بے دریغ استعمال اور غیر قانونی شکار کو روکنے میں مدد ملے گی۔

مسگر کنزروینسی کی انتظامیہ جناب غلام محمد، کنزرویٹر وائلڈ لائف اینڈ پارکس، جناب محمد یعقوب، ڈی ایف او، ڈپارٹمنٹ کا عملہ اور WCS کے جناب ڈاکٹر میور خان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جناب ریاض احمد میر اور حسین علی گائیڈز کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اور اُمید ہے کہ اس اسکیم کو کامیاب بنانے میں آئیندہ بھی ان کا تعاون حاصل ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔