چترال میں سیلاب سے مسجد شہید، امام مسجد اور فوجی جوانوں سمیت 31 افراد جان بحق، 17افراد کی لاشیں دریا چترال سے نکال لی گئی

چترال ( بشیر حسین آزاد ) ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب 27رمضان المبارک کی رات پاک افغان بارڈر سے ملحق اُرسون گاؤں میں طوفانی بارش ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں 31افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ۔ مقامی گاؤں پیتاسوں کے لوگ ایک مسجد میں نماز تراویح پڑھ رہے تھے کہ سیلاب آیا ۔ اور مسجد کو شہید کرکے امام مسجد سمیت پندرہ افراد کو بہا کر لے گیا ۔ سیلاب سے کئی مکانات بھی بہہ گئے ۔ اور مردو خواتین و بچے سیلابی ریلے کی نذرہو گئے ۔سیلاب نے پاک آرمی کے سی ٹی پوسٹ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ، اور ایک حوالدار ایک سپاہی اور 6فالور بھی سیلاب کی نذر ہو گئے ۔ جبکہ چار جوان زخمی ہوئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 6افراد بھی شامل ہیں ۔ جن میں ماں باپ تین بیٹے اور ایک بیٹی جان بحق ہوئے ۔ پاک آرمی کے پوسٹ پر موجود 23خچر جو پوسٹ کیلئے راشن لے جانے اور دیگر سامان کی بار برداری کیلئے موجود تھے ۔سیلاب میں بہہ گئے ۔

سیلاب سے اُرسون گاؤں میں جان بحق ہونے والوں میں علیم اللہ ، نعیم اللہ ، محب اللہ پسران گل زرین ، عبد اللطیف ولد خان محمد ، شفیق ولد سید محمد ، ذاکر ولد عزیزاللہ ، نور محمدولد نور اسد، عبدالسلام ،ذاول پسران گل محمد 8فوجی جوان اور کچی نسار گاؤں میں عثمان ، زوجہ عثمان اور اُسکے چار بچے سمیت مجموعی طور پر 31افراد جان بحق ہو گئے ہیں ۔ جن میں 6خواتین اور پانچ بچے بھی شامل ہیں ۔ تاہم بعض ناموں کا اندارج جاری ہے ۔ جان بحق ہونے والوں میں سے 17افراد کی لاشیں دریاء چترال سے نکال لی گئی ہیں ۔ ان میں سے 13 لاشیں افغان علاقہ ناڑئے سے ایک نگر چترال کے مختلف مقامات میں دریاء سے بر آمد کئے گئے ہیں ۔ جن میں سے دو کی تدفین کی گئی ، ناڑے میں بر آمد ہو نے والے لاشوں کو افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر ارندو پہنچا نے کے انتظامات کر لئے ۔ جہاں سے اُنہیں آبائی علاقہ اُرسون لا کر تدفین کئے جائیں گے ۔

DC and CO army visit to affected area

Tabah Shuda Masjid

اُدھر اُرسون میں شدید سیلاب سے ر وڈ بلاک ہو چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ۔ تاہم پاک آرمی ، ، چترال پولیس اور بارڈر پولیس امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں پاک آرمی کے کرنل وقار چیمہ نے تباہ شدہ چیک پوسٹ اور علاقے کا دورہ کیا ۔ اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ۔

ایم این اے چترال شہزادہ افتخارلدین ، چترال کے ضلع ناظم مغفرت شاہ ، ایم پی اے سلیم خان ڈی سی چترال اُسامہ احمد وڑائچ ڈی پی او چترال آصف اقبال نے سانحے کے مقام کا دورہ کیا ۔ اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ضلع ناظم نے سیلاب میں جان بحق بچے کے جنازے میں بھی شرکت کی ۔ سیلاب کی تباہی سے علاقے میں شدید خو ف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ اور لوگ انتہائی صدمے کی حالت میں ہیں ۔پاک آرمی کے ہیلی کاہٹر نے چار زخمی جوانوں کو ریسکیو کرکے چترال سکاؤٹس ہسپتال پہنچا دیا ہے ۔ سیلاب سے اُرسون میں 19گھروں کو مکمل 27گھروں کو جزو ی نقصان پہنچا ہے ۔ 53مال مویشی ،23خچرہلاک ہو گئے ۔ اُرسون وادی سے آنے والے سیلابی ریلے نے نشیبی علاقہ نگر میں دریائے چترال کا راستہ بند کر دیا ہے ۔ اور نگر کا پورا علاقہ بشمول قلعہ نگر جھیل کے پانی کی لپیٹ میں ہے ۔ کئی مکانات مصنوعی جھیل میں ڈوب گئے ہیں ۔ اور اس ائریے میں باغات و زمینات کا کٹاؤ شروع ہو گیا ہے ۔ اُرسون میں سیلاب سے بچ جانے والے افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں ، جنہیں فوری طور پر امداد فراہم کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ چترال نے متاثرہ لوگوں کیلئے خیمے اور خوراک اور دیگر امدادی سامان روانہ کر دیا ہے ۔

پاک آرمی کی طرف سے 50 ٹینٹ 150راشن موقع پر پہنچا دیے گئے ہیں ۔ جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن نے وہاں فوری طور پر کیمپ کھول کر امدادی کاروائیاں شروع کردی ہیں ۔ اور اب تک 50فوڈ پیکیج ،30بسترے50 ترپال اور بڑی مقدار میں میڈیسن فراہم کیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے 28ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے ۔ جبکہ دیگر ذرائع 31ہلاکتیں بتا رہے ہیں ۔

ضلع ناظم چترال نے اُرسون سیلاب سانحے کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے ۔ اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ کہ چترال ڈیزاسٹر ہٹ زون بن گیا ہے ۔ لیکن ان آفات کو ڈیل کرنے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر ، پراونشل ڈیزاسٹر اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا ۔ کہ اسلام آباد اور پشاور میں بیٹھے ہوئے آفیسران کو متاثرین کی مشکلات کا ذرا برابر احساس نہیں ہے ۔ اور آفت کے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو سب کی منٹ سماجت کرنی پڑتی ہے ۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے ۔ کہ چترال میں آفات س نمٹنے کیلئے ایک منظم سسٹم ہو نا چاہیے ۔ جن کے ساتھ ایکسپرٹ اور ٹیکنکل افرادی قوت ہونی چاہیے ۔ نیز تمام تر ضروریات کاشاخ چترال میں موجود ہوں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments