دیر سے ہوا ۔۔۔۔کچھ تو ہوا۔۔مگر ناکافی

دیر سے ہوا ۔۔۔۔کچھ تو ہوا۔۔مگر ناکافی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

  تحریر :۔محمد علی عالم

ضلع گانچھے کا شمار گلگت بلتستان کے مشرق میں واقع سب سے پسماندہ اضلاع میں ہوتاہے۔ اس ضلع کو اعزاز بھی ہے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشیر اور سب سے بلند ترین محاذِ جنگ یعنی سیاچن کے دامن میں واقع ہے اس ضلع سے تین ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک بھارت انتہائی اہم سرحد بھی ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجودیہ ضلع ہر دور میں حکومت کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے ضلع کی آبادی تقریباً دو لاکھ کے قریب ہے ضلع کے عوام کو صحت اور ایجوکیشن کی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے۔ دنیا جدیددورمیں ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے مگر ضلع گانچھے میں اس وقت چھوٹے اپریشن کی سہولت میسرنہیں ہے۔ پورے ضلع میں ایک لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے ہماری خواتین کو اس وجہ سے شدید مشکلات کاسامنا ہے۔ اس کااندازہ لگانا شایدہمارے ووٹ لے کر ایوان میں جانے والے حکمرانوں کونہیں ہے، یا ہونے کے باوجوداسکااحساس نہیں۔ یہ تو خو د ان نمائندوں سے پوچھنا پڑے گا۔

یہ ضلع پاک بھارت سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کا ایک اہم فائدہ عوام کو یہ ہو رہا ہے کہ پاک آرمی جس پر ہمیں فخرہے بارڈر کے علاقوں میں صحت کی جدیدسہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن کی بہترین سہولت بھی دے رہا ہے۔ جس پر ہم ان کے جتنے بھی شکرگزار ہوں کم ہے۔

میں آج صرف صحت کے حوالے سے کچھ مسائل اقتدارمیں بیٹھے حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش کررہاہوں۔

ایجوکیشن کی ایک الگ داستان ہے وہ پھر کبھی لکھوں گا۔

ضلع کے تقریباً دولاکھ کے قریب آبادی کے لئے ضلعی ہیڈکوارٹر خپلو میں ڈسٹرکٹ ہسپتال پچاس بیڈ کی تو موجود ہے مگر عملہ تیئس بیڈ کی ہے اس میں بھی 49پوسٹ خالی ہے پچاس بیڈ کے ابھی تک سٹاف اور سامان موجود نہیں ہے اس کے علاوہ جدید دور کے تمام تر سہولت سے محروم ہیں نہ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ہے نہ ہی کسی معمولی اپریشن کی سہولت میسر ہے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں نو کے قریب ڈاکٹر موجود ہے سرکاری کوٹے کے مطابق ہسپتال میں سپیشلسٹ اور ڈاکٹر کی اٹھارہ سے اُنیس سیٹیں ہیں۔ اسی طرح ادویات اور دیگر عملوں کی کمی بھی اسی حساب سے ہے۔

دنیاگلوبل ویلج بن گیا ہے ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک میں آپریشن کی نگرانی کیا جاتا ہے بلکہ جدید صنعتی دنیا میں روبوٹس کے ذریعے جراحی کی جاتی ہے۔ لیکن اس دور میں بھی گانچھے کے عوام کو اپنے ہی ضلع میں اپنڈیکس جیسے معمولی بیماری کی سرجری کی سہولت دستیاب نہیں ہے ایسا کتنا واقعہ رونما ہوا ہے کہ ہمارے کئی مریض یہاں سے سکردو لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گیا خواتین کو بچے کی پیدائش کے وقت کتنا مشکلات کا سامناکرنا پڑا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے میں باجی کنیزنامی آئی ایچ سی کوسلام پیش کرتا ہوں جس کے پاس کسی ڈاکٹری کی ڈگر ی کے باوجود ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلومیں بحیثیت انسپکٹر ہیلتھ سروس ڈاکٹر خدمات انجام دے رہی ہے وہ خود ایک انسپکٹر ہیلتھ سروس ہے مگر وہ گانچھے کے خواتین کے لئے کسی سپیشلسٹ سے کم نہیں ہے وہ گزشتہ کئی سالوں سے ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو میں خواتین کی ڈیلوری کیس کو دیکھ رہی ہے اس نے کم از کم سوسے زائد ایسے کیس حل کیا ہو گا جس کا علاج ملک کی کسی بڑے ہسپتال میں ہوتا ہو آج تک میں نے کوئی کیس ایسانہیں سنا ہے کہ جس کے ہاتھ سے کوئی بچہ ضائع ہوا یا بچے کی ماں کو کچھ ہوا ۔ اسکے علاوہ بھی ہسپتال میں کئی قابل بہترین یعنی بڑے کام کرنے والے بھی موجود ہے مگر ہر ایک کانام یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے میں نے باجی کنیز کا نام اس لئے لیا ہے کہ وہ ایک خاتون ہے ہمارے معاشرے میں ایسے کم ہی خواتین ملیں گے جو اس طرح حالات اور معاشرے کا مقابلہ کر کے کام کرتی ہو اس لئے میں نے اس کا نام یہاں لیا ہے تاکہ اس کو دیکھ کر ہمارے معاشرے کی دوسرے خواتین میں بھی کام کرنے کی ہمت پیدا ہو جائے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ ہسپتال میں سابق کئی چیف سیکرٹریز نے ہسپتال کا دورہ کیا ہسپتال کی حالات دیکھ کر افسوس تو کیا مگر ان مسائل کو حل کرنے کی توفیق نہیں ہوئی اسی طرح بدقسمتی سمجھ لیں یا خوش قسمتی گلگت بلتستان میں بننے والے ہر دورحکومت میں اس ضلع سے اہم عہدو ں پر گانچھے سے منتخب نمائندے فائز رہے ہیں موجودہ دور حکومت میں ایک ہی نمائندے کو دو اہم وزارت کی ذمہ داریاں دیا ہوا ہے اس سے پہلے سابقہ دور حکومت بھی ایک نمائندے کو اہم وزارت اور ایک کو حکومت میں اہم عہدہ یعنی گلگت بلتستان کونسل میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاسربراہ بنایا ہوا تھا مگر بدقسمتی سے ان کو ہسپتال کی حالات دیکھنے کا موقع ہی نصیب نہیں ہوا موجودہ حکومت میں بھی شامل اہم وزیر اور ایک پارلیمانی سیکرٹری جسکا تعلق گانچھے سے ہے حکومت میں آئے ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے مگر دونوں نے ہسپتال کی طرف موڑ کے بھی نہیں دیکھاہے اسکے علاوہ مردوں کے ٹیکنوکریٹ سیٹ پر موجود ممبر کو بھی ہسپتال میں دورہ کرنے کا توفیق میسر نہیں ہوا ہے حالانکہ اس ہسپتال میں ضلع بھرسے مریض علاج کے لئے آتے ہیں یہ لوگ صرف انسانیت کی خاطر ہسپتال کی مسائل دیکھنے کے لئے ہی آتے نہیں تو یہ سوچ لیتاکہ میرے ووٹرز میرے رشتہ دار بھی علا ج کے لئے جاتے ہیں خیر میں انتاکہوں گا کہ پانچ سال بعد آپ لوگوں نے انہی کلی محلوں میں انہی غریب لوگوں کے ہاں آنا ہے یہ سوچ کر ہی سہی خپلوہسپتال کا ایک دفعہ دورہ کر کے غریب عوام کو کیا مشکلات ہے اپنے آنکھوں سے دیکھ لے شکریہ۔ نہیں تو آپ لوگوں کا بھی وہی حا ل ہو گا جس طرح سابق دور حکومت میں پانچ سال تک عیاشی کرکے عوام کو خاطر میں نہ لانے والوں کا ہوا ہے میں یہاں تمام تر مسائل اور مشکلات کے باوجود ہسپتال کی حالات بدلنے والے ایسے آفیسرکا ذکر کروں گا مگر اخر میں ۔ابھی دو ایسے ارکین اسمبلی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے اپنے پہلے ترجیح میں ہسپتال کو لیا اور ہسپتال کی مسائل حل کرنے کا عزم کرلیاہے ان کو عوام تو یقیناًدعائیں دے رہے ہیں مگر میرابھی فرض ہے کہ تنقید کے ساتھ ساتھ اچھے کام کرنے والوں کے کام کو عوام تک پہنچائیں گانچھے حلقہ ون سے کامیاب ہونے والے رکن اسمبلی غلام حسین ایڈوکیٹ جس سے ہرکوئی واقف ہے انہوں نے پہلی فرصت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کیا دورے کے موقع پربحیثیت صحافی معمول کے مطابق میں بھی ان کے ساتھ تھا ہسپتال کادورہ کیا مریضوں کی عیادت کی اور ہسپتال کے حالات آنکھوں سے دیکھا اس موقع پر ہسپتال کے حکام نے ہسپتال کے مسائل سے آگاہ کیا اور رکن اسمبلی نے ایک سیاسی نمائندے جو کرتے ہیں اس طرح اعلان کیا وعدے کئے پھر چائے پی لی اور چلے گئے ہم نے بھی اگلے دن اخباروں میں اورا ٹی وی پر خبر چلایا کیونکہ خبر دینا ہی ہماراکام تھا ۔ خیر وقت گزر کیا پھر میری ملاقات کچھ ماہ پہلے اسلام آباد میں غلام حسین ایڈوکیٹ سے ہوا معمو ل کے مطابق گپ شب کی پھر میں نے ان سے کہاجناب ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو کا کچھ کو خیال کرو گانچھے سے پانچ ممبر آپکی حکومت سے ہیں جس پر ان نے میرے طرف مخاطب ہو کر کہاآپ لو گ کیسے صحافی ہے مجھے اندر سے غصہ آیا مگر بڑے تحمل سے پوچھا کیا ہوا جناب آپ بتاو کیسے صحافی ہے ہم ؟جس پروہ مسکرارتے ہوئے جواب دیا میں جو وعدہ کرتا ہوں وہ میں پورا کرتا ہوں جو چیز مجھ سے نہیں ہونا ہے اس کا میں کبھی اعلان نہیں کرتا ہوں ۔میں حیران ہو گیا اور سوچا ۔۔میں نے کہا پوچھا ہے اور وہ کیا جواب دے رہا ہے ۔۔؟خیر اس نے دوستانہ انداز میں بولنے لگے۔۔ جناب آپ لوگوں کے سامنے میں نے ایک ایمبولنیس اور چالیس لاکھ کا وعدہ کیا تھا وہ میں نے موجودوہ ترقیاری بجٹ میں رکھا ہے یہ دونوں میں نے اپنے اے ڈی پی میں پہلی ترجہی میں رکھا ہے اس کے علاوہ رواں سال سے ہسپتال میں پہلی بار سرجری ہوگی اس کے لئے بھی تمام انتظامات تقریباً مکمل ہو گیا ہے انشاء اللہ آہستہ آہستہ خصوصاً ڈسٹرکٹ ہسپتال کی تمام مسائل حل کروں گا اس کے علاوہ بھی حلقے میں صحت اور ایجوکیشن کی تمام مسائل میں بہتری آئے گا۔یہ سن کر میں ایک شہری کے بہت خوش ہوا ان کی ہسپتال کے لئے کئے جانے والی پہلا قدم کا سن کر داد دی ۔اس کے علاوہ بھی وہ دوسرے شعبوں میں بھی اچھا کام کر رہا ہے یقیناًکرنا بھی چائیے میں یہاں پر خاتون نشست پر ممبر بننے والی گانچھے سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی شیرین اختر باجی کا بھی ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی کیونکہ اس نے بھی ممبر بننے کے بعد گانچھے آتے ہی ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور ہسپتال کے مسائل سنے ایم ایس کے ڈیمانڈ پر لبیک کہتے ہوئے ہسپتال کے لئے ایک مردہ خانہ اور دھوبی روم بنانے کے لئے رواں سال کی ترقیاتی بجٹ میں پیسہ رکھا ہے اس دوران ہسپتال میں دورے کے موقع پر یہ بات چیت ہو رہی تھی کہ مخصوص نشست پر بنے والے ممبران اسمبلی کی بجٹ منتخب ارکین سے بہت کم ہے یعنی صرف سالانہ دو کروڑ روپے ہے اس لئے اسی حساب سے ہسپتال کے لئے تعاو ن کریں گے خیر اپنے بساط کے مطابق ہی سہی تعاون کیا اس کو سہرانا چایئے کیونکہ آج تک کسی ممبر نے ہسپتال کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا ایسے میں یہ دونوں ممبروں کی طرف سے کئے جانے والے سے کاموں سے عوام خوش اور پرامید ہے اور مزید کام کریں گے۔ میں یہاں ایک ایسے شخص کا ذکر آخر میں ہی کر رہاہوں کیونکہ اس نے ہسپتال میں ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ہسپتال کا نظام ہی بدل دیا تھا تمام مسائل اپنی جگہ ہسپتال کی سالانہ بجٹ کو پہلی بار ہسپتال کے اندر میں مختلف سطح ہر کمیٹیاں بنا کر سب کے سامنے رکھ دیا کتنا بجٹ ہے اور کہاں خرج کرنا ہے وہ بھی ہسپتال کے عملوں سے مشورے پر کیا پہلے وہی بجٹ کہاں جاتے تھے کسی کو معلوم تک نہیں ہوتے تھے مختصر سی بجٹ سے ہسپتال کی شکل بدل کر جدید ممالک کے جدید ہسپتالوں کی طرح کر دیا ہے پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ میں دستمبر کی مہینے میں ہسپتال میں کسی عزیر کو لے گیا تو ڈاکٹرنے اس کو ہسپتال میں داخل کرنے مشوارہ دیا میں وارڈ میں گیا تو وہاں کوئی نہیں تھا مگر روم کو جون ،جولائی کی طرح گرم تھا میں حیران ہو کر ہسپتال کے کسی عملے سے پوچھا یہ روم اتنا گرم کیوں ہے پہلے تو ہسپتال کے کمروں میں مریضوں کو ہیٹنگ کے لئے چندہ کر کے بھی اتناگرم نہیں ہوتے تھے جس پر اس سٹاف نے جواب دیا بھائی موجودہ ایم ایس صاحب نے خالی وارڈ میں بھی ہیٹنگ کا بندوبست کر کے ہمیں واضح ہدایت کیا ہوا ہے کہ سردیوں میں کسی بھی وقت کوئی مریض آ سکتے ہیں اس لئے خالی وارڈ کو بھی گرم کر کے رکھوں جس کا سن کا میں حیران ہو گا، کسی سے سنا تھا کہ انسان کی نفسات یہ ہے کہ ہسپتال پہنچنے پر آدھا بیمارٹھیک ہو جاتاہے وہ تب ہوتا ہے کہ ہسپتال میں صفائی کا نظام اور دیگر نظام اور عملے خوش اخلاق ہو ۔۔اس لئے نئے آنے والے ہسپتال کے سربراہ نے یقینی بنایا ہے ہسپتال میں پہنچنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کسی یورب کے ہسپتال میں آپ پہنچ گیا ہے نئے ذمہ داریاں سنبھالنے والے ایم ایس نے تو اپنے ہر انرجی لگاکر ہسپتال کی نظام میں سو فی صد بہتری لائی ہے جس کا سحرایقیناًجناب ایم ایس کو جاتا ہے شفا دینے والا اللہ کی ذات ہے مگر ذریعہ تو کوئی نہ کوئی بنتا ہے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار ڈاکٹروں کے لئے سیاچن ہاسٹل کے نام سے ایک ہاسٹل بنایا ہے جس میں ڈاکٹروں کے لئے بہترین سہولت دی گئی ہے کیونکہ پاکستا ن کی سرد ترین ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ پاسمندہ علاقہ ہونے پر اگر سہولت نہ ہو تو کون یہاں آکے کام کرے گا وہ بھی ڈاکٹرز جن کا پوری دنیا میں منہ مانگے دام اور جدید سہولت کے ساتھ ڈیمانڈ ہو ۔یہ سب ایک بہترین سوچ اوراعلیٰ کارنامہ کر دیکھایاہے جسکو گانچھے کے عوام تاحیات یاد رکھا جائے گا اسکا اجر یقیناًاللہ خود دے گا مگر ان تما م کاموں سے گانچھے خصوصاًخپلو کے عوام بے حد خوش ہے اور یقیناًہونا بھی چایئے ایسے آفیسرز اللہ کی طرف سے رحمت ہوتی ہے اس کے علاوہ انہوں نے پہلی بار ضلع کے علماء،عمائدین کا ایک اصلاحاتی کمیٹی بنائی ہے جو ہسپتال میں کئے جانے والی کاموں کی نگرانی کریں گے یہ تمام کام کوکرنے کا کریڈیٹ نئے چارج سنبھالنے والے ایم کو جاتا ہے ۔میں آخر میں حکومت کے سربراہ جناب حافظ حفیظ الرحمن اورانتظامی امور کے سربراہ طاہر حسین سے عوام کی مناسبت سے گزارش کروں گا کہ وہ گلگت بلتستان کے تمام ہسپتالوں خصوصاًڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو میں مریضوں کو درپیش مسائل ،مشکلا ت کو حل کرنے کے لئے اقدامات اُٹھائیں اور محکمہ ہیلتھ کے تحت تقسیم ہونے والے ایک ہزار پانچ سو پوسٹیں میں سے کم ازکم پچاس پوسٹ تیئس بیڈ کے ہیں وہ دی جائے کیونکہ یہ انسان کی بنیادی ضرورت میں ہے اور میں جناب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان صاحب سے یہ بھی گزارش کروں گا کہ وہ اپنے ارکین ممبران کو ہسپتالوں کی نظام کو ٹھیک کرنے اور ان میں موجود مسائل کو ٹھیک کرنے کے لئے ٹارگیٹ دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔