بارشوں کی تباہی پر بیانات کے بجاے عملی کام کیا جائے 

بارشوں کی تباہی پر بیانات کے بجاے عملی کام کیا جائے 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں کے باعث اس وقت مشکل اور نازک حالات سے گزر رہا ہے ۔ بارشوں نے عوام کو بری طرح مفلوج کر رکھا ہے ۔ بارشوں کاسلسلہ رُکے کئی روز گزرنے کے باوجود امدادی سرگرمیاں صرف بیانات کی حد تک جاری ہیں ۔حقیقت میں متاثرہ لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں ملی ہے ۔شاہراہ قراقرم سمیت بین الاضلاعی اہم رابط سڑکوں کی بندش نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ گلگت بلتستان نصف سے زائد آبادی فاقوں سے دوچار ہوگئی ہے ۔ لوگ گندم اور آٹے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور 5کلو آٹا کے حصول کیلئے آپس میں دست وگریباں ہورہیں۔جگہ جگہ عوام ادوئیات اور صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ کئی بجلی گھر اور بجلی کے کھمبے لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہونے کی وجہ سے تمام اضلاع کے زیادہ تر علاقوں میں اندھیروں کا راج ہیں۔ ہزاروں گھروں میں فاقے شروع ہوئے ہیں۔تیل کی قلت کے باعث ٹرانسپورٹ رُک گیا ہے جس کے باعث مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو دیہاتوں سے شہروں تک منتقل کرنے میں سخت مسائل کا سامنا ہے ۔جبکہ ان بارشوں کے دوران بے گھر ہونے والے کھلے آسماں تلے امداد کے منتظر ہیں۔جن کی فصلیں، درخت اور دیگر نقصانات ہوئے ہیں ان کا تاحال پرسان حال نہیں ہیں۔ یوں پورے خطے میں ایک غیر یقینی کیفیت کا سماں ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیا ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔

شدید بارشوں اور زلزلے میں سب سے زیادہ نقصانات دیامر میں ہوئے جہاں اٹھارہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ برباد ہوئے ۔ جبکہ تمام نالہ جات کی سڑکیں ختم ہوگئی ۔ہنزہ نگر میں بھی متعدد گھرانے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور نگر کا رابطہ گلگت شہر سے کٹ گیا ہے جس کی وجہ سے غذائی بحران پیدہ ہوگیا ہیں ۔اس کے علاوہ ضلع استور میں بھی برفباری اور بارشوں نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ کے باعث استور کی رابط سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ مواصلاتی نظام اور بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوا ہیں شدید بارشو ں کی وجہ سے استور کے بالائی علاقے گدائی ، تریشنگ ، رٹو ، بوبند، داسخریم چلم ، نوگام ، پریشنگ ، منی مرگ اور دیگر علاقوں کی رابط سڑکیں بند ہوگئی جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن عوامی نمائندے گلگت میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ فوٹو سیشن اور بیانات کے ساتھ سرخیوں کی زینت بننے میں مصروف ہیں ۔

قراقرم ہائی وے پر سفر کرنے والے مسافرلینڈسلائیڈنگ کے باعث بن ہونے والی سڑکوں پر ہفتوں سے بے یارومددگار کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ مسافروں کی مشکلات سے نہ صرف خود مسافر پریشان ہیں بلکہ ان کے خاندان کا ایک ایک فرد ذہینی اذیت کا شکار ہے قراقرم ہائی وے پر سفر کرنے والے مسافروں میں خواتین ،بچے ، بوڑھے اور سیاح بھی شامل ہیں جو رالپنڈی سے لے کر خنجراب تک جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں۔ان مسافروں کے پاس سفری اخراجات بھی ختم ہوچکے ہیں جن میں سے کئی مسافروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مدد کی بھی اپیل کی ہیں۔ مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ۔گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے قبل از وقت اطلاع دیتے ہیں۔اور حالیہ بارشوں کے حوالے سے بھی ان اداروں نے حکومت اور عوام کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی تھی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اطلاع کے باوجود صوبائی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور قبل از وقت تیاری کرنے کی زحمت تک نہیں کی اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں۔ پورے خطے میں جہاں کئی بجلی گھر ، سینکڑوں بین الا ضلاعی اہم سڑکیں اور ہزاروں گھر لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہوئے ہیں وہاں بدقسمتی سے حکومتی زمدار لوگ چند متاثریں میں کچھ اشیائے خوردونوش تقسیم کرکے خود کو امدادی سرگرمیوں کا چمپین اور بری الزمہ قرار دیتے ہیں حالانکہ چند آٹے کے تھیلے اور دیگر اشیائے ضروریہ تقسیم کرکے تصویریں بنوانے کاکام کوئی شخص انفرادی طور پر بھی کرسکتا ہے مگر کوئی شخص یا غیر سرکاری ادارہ روڑ ، بجلی گھر،پانی اور موصلاتی انظام بحال نہیں کرسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ کا م صرف حکومت وقت ہی کرسکتی ہیں ۔لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت کے سر پر فوٹو سیشن اور اخباری سرخیوں میں رہنے کا بھت سوار ہے اس کو اتار پھینک دینے اور ساری توجہ انفراسٹریکچر کی بحالی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیوں نکہ اس وقت صورت حال بہت خراب ہیں۔شاہرائے قراقرام گلگت بلتستان کی واحد شاہراہ جس کی بندش کے بعد گلگت بلتستان ملک سے کٹ جاتا ہے اور علاقے میں قحط کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اسیلئے اس شاہراہ کے متبادل بابو سر روڑ کو ٹریفک کے لیے بحال کیا جائے ۔ اسی طرح ضلعی انتظامہ کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرہ خاندان کے پاس جاکر فوٹو سیشن کرانے کے بجائے فوری طور پر سر چھپانے کا بندوبست کرنے اور خوراک سمیت دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔