چترال کے سیلاب زدہ گاوں اُرسون میں 13افراد سپرد خاک، باقیوں کی تلاش جاری

چترال ( بشیر حسین آزاد) سیلاب سے متاثرہ اُرسون گاؤں کے لوگوں کو قدرت نے ایک بہت بڑے امتحان سے دوچار کردیا ہے ۔ جان بحق ہونے والوں کی تلاش جاری ہے ۔ برآمد ہونے والے نعشوں کی نماز جنازہ اور تدفین بھی ہو رہی ہے ، آفت زدہ گھروں کے کھنڈرات میں باقیات تلاش کئے جارہے ہیں ۔کہیں خوراک کا مسئلہ ہے ، تو کہیں پینے کے پانی کیلئے سیلاب زدہ پانی کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ گویا اس سیلاب نے ایک مختصر آبادی والے گاؤں کے لوگوں کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔سو گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں میں دو دنوں کے اندر 13افراد کو دفنایا گیا ہے ۔ جبکہ مزید نعشوں کی بر آمدگی کا انتظار ہے ۔ پورے گاؤں میں آفسردگی ہے ۔ کیونکہ سیلاب سے جہاں انسانی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں ۔ وہاں لاپتہ نعشوں کی تلاش متاثرین کیلئے مزید پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے ۔ پی ڈی ایم اے کی طرف سے جان بحق ہونے والے 13 مقامی افراد کی لاشیں برآمد ہونے پر انہیں 39لاکھ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے ۔ جبکہ 50خاندانوں کو ایک مہینے کا راشن جن میں آٹا، دال ،چینی ، نمک ، منرل واٹر ، ملک پیک وغیرہ دیے گئے ہیں ، اسی طرح نان فوڈ آئٹمز میں 50ٹینٹ 150لحاف اور 200چٹائی تقسیم کئے گئے ہیں ۔ پی ڈی ایم اے زیر کنٹرول ڈی ڈی ایم یو چترال کے مطابق سیلاب سے اُرسون گاؤں میں 19گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں اور 27 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی طرف سے 8ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان چترال پہنچ گئے ہیں ۔ جن میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کیلئے فوڈ اور نان فوڈ ائٹمز دونوں موجود ہیں ،جنہیں اُرسون پہچانے کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔منگل کے روزپورے چترال پر بادل چھائے رہے ۔تاہم پچھلے پہر تک تیز بارش کی کہیں سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ پھر بھی مقامی لوگ ممکنہ خدشات کے پیش نظر پی دی ایم اے کی ہدایات کے مطابق الرٹ ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments