وادی یاسین  …….. پہلی قسط

وادی یاسین …….. پہلی قسط

31 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 جاوید احمد

قدرت نے (گلگت بلتستان) کو بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے یہاں کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کی خاطر موسم بہار سے javedموسم سرما تک ہر موسم میں اس علاقے میں سیاحوں اور کوہ پیماوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اس لئے لوگ اسے سیاحوں کی جنت بھی کہتے ہیں کیوں کہ قدرت نے اس علاقے کو قدرتی حسن سے مالا مال کر رکھا ہے۔یہاں کے مناظر فطرت ، اونچے سنگلاخ پہاڑ برف پوش چوٹیاں ، کے ٹو ، نانگاپربت، راکاپوشی، دمانی، دنیا کا سب سے اونچا گلیشر سیاچن، سلتورو، پھسوگلیشر، غموبردرکوت، دسپر تھوئی اور موشی بر تھوئی کے پہاڑ آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ اس علاقے میں سرسبز و شاداپ وادیاں، لہلہاتے کھیت،سدابہارچیڑ و دیودار، دیو قامت سرو اور چنار کے درخت، خوبانی، سیب، توت و شہتوت، آڑو، آلو بخارا، ناشپاتی، گلاس ( چیری)َ، آخروٹ کے دیو قامت درخت، پاپلر کے آسمان سے باتیں کرتے درخت، بید کے درخت،سیبک تھرون،خشک اور آسمان سے باتیں کر تے ہوے بلند وبھالا لیکن ڈراونے اور خاموش پہاڑاور دریاے سند ھ کے دہانے ، چھوٹے چھوٹے ندی نالے،گرم اور ٹھنڈے پانی کے چشمے، سنگلاخ چٹانیں ، بلندی سے گرتے ہوے آبشاریں برف پوش چوٹیاں، پھلوں سے لدے ہوے خوبانی، انگور، سیب، آڈو، گلاس(چیری) ناشپاتی اور طرح طرح کے رنگبرنگے پھول سب ملکر اس خطہ زمین کے حسن کو دوبالا کرنے اور جنت نظیر بنانے میں پیش پیش ہیں ۔ یسن بھی اس خطے کا ایک خوبصورت اور زرخیز ترین علاقہ ہے ۔ یسن گلگت سے ۱۲۰ کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔یاسین کی آبادی تقریباََ ۴۶۴۰۰ (46400) ہے ، چار یونین کونسل ہیں اور ۳۰ ممبران کے تعداد ہے ، دو ، ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبران اورایک نام نہاد ، صوبائی اسمبلی کا ممبر ہے ( گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کا ممبر ہے) جس میں گوپس کا کچھ علاقہ سمال بھی شامل ہے

رسائی : یاسین یا یسن تک اسلام آباد راولپنڈی سے بذریع ہوائی جہاز یا بذریع بس، ویگن یا کار کے ذریع گلگت پہنچ سکتے ہیں ہوائی سفر کا دارومدار موسم پر ہے جب کہ بذریع شاہراہ ریشم آسانی سے سفر کیا جاسکتا ہے جو کہ موسم کی وجہ سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا، آج کل ، نٹکو، مشہ بھروم، سلک روٹ کی بڑی بڑی بسوں کے علاوہ ، سارگن ٹرانسپورٹ، کے ٹو، دیامر ٹورز ، کے ویگن کے علاوہ بہت سے پرایؤیٹ ، ٹرانسپورٹ اور کاریں بھی بکنگ پر ملتی ہیں ۔ گلگت سے ضلع غذر ( پونیال، اشکومن، گوپس اور یاسین ) کے لئے نٹکو کے علاوہ بہت سے پراؤیٹ ویگنیں چلتی ہیں اور ٹیکسی کاریں بھی بکنگ کے ذریع حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ گلگت سے یاسین تین گھنٹے کا سفر ہے اور یہ پونیال کی خوبصورت وادی سے گذرتی ہوئی غذر کی ضلعی ھڈکوارٹر گاہکوچ ڈیڑھ گھنٹے میں اور پھر گوپس سے ہو تا ہوا یاسین کی خوبصورت اور دلفریب وادی میں پہنچتاہے، یاسین میں مختلف ہو ٹلوں کے علاوہ ایک رسٹ ہاوس بھی ہے جہاں ٹھہرا جاسکتا ہے،

حدود اربعہ:: یاسین کے شمال اور شمال مغرب میں سطع مرتفع پامیر،روسی ترکستان اور واخان کا علاقہ اور بفر سٹیٹ اور چترال کے بروغل کا علاقہ ہے۔مشرق میں علاقہ اشکومن اور آگے چل کر چینی ترکستان، جنوب میں پونیال اور گلگت اور مغرب میں چترال واقع ہے۔یہ وادی برف پوش چوٹیوں اوراونچے اونچے پہاڑوں سے گھیری ہوئی ہے۔ یہ شاہینوں اور عقابوں کا مسکن ہے گرمیوں میں ان چوٹیوں کو سر کرنے کیلئے دنیابھر سے کوہ پیما ؤ ں کی جماعتیں آتی ہیں ۔

مشہور درے:: یاسین درہ بروغل کے ذریعے بروغل اور واخان سے ملا ہوا ہے جسکی بلندی ۳۱۹۸ میٹرہے۔ اور آفغانستان کا یہی علاقہ اسے روس سے جداکرتا ہے۔ درہ تھوئی چترال سے جا ملتاہے جسکی بلندی ۴۶۹۰ میٹر ہے اور درہ اسومبر اشکومن جا نکلتا ہے اور ایک اور درہ درکوت (۴۲۴۷میٹر) درکوت سے اشکومن جاتاہے۔ قرقلتی سے دو درے درہ پسم یاٹے سے دوسرا حغوست بر سے درمندراور سمال گوپس جا نکلتاہے۔ ایک درہ درکوت کو تھوئی سے ملاتاہے۔نازبر سے تین درے پھنڈر کی طرف نکلتے ہیں جن کے نام یہ ہیں اسقر تھن، شیخان اور آنو یاسین کو غذر گوپس سے ملاتی ہے۔ ایک درہ ناز بر یسن سے مستو ج چترال جا تا ہے اور درہ بوجایوٹ یسن کو دھیمل سے ملاتا ہے۔ اسکے علاوہ کئی چھوٹے چھوٹے درے بھی ہیں ۔

Mudori from sultanabad

( سلطان آباد سے سندی، دلسندی، چکی موجر، چاختائی چُک اور مڈوری کا ایک خوبصورت نظارہ)

یسن (یاسین)ضلع غذر کا بلکہ گلگت بلتستان کا خوبصورت ترین ، زرخیز اور ایک تاریخی علاقہ ہے یہاں کی زمین ندی نالوں ، چشموں اور دریاوں سے چھوٹے چھوٹے کوہل (نہریں) نکال کرسیراب ہوتی ہے۔ دریائے غذر کا سر چشمہ اس علاقے میں ہے ۔ گلگت سے یسن تک کا سفر آج سے صرف چند سال قبل تک نہایت دشوار گذار اور تھکا دینے والی تھی اور یہ سفر جیپوں میں سوار ہو کر کیا جاتا تھا اور ایک جیپ میں۱۶ سے ۲۰ افراد سفر کرنے پر مجبور تھے مگر اب اللہ تعالیٰ کی فضل اور مشرف حکومت کی مہر بانی سے ویگنوں میں صرف تین گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔ پہلے صرف جیپ چل سکتی تھی۔ راستے میں پونیال کی حسین اور پھلوں سے لدی وادی اور غذر کا ھیڈکواٹر گاہکوچ آتی ہے پھر وادی گوپس سے گذر کر وادی یسن کا پہلا گاوں اور پہلا بجلی گھر سیلی ہرنگ آتی ہے۔ یسن کا علاقہ گوپس سے چند کلومٹر پر سیلی ہرنگ سے شروع ہوتی ہے یہاں کی قدیم آ بادی کے بارے میں معلومات صحیح میسر نہیں اور یہاں مختلف نسل کے لوگ آباد ہیں لیکن یسن میں زیادہ ترلوگ غیر مقامی ہیں ان میں زیادہ تر چترال سے آئے ہوے ہیں لیکن بہت سے لوگ یہ داعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی قوم یسن کی قدیم باشندے ہیں مگر کوئی خاص ثبوت نہیں ملتا ہے یسن میں قومیت کو باپ دادے کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے جس طرح چترال میں ہے مثلاََ خوشوقتے، محمدبیگے،بیگالے، ہلبی تنگے،ُ غلبہ شیرے، زوندرے، شمونے، شکربیگے قرابیگے وغیرہ اسطرح سے اگر گنا جائے تو یسن میں تقریباََ ۷۰ قوم مختلف ناموں سے آباد ہیں۔اسطرح یسن کی آبادی تکثیریت میں ہیں یہاں گوجر ، پھٹان ،کھیلوچو، نگر اور ہنزہ کے کچھ لوگ بھی آباد ہیں۔ یسن کی زمین پیداواری لحاظ سے ضلع غذر بلکہ پور ے گلگت بلتستان میں زیادہ پیداوار دینے والی زمینوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۰ء ؁کی دھائی تک شمال کے زیادہ تر علاقوں میں یسن سے گندم کی ترسیل ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شعبہ زندگی کی دوسرے میدانوں کی طرح یہ علاقہ زراعت کے میدان میں بھی پیچھے رہ گیاتھا ۔لیکن نئی پود، نے تجارتی میدان میں آ گے بڑھنے کی کوشش کی ہے اور وہ ہے آلو اور چیری (گلاس) کی پیداوار میں قسمت آزمائی۔ آہستہ آہستہ اس میدان میں ترقی ہو رہی ہے۔ یسن کی خوبانی جو کہ سب سے میٹھا ہو تاہے مگر ابھی تک اس کی تجارتی بنیاد پر منڈی تک لے جانے کا تجربہ کسی نے شروع نہیں کیا ہے۔ یسن کی اس خوبصورت وادی کو پہلے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جو کہ یاسین، سلگان اور تھوئی پر مشتمل تھا مگر اب انتظامی لحاظ سے چار حلقو ں میں تقسیم کیا گیاہے اور تقسیم اس طرح سے ہے حلقہ نمبر۱ یسن، حلقہ نمبر ۲ سلطان آباد، حلقہ نمبر ۳ سلگان اور حلقہ نمبر ۴ تھوئی۔

معدنیات: اس علاقے میں قدرت کے بڑے بڑے خزانے پوشیدہ ہیںیہاں کے پہاڑوں میں گندھک، پھٹکڑی، سیلٹ کا پتھر ،سلاجیت، بلور، سرمے کا پتھر، چونے کا پھتر، سمنٹ کا پتھر، سنگ مرمر اور برتن بنانے کی مٹی کے علاوہ مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں کثرت سے ملتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں میں ایک پھول جوکہ پونرکہلاتا ہے جس کی کلیوں میں پایا جانے والا سفوف اگر آشوب چشم کے آنکھوں میں بطور سرمہ استعمال کیا جائے تو فوراََ آرام آ جاتا ہے۔ ایک بوٹی گساپور جو کہ امراض شکم کیلیے اکثیر کا کام دیتا ہے لیکن ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے کوئی یہاں کی معدنیات کے بارے میں عملی قدم اُٹھایا گیا اور نہ ہی مقامی طور پر کوئی کوشش کیا گیا یہاں کے نالوں میں تمور بھی ملتا ہے جو بہترین قسم کا قہوہ اور دوا بھی ہے، پہاڑوں میں بڑے قیمتی پتھر بھی ملتے ہیں۔

یہاں ندی نالوں میں بڑی قیمتی جڑی بوٹیوں کے علاوہ عجیب و غریب اشیاء ملتی ہیں ۔ مثلاََ نالہ اسومبر میں ایک بہت بڑی جھیل ہے جس کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ اس کی کوئی تہہ نہیں ہے۔اسی نالے میں ایک کھیل کا میدان ہے جس کو دادی کا گراونڈ (واو مو شوارن) کہا جاتا ہے۔جہاں پتھروں اور چٹانوں پر انسانی شکل وصورت، پولو کھیلنے کے سامان، اور گھوڑوں کے زین اس طرح سے بنے ہوے ہیں جیسے کسی سنگ تراش نے پتھروں کو تراش کربنایا ہو۔مختلف کہاوتیں ہیں لیکن حقیقت کا علم نہیں کہ کیا ہے۔اسی طرح سرو کے ایک درخت پر کسی خسرو نامی بادشاہ کے حملے کے بارے میں کچھ اندراجات تھے کہا جاتا ہے کہ کسی خسرو نامی حملہ آور جب اس مقام پر پہنچ کر پڑاو ڈالا تو سامنے کے اونچے پہاڑ کے اوپر سے خشک گھاس کو اس طرح ہوا میں اچھالا گیا ایسا لگا کہ اس پہاڑ کے اوپر آبادی ہے اور کھلیانوں میں گندم کی تھرشنگ کیا جا رہا ہے اور اس حملہ آور نے ہندی اور چائینہ سے ملتا جلتا کسی زبان میں اس سرو کے درخت کو تراش کر اس کے تنے پر کچھ لکھ کر واپس بھاگ گیا لیکن اس تحریر کا راز ابھی تک نہیں کھل سکا۔ یسن ایک تاریخی علاقہ ہے یہ زیادہ تر چترال کے ساتھ رہاہے چونکہ مستوج سے یسن تک ایک ہی راجہ کی حکومت زیادہ تر رہی ہے گلگت بلتستان کی مشور لڑائی( جنگ مڈوری) جوکہ مقامی لوگوں اور سکھوں کے درمیان لڑی گئی تھی یہ ایک نہایت مضبوط قلعہ تھا اور ایک بلند ٹیکری پر دریا سے ایک سرنگ کے ذریعے جوڑا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ ایک مقامی شخص کو دشمن نے اپنے ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل کیا اور سرنگ کا دشمنوں کو پتہ چل گیا اور اس لڑائی میں گلگت بلتستان کے کچھ لوگ بھی ایک راجے کی قیادت میں شامل تھے۔ سکھوں نے اس مقامی شخص کی مدد سے قلعے میں داخل ہو کر یہاں کے مسلمانوں کو اس بیدردی اور سفاکی سے قتل کیاتھا کہ انسانیت بھی شرما گئی ہوگی۔چونکہ یہ لوگ غازی گوہر آمان جب تک زندہ تھا یسن تو درکنار بونجی بھی کراس نہ کر سکے تھے اب گوہر آمان کو مرے کم عرصہ ہی گزر گیا تھا تو سکھوں نے نہتے لوگوں کا قتل عام کرکے اپنے پے در پے گوہر آمان کے ہاتھوں ہو نے والی شکست کا بدلہ لیا۔ غازی گوہر آمان کی حکومت واخان سے چترال تک اور دوسری جانب بگروٹ ، کوہستان، اور یاغستان تک قائم تھی۔اس مرد مجاہد نے یسن والوں کی قیادت کرتے ہو ے ایک بھی غیر مسلم کو سرزمین گلگت پر قدم نہیں رکھنے دیا۔شر و ٹ شکیؤٹ کا معرکہ ہو یا بھوپ سنگ پڑی کا یا تھما رائے برکولتی میں قرغز کے ساتھ لڑائی ہر جگہ اس کی قیادت میں یسن والوں نے شجاعت کے جھنڈے گاڑھ دیئے تھے۔گوہر آمان نے گلگت کو غیر مسلموں سے محفوظ رکھا تھا ۔ اس کی موت بھی ایک معمہ ہے بہر حال کہا جاتا ہے کہ اس نے آخر وقت میں اپنے قیدی بیٹے شاملک آمان کی رہائی کا حکم دیا جسے گوہر آمان نے گاہکوچ کے مقام پر قید کر رکھا تھا ۔ بیٹا نے باپ کو موت کی آغوش میں دیکھ کر خوش ہوا اوریسن کی طرف کوچ کر گیااور گوہر آمان اپنے مالک حقیقی سے جا ملا اور اس طرح شاملک آمان نے تخت حکومت حاصل کیا ۔ گوہرآمان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ جب سکھوں نے قلعہ مڈوری میں قتل عام کے بعد واپسی پر چیترنگ کے مقام پر پہنچے توان کو گوہر آمان کی قبر کی بے حرمتی کرنے کا خیال آیا اور جب سکھوں کا پہلا جتھہ غازی گوہر آمان کے قبر کے نزدیک پہنچا تو اس کے قبر کو ارتعاش آیا اور ایسا جھٹکا لگا کہ سکھ فوج نے یہ کہہ کر بھاگنے میں عافیت جانا کہ گوہر آمان مر کر بھی ان کیلئے خطر ناک ہے لیکن جب دوسرا جتھہ اسکے قبر کے نزدیک پہنچا تو اب کے بار قبر شق ہو کر اس کے اندر سے بڑی تعداد میں شہد کی مکھیوں کی طرح کے بھڑ یعنی تمبوڑیوں نے نکل کر سکھوں پر حملہ کیا اور یاسین کی حدودچھیلی ہرنگ تک ان کا پیچھا کیا اور پھر جب تک ڈوگروں کی حکومت گلگت میں رہی اُن کی جرات نہ تھی کہ یسن کا رخ کریں۔غازی گوہر آمان پوری عمر سکھوں کے خلاف جہاد کرتا رہا تھا اسلیے اس کے قبر نے بھی سکھوں کو برداشت نہیں کیا ۔ (جاری ہے۔۔۔۔۔۔ )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔