امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے، مذہبی رہنماؤں کا مشترکہ عزم

امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے، مذہبی رہنماؤں کا مشترکہ عزم

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) ادارہ امن و تعلیم اسلام آباد کے زیر اہتمام فیصل آباد میں تین روزہ ورکشاپ سے گفت گو کر تے ہوئے مذہبی رہ نماؤں نے کہا کہ معاشرے میں اصلاح کے لیے رویوں میں اصلاح کی ضرورت ہے ۔شرکاء نے اس مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنی اپنی عبادت گاہوں کو دیگر مسالک و مذاہب کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے ان عبادت گاہوں کو امن و آشتی اور محبت و احترام کے فروغ کے مراکز بنائیں گے۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی بلا تفریق مسلک و مذہب مدد کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی تاکہ وہ غربت اور جہالت کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں مسلم کریسچن فیڈریشن انٹرنیشنل کے چیئرمین قاضی عبد القدیر خاموش اور ادارہ امن و تعلیم کے ایزیکٹیو ڈائریکٹر رشاد بخاری نے بھی شرکت کی اور امن و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مختلف سطح پر تمام مذاہب و مکاتب فکر کے مذہبی قائدین کے باہمی تعاون سے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ۳ تا ۵ مئی ۲۰۱۶ کے دوران معنقد ہونے والی بین المذاہب ہم آہنگی کی اس تربیتی و مشاورتی ورکشاپ میں مختلف اضلاع سے سکھ، ہندو، مسیحی مذاہب کے نمائندوں سمیت اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی اور شیعہ مکاتب فکر کے کل 30 نمائندگان شریک ہوئے۔ورکشاپ میں شرکاٗ کو سمعی بصری اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے تربیت دی گئی ۔ شرکاء نے ورکشاپ کے طریقہ کار کو سراہا اور مفید علمی و عملی استعداد کار میں اضافے پر نہایت اطمینان کا اظہار کیا۔ ورکشاپ میں محمد حسین صاحب، محمد رشید صاحب اور غلام مرتضیٰ صاحب نے بطور ٹرینر فرائض انجام دیے جبکہ ڈاکٹر عبد الحفیظ صاحب اور قاری غلام اللہ صاحب نے ورکشاپ کی انتظامی ذمہ داریوں کو سر انجام دیا۔

شرکاء نے مختلف مذاہب و مسالک کے درمیان افہام و تفہیم اور سماجی تعامل کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب افہام و تفہیم کے ذریعے پاکستان میں امن اور ہم آہنگی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ورکشاپ میں بین المذاہب ہم آہنگی (ضرورت، اصول، مسائل اور امکانات مذاہب امن کا سرچشمہ، بین المذاہب و مسالک موثر ابلاغ کے لیے تجاویز، اختلاف کے آداب و اصول، تشدد کی صورتیں اور سد باب کی تجاویز، شناخت پر مبنی رویے اور تنازعات، مذہبی و سماجی ہم آہنگی کے لیے مکالمہ، انسانی حقوق اور آئین پاکستان میں بیان کیے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق، اور سماجی تعمیر و ترقی کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل شامل تھے۔

ادارہ امن و تعلیم گزشتہ ایک دھائی سے پاکستان میں امن و تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور ورکشاپ بھی ادارہ امن و تعلیم اسلام آباد کی تربیتی ورکشاپس کے تسلسل تھی۔ ادارے کے زیر اہتمام تربیتی و مشاورتی ورکشاپس میں مختلف مذاہب و مسالک کے ہزاروں مذہبی و سماجی قائدین شریک ہو چکے ہیں۔ ادارے مدارس کے قائدین اور مختلف مکاتب فکر کے علماء کی مشاورت سے کئی تحقیقی اور تربیتی منصوبہ جات پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ادارے نے ’’تعلیم امن اور اسلام‘‘ کے نام سے اعلیٰ ثانوی درجات کے لیے ایک درسی کتاب بھی شائع کی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔