سنسر شپ اور فلم “مالک”

سنسر شپ اور فلم “مالک”

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ندیم احمد فرخ

چند دنوں سے میڈیا میں ایک خبر گرم ہے کہ پاکستان کے ایک ہدایت کار عاشر عظیم نے ایک فلم بنائی ہے ’’مالک ‘‘بقول عاشرصاحب انہوں نے یہ فلم کرپشن کے خلاف بنائی ہے اور اس میں انہوں نے پاکستان کی قوم کو یہ بتانا چاہا ہے کہ اس ملک کے مالک آپ ہیں نا کہ کوئی اور قبل اس کے کہ وہ فلم چلتی اس فلم پر سنسر شپ کی چھری چل گئی اور اس فلم پر پورے پاکستان میں پابندی لگادی گئی اس فلم پر پابندی لگا کر ہمارے سنسر بورڈ نے اور حکمرانوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اصل مالک ہم حکمران ہی ہیں اور جو لوگ عوام کو مالک کہتے ہیں ان کو حبیب جالب کے الفاظ میں ’ دس کروڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام کیا بنے گے حکمران ‘‘ عوام کو ان کا مقام دیکھا دیا گیا ہے ۔

مگر میرے خیال میں اس فلم پر پابندی ہی فلم کے ہیٹ ہونے کی ضامن بن جائے کیونکہ تاریخ گواہ ہے یہ آدم ذاد ایسی ہے کہ اس کو جس کام سے روکا جائے یہ وہ کام ضرور کرتی ہے خیر جب فلم دیکھیں گے تو ہی پتہ لگے گا کہ فلم کیسی ہے مگر یہ سنسر شپ کا اصول کوئی نیا اصول نہیں ہے ۔

تاریخ عام کو دیکھیں تو ریاستیں، حکومت، جماعتیں اور افراد اپنی مخالفت میں سامنے آنے والے اشخاص اور ان کے نظریات خواہ وہ کسی صورت میں ہوں پر پابندی عائد کردیتی ہیں یہی مخالفانہ نظریات ہی تھے جن کی وجہ سے سقراط کو موت کا پیالا پینا پڑا ہے زمانہ قدیم میں چونکہ مخالفت کے اظہار کے دو طریق تھے زبان اور قلم اس لئے زمانہ قدیم مخالفانہ نظریات کی حامل شخصیات اور تحریروں پر پابندی لگا دی جاتی تھی اسی لئے کسی مخالف کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر اسے زندہ جلا دیا جاتا تھا یا کسی کی تحریر کو جلا دیا جاتا تھا

زمانہ قدیم میں عموماً کتابوں کی تعداد بھی کم ہوتی تھی جس کی وجہ سے ان پر پابندی لگا نا بھی آسان تھا لیکن جیسے ہی چھاپے خانے بنے تو کتابوں کی اشاعت میں بہت اضافہ ہوا تو قدامت پسند لوگ اس ایجا د سے بہت پریشان تھے اس لئے انہوں نے ان مخالفانہ نظریات کی حامل شخصیات اور تحریرات کو تخریب کارقرار دیا اور ان پر پابندی آئید کردی تاکہ ان نئے آنے والے نظریات کو روکا جا سکے ۔

یورپ میں جس زمانہ میں چرچ کی حکمرانی تھی اور کوئی بھی اس کی اجازت کے بنا پر نہیں مار سکتا تھا اسی زمانہ میں مارٹن لوتھر نے جب کیتھولک چرچ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا اور اپنے نظریات کو تحریری صورت میں بیان کیا تو اس کے نظریات پریس کی وجہ سے یورپ میں بے حد پھیلے جس کی وجہ سے لوگوں میں چرچ کی بد عنوانیوں اور پوپ پر اس کے لا محدود اختیارات پر شدید تنقید ہونا شروع ہوئی تو چرچ نے لوتھر کی تحریروں کو سنسر کردیا اور اور ان کا اندراج اس انڈیکس میں کردیا جس کا آغاز 1493 میں چرچ نے کیا تھا جس میں ان کتابوں اور ان مصنفین کو ذکر ہوتا تھا جن پر پابندی تھی اور عیسائیوں کو منع کیا جاتا تھا کہ ان لوگوں سے کسی قسم کا واسطہ نہ رکھیں اور نہ ہی ان کی کتابوں کو پڑھیں صرف پابندی ہی نہیں بلکہ ان مصنفین کو موت تک کی سزائیں بھی دی گئیں تھیں ۔ اور ان کی کتابوں کو جلایا بھی گیا وجہ تھی کہ گلے لیو، برونو،کوپرنیکس وغیرہ بھی مختلف تکالیف سے گزرنا پڑا مسلم علاقوں میں بھی نئے نظریات کے حامل لوگوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی مشہور مثال ابن رشد ہیں تاریخ میں دیکھیں تو یہ پابندیاں صرف مذہبی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ ہر شعبہ میں تھیں

نیپولین کی شکست کے بعد جب یورپ کے حکمرانوں نے اپنے پرانے نظامِ حکومت اور اداروں کو مستحکم کیا تو انہوں نے ایسے تمام نظریات کی مخالفت کی جو کہ تبدیلی کے حامی تھے۔ چنانچہ آسٹریا کے چانسلر میٹرنک نے ایسے قوانین جاری کئے کہ جن کے تحت یہ دیکھا جاتا تھا کہ یونیورسٹیوں کے طالب علم کونسی کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہ کتابیں حکمرانوں کے اقتدار کے لئے خطرناک ہیں چنانچہ سخت سنسر شپ کے ذریعہ نئی اور لبرل سوچ کی تحریروں پر پابندیاں عائد کیں۔

سیاسی پابندیاں اب بھی ملکوں میں عائد ہیں جہاں بادشاہتیں یا آمرانہ حکومتیں قائم ہیں۔ کیونکہ یہ نئی سوچ اور فکروں کی تحریروں سے خوف میں ہیں اور جمہوری ملکوں میں نئی فکروں کو جو کہ ان کے نظریات سے مختلف ہوں ان کو باغیانہ قرار دے کر پابندی لگادی جاتی ہے بعض کتابوں کو معاشروں میں غیر اخلاقی اور فحش تصور کرتے ہوئے ان پر پابندی لگا دی جاتی ہے جیسے کہ افسانہ نگاری کی دنیا کا جانے پہچانے نام سعادت حسن منٹو کے بعض افسانوں کو فحش قرا ر دے کر ان پر مقدمات چلائے گئے دلچسپ امر یہ ہے کہ جب ان کے افسانوں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا تو ان کے افسانوں میں سے بعض حصے کاٹ دئے گئے کتابوں کے بارے میں بعض جماعتوں اور بعض افراد نے فیصلہ بھی کیا کہ کونسی کتابیں ان کو پڑھنی ہیں اور کونسی نہیں پڑھنی ہیں ۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب بہشتی زیور میں تو کتابوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی جس میں انہوں نے تجویز کیا کہ لڑکیوں کو کونسی کتابیں نہیں پڑھنی چاہیں اور کونسی پڑھنی چاہیں کیونکہ ان کے خیال میں ان کتابوں کے پڑھنے ہماری لڑکیوں کے اخلاق اور کردار میں فرق آسکتا ہے ان ممنوعہ کتابوں میں خاص طور پر شاعروں کے دیوان اور مثنویات بھی شامل تھیں حتی کے انہوں نے اخلاق میں مضبوطی کے لئے قرآن کریم کی سورہ یوسف بھی پڑھنے سے منع کردیا ۔ حال ہی میں پاکستان کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے ایک حکمت عملی یہ اپنائی کہ بعض مقررین اور بعض کتابوں اور بعض مصنفین پر پابندی عائد کی جو بلاشبہ کسی حد تک بہت احسن اقدام ہے مگر اس پابندی میں وہ کتابیں بہت کم شامل کی گئی ہیں جن میں لوگوں کو کافر اور واجب القتل قرار دیا گیا ہے اور ان کو سنسر نہیں کیا گیا ہے۔

آج کا زمانہ جسے ہم گلوبل ویلج بھی کہتے ہیں اس زمانہ میں کسی فلم یا تحریر پر پابندی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ہے کیونکہ لوگوں تک یہ چیز بہت سے زریعوں سے پہنچ جاتی ہے فلم ’’ مالک‘‘ پر پابندی نا لگتی تو شاید کم لوگ دیکھتے مگر پابندی کی خبر نے اس کی کافی تشہیر کردی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔