دیگر علاقوں میں تئیس بکریاں مر جائیں تو کہرام مچ جاتا ہے، لیکن کوہستان میں ملبے تلے دبے23   افراد کی کسی کو پرواہ نہیں : لواحقین

دیگر علاقوں میں تئیس بکریاں مر جائیں تو کہرام مچ جاتا ہے، لیکن کوہستان میں ملبے تلے دبے23 افراد کی کسی کو پرواہ نہیں : لواحقین

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان (نامہ نگار)کوہستان، حالیہ سیلاب متاثرین اور اتھور باڑی گاوں کے ملبے تلے دبے 23افراد کے لواحقین نے مرکزی اور صوبائی حکومت کی عدم توجہی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت حق حکمرانی کھو چکی ہے ، اگر دیگر علاقوں کی تئیس بکریاں بھی ملبے تلے دب جائیں تو دنیا سر پہ اُٹھائی جاتی ہے مگر کوہستان کے غریبوں کی لاشوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پچیس متوفیان کے ورثاء میں سے نظری ، سخی ، صفی اور زیگرون نے کوہستان میڈیا سنٹر کمیلہ میں اخباری کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی زندگی سیلاب کے نذر ہوئی ۔ اپنے غم میں کھوئے ہوئے تھے ،مقامی انتظامیہ اور عوام کے سوا کسی نے دکھ میں شرکت کا نہ سوچا ۔ نظری جس کے خاندان کے پندرہ افراد بدستور ملبے تلے دبے ہیں نے بتایا کہ اُن پر قیامت گزررہی ہے ۔ جب آسمانی بجلی گری تو پہاڑ ٹوٹ کر اُن کے گاوں پر آگرا اور وہ ایک سوراخ میں پھنس کر بچ گئے ، جب دیکھا تو کیچڑ اور ملبے کے سوا کچھ نظر نہ آیا ، تمام مکانات ،تمام ورثاء (ماں باپ، بیوی بچے جن کی تعداد پندرہ بتارہے ہیں)،تمام مال مویشیاں ، تمام مکانات موقع سے غائب نظر آئے جب ہوش میں آکر نظر دوڑایاتو کیچڑ اور پہاڑی تودہ کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ مسلسل ایک رات اور دن سوراخ میں تین بھائیوں کے ساتھ پھنسا رہا دوسرے دن پولیس اہلکار خیریت دریافت کرنے آیا ۔

انکا کہنا تھا کہ تین ذخمی اُن سامنے تڑپ رہے تھے مگر گاوں میں انہیں دینے کو دوا نہ تھی اور نہ کوئی ڈاکٹر تھا جبکہ مقامی ڈسپنسری چالیس کلومیٹر فاصلے پر تھی جبکہ موسلادھار بار ش اور لینڈ سلائیڈنگ باہر قد مرکھنے کو اجازت نہیں دیتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے دن ضلعی انتظامیہ کے لوگا موقع پر آئے ، ہماری غم میں شرکت کیلئے چھ روز بعد ایم پی اے ستار خان آئے ،ہم میں پہاڑی تودہ ہٹانے کی ہمت نہ تھی اس لئے مجبوری کی صورت میں اسے قبرستان قراردیا۔ اُن کے دوسرے بھائی سخی اور صفی نے بتایا کہ اُن کا گاوں بحال کیا جائے ۔ صوبائی اور مرکزی حکومت نے ابھی تک مڑکر بھی نہیں دیکھااور ہم لاوارثوں کی طرح کوہستان کے پہاڑوں میں بے یار ومددگار ہیں ۔ ہمیں ہمارے لاشوں کی فکر ہے ،ہمارے انمول جگر گوشے ہمیں نہ ملے ، حکومت اپنی ذمہ داری میں بری طرح ناکام ہوئی ۔

متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اُن کے گاوں کو بحال کیا جائے ،وزیراعلیٰ کے پی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھائیس اموات کوہستان اپر میں ہوئیں اور وہ اپنے مشیر کے ساتھ پٹن سے واپس گئے۔ اُن کے ہمراہ جماعت اسلامی تحصیل کندیا کے امیر ملک غنی بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی جماعت کو چوروں کا ساتھ قراردیتے ہوئے کہا کہ زندگی میں ایسے بے حس حکمران اور حکومت نہیں دیکھی جو انصاف کے لبادے میں بے انصافی کا پرچار کرے۔انہوں نے مرکزی حکومت کے عدم توجہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کا کوئی شیر مرجائے تو سارے میاں وہاں جمع ہوتے مگر کوہستان کے غریبوں سے انہیں کیا لینا دینا وہ تو اپنی بلیک رقم بچانا کے مشن پہ ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی کے مطابق متاثرین کی آبادکاری یقینی بنائی جائے۔صوبائی حکومت کے سپیکر کوہستان کو آفت زدہ ضلع قراردیکر اپنے حکومت کے ساتھ خواب غفلت میں ہیں فوری بحالی شروع کی جائے۔انہوں نے حلقے سے رکن قومی اسمبلی سرزمین کی مبینہ بے حسی پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے متاثرین کا حال تک نہ پوچھا جو اُن کیلئے باعث شرم ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔