سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے ہنزہ میں ضمنی انتخابات تین ہفتوں کے لئے ملتوی کرنے کا حکم جاری کردیا

سکردو(رضاقصیر) سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے ہنزہ میں ضمنی الیکشن تین ہفتے کیلئے ملتوی کر نے کا حکم دیدیا بدھ کے روز سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس رانا محمد شمیم کی سربراہی میں فل بنچ نے سکردو میں قانون ساز اسمبلی کے امیدوار بابا جان کیس کی سماعت کے دوران بابا جان کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے پیپلزپارٹی کے رہنماء ظفر اقبال کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ بابا جان کے خلاف کئی کیسز ہیں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہیں لہٰذا عدالت عظمیٰ انہیں الیکشن کے لئے نااہل قرار دے چیف جسٹس رانا محمد شمیم نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص جیل میں ہو اور وہ الیکشن نہ لڑ سکے اس دوران چیف جسٹس نے بے نظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بینظیر بھٹو ایک وقت میں ملک میں نہیں تھیں مگر انہوں نے اپنے اٹارنی کے ذریعے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور الیکشن بھی لڑا اگر عدالت نے بابا جان کو نااہل قرار دیا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی

اس لئے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کیس کا مکمل ٹرائل نہیں ہوتا تب تک ضمنی الیکشن تین ہفتے کیلئے ملتوی کیا جائے چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیا جاتا ہے کہ ہنزہ کے ضمنی الیکشن کو تین ہفتے کیلئے ملتوی کریں۔

چیف جسٹس رانا شمیم کی سربراہی میں سپریم اپیلیٹ کورٹ کے فل بنچ نے بابا جان کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق بابا جان کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے پہلے ان کے کیس کو تفصیل سے سننا پڑے گا جب تک کیس کے تمام پہلو سامنے نہیں آئیں گے ضمنی الیکشن نہیں ہو سکتا اگر بابا جان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے تو اس کا فیصلہ آنے تک نااہلی کیس پر کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ہے عدالت عظمیٰ نے کہاکہ چیف کورٹ کے احکامات معطل ہو چکے ہیں اگر کسی زمانے میں ریٹرننگ آفیسر نے بابا جان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے ہیں تو اس نے غلط کیا ہے ہم قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔ دراین اثناء بابا جان کیس کی سماعت کے دوران احاطہ عدالت میں سکیورٹی انتہا ئی سخت کر دی گئی تھی اور بابا جان کے سپورٹر ز کیس کا فیصلہ سننے کیلئے بڑے بے چین نظر آئے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments