بابا جان جیت چکے ہیں ــ!

بابا جان جیت چکے ہیں ــ!

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جی بی ایل اے ہنزہ حلقہ 6کے ضمنی انتخابات میں تقریباً 16 دن رہ چکے ہیں ، میر غضنفر علی خان کے گورنر بننے کےبعد اس حلقے میں ضمنی انتخابات کا انتظار طول پکڑتا جارہا تھا تاہم ایک دفعہ الیکشن کے تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد حکومتی جماعت نے ہارکے خوف سے حیلے بہانوں سے الیکشن ڈیٹ ڈیلے (Delay) کردیا تھا لیکن دوبارہ اعلان ہونے کے بعد انتخابی موسم میں گرما گرمی ہے،میر کی گورنری کے بعد رانی کو ٹیکنوکریٹ بنایا گیا اور پھر میر اور رانی کے لاڈلے شہزادے کو خود میاں کی طرف سے پارٹی فیصلوں کے بر عکس پارٹی ٹکٹ دینے کے بعد حالات مزید گھمبیر نظر آرہے ہیں۔

کرنل(ر) عبید اللہ سمیت کئی موسمی پرندے اسلام آباد سے ہوتے ہوئے ہنزہ کی زمین پر گندم کےدانوں پربیٹھ چکےہیں اور عوا م کو بے وقوف بنانے کے نت نئے تجربات میں مشغول ہیں ، ایسے میں سابق سپیکر وزیر بیگ ایک بار پھر پی پی پی کے ٹکٹ پر حلقے میں نمودار ہو چکے ہیں اور مذہبی ٹکٹ ایک پریس کانفرنس میں استعمال کر چکے ہیں تاکہ کوئی نمبر نہیں لے سکے۔

شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ظفر اقبال نےہر دلعزیز سیاسی اسیر رہنما کامریڈ بابا جان کے خلاف کیس دائر کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دیا ہے۔ اس الیکشن میں سب سے مضبوط امیدوار عوامی ورکرز پارٹی کی طرف سے انقلابی رہنما کامریڈ بابا جان ہے جو اس وقت نہ صرف ہنزہ بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام کی جان بن چکے ہیں ، پچھلے انتخابات میں میر غضنفر علی خان کے مقابلے میں جیل سے الیکشن لڑ کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں او ر تاحال پابند سلاسل ہونے کے باوجود ضمنی الیکشن میں حصہ لےرہے ہیں اور ان کے حلقے کے عوام با لخصوص انقلابی دوست الیکشن کمپئین میں مصروف ہیں اور دن بدن ان کا گراف بڑھتا جارہاہے ، بابا جان وہ واحد سیاسی رہنما ہےجس کو نہ صرف حلقے کے عوام کی سپورٹ حاصل ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان سے عوام اور یوتھ کی سپورٹ حاصل ہے اور نوجوان دیوانہ وار بابا جان کے حق میں عملی میدان سمیت سوشل میڈیا پر سپورٹ کر رہے ہیں اور گلگت بلتستان کے ترقی پسند اور قوم پرست اپنی تنظیموں سےنکل کر بابا جان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اورکیوں نہ کریں ، ایسے انقلابی رہنما بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو اپنے حلقےکے عوام کی خاطر کئی سالوں سے زنجیروں کو چوم لیں یا تختہ دار پر لٹکنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ باباجان کا کیا قصورتھا جو ایک عرصے سے زندانوں میں رہے؟ کیا با با جان چوری کی سزا بھگت رہے ہیں ؟ کیا باباجان قتل کے جرم میں جیل میں ہیں؟؟نہیں ایسا نہیں ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ نام نہاد حکومت کے ٹکڑوں پر پلنے والے بابا جان کو تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ خیر کسی میر، پیر ، وزیر یا کرنل کے تسلیم نہ کرنے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ بابا جان کی جدوجہد میں جان ہے اور وہ سچائی کے راستے پر ہے جس پر چلنا بڑےبڑے محلوں میں رہنے والے فائیو ڈور گاڑیوں میں سفرکرنے والے میروں اور وزیروں کے بس کی بت نہیں۔

حیرت ہوتی ہے مجھے ان موسمی پرندوں پر جو عوام کے پاس ووٹ مانگنے جاتے ہیں افسوس ہے ان سادہ لوح عوام پر جو یہ نہیں پوچھتے کہ سانحہ عطا آباد کے کے وقت کہاں تھے؟ کامریڈ بابا جان! اے عزم و ہمت کے نشان! اے انقلاب پسندوں کی جان! ہنزہ حلقہ 6 کے ضمنی الیکشن میں آپ جیتے یا ہارے، اس کے لئے آپ فکر مند نہ ہوں، آپ عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، آپ نوجوانوں کے دلوں پر راج کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، آپ میروں ،وزیروں اور کرنیلوں کو عوام کے در پر جھکانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ آپ جیت چکے ہیں ـ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔