تحفظ حقوق نسواں بل کے خلاف چلاس میں احتجاجی مظاہرہ

تحفظ حقوق نسواں بل کے خلاف چلاس میں احتجاجی مظاہرہ

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)حکومت وقت غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسلام دشمن فیصلوں پر اتر آئی ہے۔پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کے نام پر لایا گیا ایکٹ شریعت سے متصادم ہے۔جسے کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے ہیں اسلامی ریاست کے اندر غیر ملکی ایجنڈوں کے تسلط کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنے کئے گئے غیر اسلامی اقدامات کو واپس لے۔بصورت دیگر عوام سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دینگے۔ہمارے اسلاف نے یورپی طور طریقے اپنانے کے لئے قربانیاں نہیں دی تھیں۔اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام اور شریعت کے مطابق ہی فیصلے ہونگے۔ان خیالات کا اظہار جمیعت علمائے اسلام دیامر کی کال پر منعقدہ احتجاجی جلسے سے راہنماء جے یو آئی مولانا عبدالمحیط،مولانا عبدالمجید،مفتی رستم خان،ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات جے یو آئی جی بی بشیر احمد قریشی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کبھی دعوت تبلیغ پر پابندی تو کبھی غیر اسلامی قوانین لاکر ملک میں بے دینی اور فحاشی کو پروان چڑھا رہی ہے۔ممتاز قادری کی پھانسی بھی اسی نظریے کی کڑی ہے۔یہ ملک اسلامی ریاست اور بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔یہاں غیر مسلم طور طریقوں کو اپنانے کے تباہ کن اثرات سامنے آئینگے۔حکومت ہوش کے ناخن لے۔اور فوری طور پر منظور کئے گئے غیر ملکی سامراجی قوانین کو ختم کر دے۔جمیعت علمائے اسلام کسی بھی کافرانہ اقدمات کی حمایت نہ کرے گی اور نہ ہی قبول کر ے گی۔فوری طور پر تحفظ خواتین کے نام پر فحاشی اور عریانی پھیلانے والے کالے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔بصورت دیگر قائدین کے حکم پر تمام عوام سول نافرمانی سمیت ہر قسم کی مشکلات پیدا کرینگے۔جس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہی عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔