وادی یاسین ۔۔۔۔ تیسری قسط

وادی یاسین ۔۔۔۔ تیسری قسط

48 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: جاوید احمد ساجد (گزشتہ سے پیوست)

ہیماز کے بول یہ ہیں:

(۱) تیلی تی تھمے بو ینیمی ۔

آعایش تھم بو غایا دوسیمی۔

آعایش بوبولیگاسے غندیشے ہش نل نیا اسکل چھے دی

یموہرہ ذل مایاغا غندش کا بری شولیمی ۔

سلہ ذل مایا غا پھلے پھلو شو لیمی۔

غندیشے چھیرش سرکیمی۔

پھلے سم سرکی می۔

ہن پھل چم تھہ پھل۔

تھہ پھلو چم تھہ تغر پھلو۔

خوشی غا گومن، گھر مینسا گومن۔

سیلہ گوچھہ ہیرہ گوچھہ سلہ قوٹی ملہ قوٹی ہیماز

(۲) ہیرے تلتر چھومرے،

حرے ایشپٹ چھومرے، حرے مدور ہیر ،

ہیرے مدور گُس، گُس مو مدور حشتک حورپ،

گُس مو موسکل تھُس، مو یٹیس یٹے چھشے بھُس،

سلہ قوٹی ملہ قوٹی ہیماز۔

(۳)شروٹم ہیرن دیمی، یک بے یک ؟

مغل بریسنگ، یہ یک بے یک ؟

مدور بریسنگ۔ یٹس بے رومِس ؟

حوچھ یانِس، اسکل بے رومت ؟

درچھ یانس، موش بے رومس ؟

برتنز یانس۔ تائنگ بے رچو؟

ہر غاس یانو کو، ایلچی مو بے ر چو ؟

جٹی مو یا نو کو، سلہ قوٹی ملہ قوٹی ہیماز

شو توما او چوم:  رسم تخم ریزی کے دن دیسی گھر کے اندر صفائی اورآرائش کا کام کیا جاتا ہے۔ دیسی چو لھے (آتش دان) کو جہاں پر آگ جلائی جاتی ہے، ایک خاص طریقے سے بنا یا جاتاہے ان کو شو تو ما کہا جاتاہے کو بھی ایک خاص قسم کی مٹی سے لیپائی کر کے سجایا جا تاہے یا( ری نیول) کیا جا تاہے اس کو شوتوما اوچم کہا جاتاہے۔

گو دیچُم (کھوار میں سوئی دِک):

گھر کی اندرونی چھت جوسال بھر آگ جلانے کی وجہ سے دھویں سے کالی پڑ جاتی ہے ہے کو بو یایوم کے موقع پر اس دھویں کی کالک کو جاڈو یا لکڑی پر کوئی کبڑا باند ھ کر صاف کیا جاتاہے۔ بعض جگہوں میں عورتیں یہ کام کر تی ہیں اور بعض جگہوں میں مرد حضرات اور اس بہانے اس دیسی گھر کی مکمل طور پر صفائی بھی ہو تی ہے۔

حہ اسقراکیم ( گھر کی گل کاریاں کرنا) :

جس طرح میں نے کہیں ذکر کیا ہے کہ اُس روز مکان کی صفائی کے بعد گو دے چم یعنی کالک کو صاف کرنے کے بعد باریک آٹے کی مدد سے اور مختلف سانچے بنا کر اس گھر کی سیلنگ پر رنگا رنگ گل کاریاں کی جاتی ہیں یا مختلف پھول بنائے جاتے ہیں جس کو حہ اسقرا کیم( گھر میں پھول بنانا) کہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ دیسی گھر دلہن کی طرح خوبصورت نظر آتا ہے اور تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو اس طرح سجاتے ہیں اور شادیوں کے مو قع پر بھی گھر کو گل کاریوں سے سجائی جاتی ہے۔ اور دیواروں پر چا ک کی طرح کی ایک مٹی سے مختلف جانوروں کی مگر زیا دہ تر مارخور کی تصویریں بنائی جاتی ہیں  Ha esqrakimbay

حہ اسقراکیم ( گھر میںگل کاریاں کی جا رہی ہے)

ہولُم بو(گر حریچُم):یہ ہلکا سا رسم ہے جو کہ ہر گھر میں سال کی پہلی کاشت کاری یعنی پہلا کھیت کاشت کر نے والے روز مکوتی پکا کر کھیت میں تمام برادری کو بلا کر کھلایا جاتا ہے اور دو چھوٹے بچوں کے چہروں پر آٹے سے نقش نگاری کرکے بیل بنا یا جاتا ہے اور وہ بچے بیل کی طرح ڈھکارتے ہو ے ایک دوسرے کو سر سے مارنے کی کوشش کر تے ہیں کھیت میں مکوتی کھانے کے بعد زیادہ فصل کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہیں اور مختلف دعائیہ کلمات پڑھتے ہوے یعنی اچھی فصل کی دعائیں ان الفاظ میں ادا کر تے ہو ے ( ہیرا گوچھا ،سیلہ گوچھا ، ہر تا گوچھا ) ایک دوسرے کو کھیت میں لٹانے کیلئے دھکے دیا جاتاہے یعنی گندم کا فصل زیادہ طاقت ور ہو تو ایک طرف لیٹا ہو ہاتاہے اور پھر گندم کی کاشت کاری کی جاتی ہے۔یہ مکو تی تر غٹ مکوتی ہو تی ہے اس میں دیسی گھی یا خوبانی اور اخروٹ کا تیل ڈال کر کھا تے ہیں

میراسیمو:

یہ ایک چھوٹی اور سادہ سی رسم ہے جو بکریاں چرانے والے گڈریوں کیدل جوئی کیلئے ادا کیا جاتا تھا۔ ہوتا یوں تھا کہ ہر سال موسم بہار میں یعنی تقریباََ مئی کے مہینے میں ہر گھر سے باری باری درم شپک (مکوک پقو) اس تعداسے دوگنی روٹیاں پکائی جاتی جتنی تعداد میں اس گھر میں بکریوں نے میگنے (بچے) دیئے ہوں دوسرے الفاظ میں دودھ دینے والی بکریوں کی تعداد سے دگنی یا یہ کہیں کہ ہر دودھ دینے والی بکری کے حساب سے دو دو روٹیاں پکا کر دیسی گھی میں خوب بگو کر اور ایک مشک میں لسی کے ساتھ گڑریوں کو دیا جاتا وہ جمع ہو کر کھاتے او ر مختلف کھیل وغیرہ کھیلتے اور بعض معزیزین کو بھی کھانے پر مدعو کرتے اور گھر والو ں کیلئے دعائے خیر کرتے۔

ترہ چھرم: (اونچے چراگاہوں میں جانا) جون کے کسی بھی تاریخ کو تقریباََ یاسین بھر کے لوگ اپنے مال مویشی اور بھیڑبکریاں لے کر نالوں میں گرمیوں کی چراگاہوں میں جاتے ہیں اور اس سے پہلے والے روز ہر آدمی اپنے مال مویشیوں کے سینگھو ں کو تیل لگاتا ہے گھریلو سامان کو کسی پیٹی ، تھیلہ یا کسی ٹوکرے میں بند کرتا ہے شام کے کھانے میں حسپ توفیق مختلف کھانا پکایا جاتا ہے اور ایک دوسرے کو خاص کر بزرگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور پھر صبح سویر ے اند ھیرے منہ اٹھ کر پہلے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ لے کر کچھ لوگ جاتے ہیں اس کے بعد گائے بیل وغیرہ لے کر دوسرا گروپ نکلتا ہے اور پھر پہلے گدوں اور گھوڑوں پر Sharbatسامان لادھا جاتا تھا مگر آج کل زیادہ تر ٹریکٹروں میں سامان لاد کر عورتیں بچے اور بوڑھے اس میں سوار ہو کر نالے کی راہ لیتے ہیں اور پھر نالے میں پہنچ کر جھونپڑیوں کو درست کیا جاتاہے اور اپنے اپنے مال مویشی اور بھیڑبکریوں کو ان افراد کو دکھایا جاتاہے جنھوں نے ان کے ساتھ تین مہینے تک نالے ہیں رہنا ہو تا ہے اور باقی لوگ لکڑی وغیرہ لے کر واپس جت بر کے کٹشکو ( جونپڑیا) اپنے گھروں کو لو ٹتے ہیں۔اور شام کو ایک مخصوص قسم کا ڈش پکایا جاتا ہے جس کو خمالو کہا جاتاہے جو کہ سب لوگمشترکہ طور پر اپنااپنا حصہ اس ڈش میں شامل کرتے ہیں اور کسی ایک جگہ پکا کر ملکر کھایا جاتا ہے ، اس طعام کو شربت کہا جاتا ہے جو کہ نمکین حلوہ ہو تا ہے۔

(نیچے دی گئی تصویر نالہ قرقلتی (تر) کے حرایو غرچم سے لے کر مکولی اور حغوست بر کیہے ، حرا یو غر چم سے متعلق کہا جاتاہے کہ یہاں حرایو قوم کے کچھ گھرانے طوفان میں غرق ہو ے تھے تو اس نسبت سے یہ نام رکھا گیا ہے۔)

harayoo ghucham se makooli ka nazara

حرایو غرچھم ( حرایو قوم کے غرق ہونے کی جگہ)

ترقیش:

یہ رسُم حلقہ سلگان میں خا ص کرہندور میں منایا جاتا ہے یہ وہ رسُم ہے جسے ہنزہ والے گینانی کہتے ہیں اور پونیال والے شیشو گھوٹ کہتے ہیں یعنی جب جو کا خوشہ دانے مکمل کرتاہے اور فصل پکنے کے قریب ہوتا ہے تو کچھ خوشے کاٹ کر گھر لایئے جاتے ہیں ان کو شیری دنگ ( ستون) کے ساتھ لٹکایا جاتا ہے اور اومہ کر کے تیل ان کے اوپر چھڑ کایا جاتا ہے اور پھر مکوک پقو( درم شپک) اور مولیدہ پکا کر ایک دوسرے کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور خوب کھایا پیا جاتا ہے مثل مشہور ہے کہ ایک چترالی ترقیش کے دنوں میں ہندور آیا اور ہر گھر میں جس نے بھی بلایا دبا کرمکوک پقو( درم شپک) کھاتا رہا اور نتیجہ بسیار خوردن ترقے جنکھیند ن والی بات ہو گئی اور کسی نے پوچھا کہ کیا ہو ا تو جواب دیا کہ ورچیکن ترقیش مہ اویوی یعنی یاسین والوں کی ترقیش نے مجھے کھایا ہے ۔ یعنی تکلیف دیا ہے ۔

لفظ ورچک:

یسن کے لوگوں کو چترال والے ورچک برشاسکی میں بروشو کہتے ہیں جو لفظ بروشو کے اپنے اپنے زبان میں ترجمہ ہے۔ یسن کو ورچیگھوم بھی کہا جاتا ہے اسکی صداقت کیا ہے خدا جانے لیکن کہتے ہیں کہ یسن پرانے وقتوں میں انتہائی امیر علاقہ تھا تو کوئی چترالی یاسین آکر واپس چترال نہیں گیا تو چترالیوں نے اسے ورچی گھوم یعنی علاقہ ورچھ چترال کا ایک گاوں ہے وہاں سے کوئی بندہ یاسین جاکر گم گیا تو ورچھی گھوم (ورچھ کا بندہ گم گیا)کہہ کر پکارنے کی وجہ سے ورچی گھوم بن گیااور کوئی کہتا ہے کہ بروشو کو کھوار میں ورچک کہتے ہیں اس لئے ورچی گھوم یعنی ورچک قوم کا جائے سکونت ہے وللہ عالم باصواب۔

ساعت گیر(اُرین ایچُم)،یعنی ایل یٹہ بسمل ایچُم:

جب گندم کا فصل پک کر تیار ہو جاتا ہے تو ایک عدد مرغی یا مرغا جو بھی توفیق ہو کھیت کے کنارے لے جا کر جہاں سے پانی کھیت میں سیراب ہونے کیلئے چھوڑا جاتاہے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر گندم کی کٹائی شروع کیا جاتا ہے اور اس رسُم کو سحت گیر کہا جاتاہے یعنی رسم بسم اللہ کہہ سکتے ہیں پھر اس چکن کو پکا کر گاوں کے کسی بزرگ کو بھی بلا کر شریک طعام کیا جاتا ہے اور پھر گندم کی عام کٹائی شروع کیا جاتا ہے لیکن اس کام کیلئے کسی خلیفہ ( عالم) سے نیک ساعت کا مشورہ ضرور لیا جا تاہے تاکہ اس مطابق فصل کی کٹائی شروع کیا جائے۔

گر اُہلچی کی(گندم کی نئی فصل پہلی مرتبہ کھانا):

جب گندم کو کاٹ کر بریچم( تھریشنگ) کیا جاتاہے تو جتنا جلدی ہو سکے کچھ گندم پیس کر لایا جاتا ہے اور پھر جتنا بھی توفیق ہو مرغیاں یا مرغے ذبح کر کے سارے گاوں والوں کو بلا کر کھلایا جاتا ہے اور باری باری ہر ایک ایسا کر تے ہیں یہاں تک کے سب برادری ا پنا باری چکاتے ہیں ۔

بیششک گلی:: بیششک بروشاسکی میں درانتی کو کہا جاتاہے اور بیششک گلی سے مراد لفظی ترجمہ کے لحاظ سے درانتی چلا گیا یعنی مراد یہ ہے کہ درانتی سے کٹائی کا موسم ختم ہو گیا اس روز بھی دیسی کھانے پکا کر ہر گھر میں اپنے باری پر اپنے درانتی کی کٹائی کو ختم کر تے ہو ے تمام گاوں والوں کو بلا کر ملکر کھاتے اور خوشی محسوس کرتے اور مل جل کر رہنے کا ایک اور بہانا ہاتھ آاجاتا۔ یہ رسم اس روز کیا جا تاہے جب درانتی سے کٹائی کا کوئی کام موجودہ سال کا نہیں رہتاہے یعنی موسم خزاں کے تقریباً اختتام پر جو کہ زمیداری کا کام ختم ہو چکا ہو تاہے۔

تیرم دوسوکیچُم:

جیسا پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں مال مویشی لیکر بالائی چراگاہوں میں جایا جاتا ہے اس طرح جب نالوں میں سردیاں شروع ہو جاتیں ہیں تو دوبارہ مال مویشیوں کولے کر واپس اپنے گاوں لوٹتے ہیں یعنی تر سے واپس آتے ہیں اور اس کا طریقہ کار اس طرح ہے کہ ایک ہفتہ پہلے سامان لانے کیلئے جاتے ہیں اس کو بلدینگا سیرم(چھرم) یعنی سامان کیلئے جا نا کہتے ہیں اور جتنے لوگوں کے مال مویشی ہیں وہ سب کے سب مختلف تحفے تحائف لے کر اور جو لوگ بال بچوں سمیت تر (نالے) میں ہیں ان کیلئے خاص کر عورتوں کیلئے نئے کپڑ وں کا تحفہ بھی سا تھ لے کر جاتے ہیں اور پھل فروٹ بھی کافی مقدار میں لے جاتے ہیں اور رات کو اپنے اپنے حصے کا گھی جو بھی ہو کو ہلی (جوش) میں باندھتے ہیں اور اپنے سامان اور برتن بھی باندھ کرتیار کر کے دوسرے دن سویرے واپس جاتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔