وادی بمبوریت میں فنڈ کی منظوری کے باوجود ٹھیکیدار کام شروع نہ کرواسکا

 وادی بمبوریت میں فنڈ کی منظوری کے باوجود ٹھیکیدار کام شروع نہ کرواسکا

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے حوبصورت وادی بمبوریت ، کیلاش جو پچھلے سال سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا تھا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے ذمہ دار افسران نے مئی کے مہینے میں دو کروڑ سے زیادہ فنڈ منظور کرکے اس کی ٹنڈر کی اور آیون سے تعلق رکھنے والے ایک ٹھیکدار نے یہ ٹھیکہ لیا۔ مذکورہ ٹھیکدار کو مئی کے مہینے میں محکمہ ایریگیشن (آبپاشی) کے چیف انجنئیر نے ہدایت کی تھی کہ وہ چینلا ئزیشن یعنی بمبوریت نالہ سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کرے مگر ٹھیکدار نے دو عدد ایکسکیویٹر مشین لائے ہیں جو کام نہیں کرتا۔

متاثرین نے الزام لگایا کہ اس ٹھیکدار کا طریقہ واردات یہی ہے کہ حراب قسم لاکر کھڑا کرتاہے جو کام بھی نہیں کرتا مگر سیلاب آنے کی صورت میں کروڑوں روپے کا بل جمع کریگا اور محکمہ والوں سے ساز باز کرکے وہ فنڈ یہ کہہ کر نکال لیتا ہے کہ اس نے کام تو کیا تھا مگر سیلاب سے بہاکر لے گیا

مقامی لوگوں نے کہا کہ انہوں نے اس ٹھیکدار کے حلاف محکمہ کے آبپاشی کے ایگزیکٹو انجنئیر کو بھی شکایت کی ہے کہ یہ کام اسے نہ دیا جائے کیونکہ ان کا ماضی میں ریکارڈ کچھ اچھا نہیں رہا ہے مگر اس کے باوجود بھی محکمہ والے اپنے ذاتی کمیشن کیلئے اسے یہ کام حوالہ کیا۔

اس کام کیلے Excavator مشین جو حراب حالت میں کھڑی تھی اور جنریٹر کے ذریعے اس میں ویلڈنگ کا کام ہورہا تھا جب اس مستری سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ مشین حراب ہے اور اب وہ اس میں ویلڈنگ کررہا ہے جبکہ دوسرے مستری اس کی انجن وغیرہ مرمت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

زاہد عالم کا کہنا ہے کہ ایک مہینے سے کام شروع کرکے کام پھر روک دیا گیا ہے اور ایکسکیویٹر مشین ایک گھنٹہ کام کرنے کے بعد دس گھنٹے حراب رہتا ہے۔

سہیل احمد کا کہنا ہے کہ اس کام کیلئے دو کروڑ ستر لاکھ روپے کا فنڈ منظور ہوکر ٹنڈر ہوا ہے مگر حاجی ٹھیکدار نے حراب مشین لاکر کھڑاکیا ہے جو کام نہیں کرتا اور شائد اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ کب سیلاب آئے تاکہ وہ اپنا بِل جمع کرے کہ اس نے تو کام کیا تھا مگر سیلاب کی وجہ سے اس کا کیا ہوا کام حراب ہوگیا حالانکہ ابھی تک اس نے ایک فی صد کا م بھی نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات پر نہایت افسوس کا اظہار کیاکہ انصاف کے دعویدار حکومت میں محکمہ آبپاشی کے ذمہ دار افسران اس کام کی نگرانی کیوں نہیں کرتے اور اس ٹھیکدار کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کرتا ۔

عمر شریف نے کہا کہ تین مہینے سے یہ مشین کھڑے ہیں مگر کوئی کام نہیں ہوا ہے دونوں ایکسکیویٹر مشین حراب کھڑے ہیں کوئی کام نہیں ہورہا ہے مگر محکمہ والے بھی ان سے کوئی پوچھ گچ نہیں کرتے۔ اب سیلاب کا موسم ہے اور سیلاب آنے کی صورت میں ان لوگوں کا رابط مکمل کٹ جائے گا ۔

شریف احمد کا بھی نہیں کہنا ہے کہ ٹھیکدار کا کوئی پراگریس نہیں ہے دن میں کوئی ایک گھنٹے کیلئے مشین سٹارٹ کرتا ہے مگر کام نہیں کرتا اب پھر سے سیلاب شروع ہوجائے گے اور یہ کام پورا نہ ہونے کی صورت میں پھر سے سیلاب تباہی مچائے گا۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس نالے پر لکڑیوں کا پُل بنایا ہے جو سیلاب کی صورت میں بہہ جائے گا۔ یہاں کے لوگوں کے کہنا ہے کہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا ضروری سامان گدھو ں پر لادھ کر لے جاتے ہیں جس پر بہت خرچہ آتا ہے۔

وادی بمبوریت کے عوام صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ٹھیکدار کی ٹنڈر کو منسوح کرکے اسے بلیک لسٹ کیا جائے جو تین ماہ میں ایک فی صد کام بھی نہیں کیا اور دو عدد حراب ایکسکیویٹر مشین لاکر ویسے کھڑا کیا ہے جو سیلاب کا انتظار کررہا ہے کہ سیلا ب آنے کی صورت میں یہ دو کروڑ ستر لاکھ روپے کا فنڈ ہڑپ کرے گا اور محکمہ والے بھی اپنے کمیشن کی چکر میں حاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ان کے حلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔

ضلع ناظم مغفرت شاہ نے بھی اس پر نہایت حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ایریگیشن والے کیوں اس کام کی نگرانی نہیں کرتے اور ٹھیکدار سے کام نہیں لیتے ۔کیونکہ اب ایک بار پھر سے سیلاب کا موسم آنے والا ہے اور سیلاب کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی مچنے کا حطرہ ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔