بہت جلد عطا آباد جھیل پر 27 میگاواٹ پن بجلی منصوبے کا ٹینڈر ہوگا، میر غضنفر کا بوفاو تہوار کی اختتامی تقریب سے خطاب

بہت جلد عطا آباد جھیل پر 27 میگاواٹ پن بجلی منصوبے کا ٹینڈر ہوگا، میر غضنفر کا بوفاو تہوار کی اختتامی تقریب سے خطاب

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (اکرام نجمی) بجلی بحران کے خاتمے کیلئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے عطاآباد جھیل پر 27میگاواٹ پن بجلی کا پروجیکٹ دیا ہے جس پر 600کروڑ سے زائد خرچہ آئے گا۔پروجیکٹ کی فیزبلٹی رپورٹ گورننمٹ آف گلگت بلتستان کے فنڈ سے تیا ر ہوئی ہے، اور اس کا ٹینڈر بہت جلد ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے ہنزہ میں منعقد روایتی تہوار بوفوء کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر گلگت بلتستان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب اور گورنر پنجاب سے حالیہ ملاقات میں 20سے 25کنال زمین کاراولپنڈی اسلام آباد میں مانگا ہے جہاں پر میں گرلز ہاسٹل اور آڈیٹوریم بنانا چاہتا ہوں جس سے علاقے کی بچیوں کو درپیش مسائل میں کمی ہوگی ۔
گورنر کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات میں علاقے کیلئے سستی گیس کی فراہمی کے سلسلے میں بات ہوئی ہے جس سے علاقے میں گیس کی قیمتوں میں کمی ہوگی، قراقرم یونیورسٹی ہنزہ کیمپس کے قیام میں رانی عتیقہ ممبر قانون ساز اسمبلی کا بہت بڑا ہاتھ ہے اپریل میں انشااللہ صدر پاکستان کو دعوت دیکر باقاعدہ افتتاح کیا جائیگا ۔
روایتی بوفوء پروگرام کے اختتامی تقریب کے موقعے پر گلگت بلتستان کے سینئر وزیر حاجی اکبر تابان نے بھی خصوصی شرکت کی پروگرام میں روایتی بوفوء تخم ریزی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور گورنر گلگت بلتستان کو التت فورٹ سے التت پولو گراونڈ تک شاہی پوشاک میں گھوڑے پر سوار کرکے لایا گیا اس کے بعد مقامی روایت کے مطابق گورنر گلگت بلتستان نے گندم کا بیج بو کر رسم تخم ریزی کا افتتاح کیا ۔
منتظمین نے اس تہوار کو مکمل روایتی انداز میں منانے کی بھر پور کوشش کی تھی ۔
اس تاریخی پروگرام میں ہنزہ کے عوام نے بھر پور شرکت کی پروگرام میں روایتی رقص کے علاوہ گھڑ سواری ،نیزہ بازی اور تیر اندازی کا مظاہرہ کیا گیا ۔
یار رہے کہ اس پروگرام کے انعقاد میں ایک غیر سرکاری تنظیم ہاشوفاونڈیشن کی مدد حاصل تھی، اور اسے میلے کے انعقاد میں ہنزہ آرٹس اینڈ کلچرل کونسل اور مقامی رضاروں کی مدد بھی حاصل تھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔