ديامرکے دفاتر کی حالت زار

ریاض الحق

گزشتہ رمضان چلاس ميں تھا ايک دن ميرے ايک دوست کا فون آيا کہنے لگا يار ميں نے اپنا ڈوميسايل بنواناھے آپ ميرے ساتھ چلے۔ باقی سارا کام ہو گيا ھے تحصيلدار سے آگے ويریفيکشن کرانی ھے ۔  ميں  ںے اس کو صبح10:00بجے کا وقت ديا آو دونوں چلتے ھيں۔  اگلے دن 10:30 کو ہم تحصيلدار کے دفتر کے باہر کھڑے تھے تحصيلدار موجود نہيں تھا۔ دفترکے آس پاس کی حالت ديکھنے کے قابل نہ تھی۔ پتھروں اور گندگی کے ڈھرلگے ہوے تھے- ہم انتظار کرنے لگے کچھ لوگ اوربھی گرمی ميں چھاؤں ميں بيٹھ کرانتظار کر رہے تھے۔ کچھ وقت  گزارنے کے بعد پتہ چلا بيٹھے  ہوے لوگوں ميں ايک اس دفتر کا کلرک ہے ۔اس کی حالت اور کپڑوں کو ديکھ کر ہم اس کو صفاۂی والا سمجھ بيٹھے تھے- دس منٹ بعد ہم کلرک کے دفتر ميں داخل ہوے تو وہی شخص ايک سا ءوتھ  انڈين فلم ديکھتے ہوے ڈيوٹی کر رہا تھا۔ايک گنٹھے بعد کام ہوگيا ۔پھر ہميں ويریفيکشن کے لہءے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر جانا پڑا -اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر ميں انتظار کرنا پڑا ۔کلرک کام نہیں کررہے تھے۔ صرف انر باہرگوم رہے تھے۔کلرک ہميں انتظار کراتے رہے۔ دفتر کے انرر سٹاف کے لوگ اسسٹنٹ کمشنر سے تنگ تھے۔اس کی ٹراسفری کے لّءے دعا کر رہے تھے۔ کافی انتظار کے بعد کلرک پر غصہ ايا وہ ہمارا کام نہيں کر رہا تھا۔ ميں اسسٹنٹ کمشنر سے کلرک کی شکايت کرنے نکا تو فورا” مجھے آکر پکڑنے لگا۔اور 5 منٹ ميں کام مکمل کرکے ديا۔ اس کےبعد  ڈپٹی کمشنر کے دفتر آيا تو پتہ چلا کام والا کلرک نکل چکا ہے۔    حلانکہ يہ ڈيوٹی کا وقت تھا۔۔

يہ ميں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ کچھ عرصہ پہلے وزيراعلی گلگت بلتستان کو گلگت کے دفاترمیں چیکنگ کرتے دکھايا گيا تھا۔ اگروزيراعلی گلگت بلتستان  ايک بار اس ضلع کے دفاتر کا دورہ کر  ے تو شائد تبديلی ممکن ہوسکے ۔ چلاس کے سڑکوں کو تو چھوڑو ان کا تو خدا ہی حافظ   ہے

وزيراعلی کے نام۔                                                                                                  ۔

             چلاس کے سڑکوں کو تو اپنوں نےخدا حافظ  کر ديا
آپ توحفيظ اور حافظ  ہو کيا آپ نےبھی خدا حافظ  کر ديا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments