ڈیم متاثرین اور وعدے وعید

ڈیم متاثرین اور وعدے وعید

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جنرل مشرف سیاہ و سفید کے مالک تھے۔اس دور میں انہوں نے کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے کی نیت ظاہر کی تو سندھ اور کے پی کے کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔وردی پوش جنرل صاحب نے اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے فوراً دیامر ڈیم بنانے کا اعلان کیا۔ابتدائی طور پر یہاں سے بھی مخالفت میں تحریکیں چلی۔کئی اہم سرگرم رہنماوں کو پابند سلاسل بھی کردیا گیا۔لیکن بہت جلد اس دور کی حکومت نے معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوے روایتی چال چلی۔لین دین ڈراو دھمکاو سے بھی کام نہیں بنا تو اسلام اور پاکستان کا واسطہ دیکر مخالفت کو حمایت میں تبدیل کر دیا۔چونکہ یہاں کے عوام فطری طور پر سادہ لوح اور محب وطن ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوے دیامر ڈیم کی تعمیر کیلے راستہ ہموار کیا۔ابتدائی طور پر دور اندیش بڑے بزرگوں نے خدشات کا اظہار کیا تودودھ اور شہد کی نہریں بہا کر مریخ پر بسانے کے ایسے وعدے وعید کیے گیے کہ انکار کرنا ناممکن ہوا۔جنرل مشرف نے ابتدائی طور پر اعتماد سازی کیلیے فی گھرانہ تین لاکھ روپے دینے دیا مر کے تمام تعلیمی اداروں کو واپڈا کے تحویل میں دیکر معیاری تعلیم کا حصول آسان بنانے اور مستقبل میں میڈیکل کالج کیڈٹ کالج اور انجینرینگ کالج کے قیام کیے ساتھ ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس کو ملک کے جدید ہسپتالوں کی طرح تمام تر سہولیات سے اراستہ کرنے کا وعدہ کیا ۔اور تمام متاثرین کو روزگار کے ساتھ بہترین رہایش اور زراعت کے لیے بھی بندوبست کرنے کا لافانی وعدہ کیا گیا۔اور ساتھ ہی تمام متاثرین کو ایک گرین کارڈ جاری کر کے جس کے زریعے علاج معالجہ اور سفری سہولیات مفت فراہم کرنے کا بھی وعدہ ہوا۔

متاثرین کے املاک کی پیمایش کر کے منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر فورا معاوضہ ادا کرنے کاوعدہ بھی ہوا۔لیکن بد قسمتی سے یہ سب زبانی کلامی وعدے وعید تھے۔تحریری دستاویز کی شکل میں ثبوت کے طور پر ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔اور آج عالم یہ ہےکہ ایک بھی وعدہ ایفا نہیں ہوا۔چاند ستارے دودھ اور شہد کی نہریں تو دور کی بات ہے متاثرین کی ذاتی املاک کا طے شدہ رقم بھی پورا نہیں ملا۔اس پر بھی انتظامیہ اور واپڈا نے ڈنڈی پر ڈنڈی مار کر بچارے متاثرین کی ایسی کی تیسی کر دی۔کاٹ پیٹ کر کے ظلم و جبر کا نیا رکارڈ قایم کر دیا۔ قبیلوں کو آپس میں الجھا کردرمیان میں اپنے لیے کرپشن کا راستہ ہموار کر دیا۔اور غضب کی بات یہ ہےکہ زمہ داران اپنی اس تاریخی واردات کو شفافیت کا نام دیکر حق اور سچ کا جنازہ نکال رہے ہیں۔تو دوسری طرف واپڈا حکام اپنی زمہ داری کو بھول چکے ہیں ابھی تک متاثرین کی آبادکاری کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔اور نہ ہی ابھی تک یہ ادارہ مقامی متاثرین کو روز گار دینے میں سنجیدہ ہے۔بلکہ چوری چھپے لین دین کے زریعے بھرتیاں کرنے میں مصروف ہے۔جبکہ حقیقی متاثرین جو بے گھر ہوچکے ہیں ان کے لیے محکمہ واپڈا کے دروازے بند ہیں۔سارے وعدے وعید غبارے کی ہوا ثابت ہوگیےٓ۔طے شدہ معاملات سے متعلقہ محکمہ فرار کی کوشش میں ہے، میڈیکل اور انجینرنگ کالج تو دور کی بات ہے ابھی تک کوئی بھی معمولی سا تعلیمی ادارہ واپڈا کی نگرانی میں نہیں گیا۔ اور نہ ہی چلاس کے اکلوتی ڈی ایچ کیو ہسپتال کی حالت بہتر ہوئی۔ جب سے اس ہسپتال کو جدید بنانے کی بات ہوئی ہے تب سے جو سہولیات پہلے سے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتے جارہیے ہیں۔وہ مریخ کی سیر دودھ اور شہد کی نہر سب کے سب دیوانے کے خواب اور اشرافیہ کی بھڑک ثابت ہو چکے ہیں ۔تب ہی تو سندھ اور کے پی کے عوام کالاباغ ڈیم کے مخالف ہیں۔

وہ جانتے ہیں اس ملک میں کوئی بھی کام شفاف نہیں ہوتا اور نہ ہی ملک کیلے دینے والی قربانی کی قدر کی جاتی ہے،ملک و ملت کے استحکام کے نا م پر کرپشن اور چوری چکاری کے لیے ایسے منصوبے پر کام کرتے ہیں۔جس کا واضع ثبوت دیامر ڈیم متاثرین کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے۔جن لوگوں نے ملک کے بقا کی خاطر یہ قربانی دی ہے وہ لوگ حکومت کی طرف سے دیے گیے رقم سے معمولی جھونپڑی تک نہیں بنا سکتے،۹۰ فیصد متاثرین تو ابھی سے دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

زمہ داران کی بے حسی اور بدعنوانی کی وجہ سے متاثرین میں سخت بے چینی پای جاتی ہے۔جو آنے والے وقت کے لیے باعث تشویش ہے۔اب ضرورت یہ اس امر کا ہکہ اگر حکومت وقت دیامر ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ ہیے اور واقع یہ ایک قومی نوعیت کا منصوبہ ہے تو فورٓ عوامی اعتماد کے بحالی کے لیے اقدامات اٹھایے۔زمینوں کی پیمایش اور معاوضات میں ہونے والی بدعنوانی کے تحقیقات کر کے زمداروں کے خلاف کاروای اور حقداروں کے جایز حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایے۔اور حسب وعدہ متاثرین کو واپڈا میں روزگار دینے کا سلسلہ فوری شروع کریں۔ورنایوں دوکھہ دہی سے زیادہ دیر تک عوام کو سنبھالنا بہت مشکل ہو سکتا ہے.چونکہ اس ڈیم میں ایک قوم ایک تہزیب اور ہزار ہا سال کی ایک عظیم تاریخ اپنے انجام کو پونچی ہے۔اس لیے یہ جان لینا ضروری ہکہ دیامر ڈیم حکام کے لیے چوری چکاری کا ایک زریعہ تو ہو سکتا ہے مگران لوگوں کے لیے یہ ایک بیانک سانحہ ہے جن کے پشتنی جاگیرے اور آبا و اجداد کی قبرے قربان ہوچکی ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔