وادی گوجال کے بالائی علاقوں چپورسن، شمشال اور مسگر میں غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے

وادی گوجال کے بالائی علاقوں چپورسن، شمشال اور مسگر میں غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( خصوصی رپورٹ: حیدر علی گوجالی) حالیہ بارشوں کے دوران گلگت بلتستان کے تمام علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہیں، دور دراز علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے متاثرین کے امداد اور دیگر امور کے انجام دہی نہ صرف سرکاری اداروں کے لئے بلکہ فلاحی اداروں کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔تحصیل گوجال کے دور دراز علاقے چپورسن ، مسگر اور شمشال میں بارش اور برفباری کی وجہ سے بڑی تباہی ہوئی ہیں۔ قراقرم ہائی وے سمیت دیگر رابطہ سڑکیں متعدد مقامات پر بلاک ہوگئے ہیں۔ چپورسن روڈ مکمل طور پر خراب ہوگیا ہے، مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ روڈ کھلنے میں پندرہ سے بیس دن لگ سکتے ہیں۔مسگار اور شمشال کی سڑکیں بھی بند ہیں۔ بجلی کا نظام درہم برہم ہے کئی مقامات پر بجلی کی تاریں ٹوٹنے اور کھمبوں کے گرنے کی مصدقہ خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ چپورسن میں ۳۰ سے زائد خاندانوں کو اپنے مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات میں منتقل کیا گیا ہے جو خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔

اگر یہی صورتحال رہی تو دور دراز کے علاقوں میں غذائی قلت بھی پیدا ہونے کاخدشہ ہے۔ گوجال کے تمام علاقوں سمیت چپورسن میں تمام جنگلات برفباری کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں ۔ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کی وجہ سے آبپاشی کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا ہے، درخت اور زمینیں بھی اس کے زد میں آگئے ہیں۔ کچے مکانات گرنے کی وجہ سے کئی مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔چپورسن چونکہ ایک دور دراز وادی ہے ، جہاں صحت کے بہتر سہولیات کا پہلے سے فقدان ہے اب راستے بند ہونے کی وجہ سے مزید صحت کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ گوجال کے تمام علاقوں میں بھی صحت کی صورتحال نا گفتہ بہ ہے۔

سر کاری اور غیر سرکاری اسکول کھلے ہیں تاہم ڈپٹی کمشنر ہنزہ نے متعلقہ محکمے سے بات کر کے اسکولوں کو کچھ دن کیلئے بند رکھنے کی یقین دہانی کی ہے تاکہ بچے اور اساتذہ محفوظ رہ سکیں۔ نائب تحصیلدار نے کہا کہ انھوں نے تمام تر صورتحال سے بالا اداورں کو آگاہ کیا ہے لیکن ابھی تک ان علاقوں میں امدادی سرگرمی کآغاز کرنے یانقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کوئی احکامات جاری نہیں ہوا ہے۔ چپورسن کے ایک وفد نے سوست میں نائب تحصیلدار سے ملاقات کی اور انہیں علاقے میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ دوسری طرف چپورسن میں رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں اور سڑک کی صفائی میں مصروف ہیں۔ رضاکاروں نے اسپنج کے مقام پر تقریبا ۴۰۰ میٹر سڑک سے برفانی تودے ہٹا دیا ہے۔ یاد رہے کہ چپورسن میں ایک فٹ سے زیادہ پرف پڑی ہے اور وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔