گلگت بلتستان میں ٹریفک حادثات سے بچاو کے لئے چند احتیاطی تدابیر

گلگت بلتستان میں ٹریفک حادثات سے بچاو کے لئے چند احتیاطی تدابیر

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اے بی گوہر

پے در پے ٹریفک حادثات میں گلگت بلتستاں کے عوام رواں سا ل درجنوں قیمتی جانیں گنوا چکی ہیں جو کہ پچھلے سالوں کی نسبت بہت زیادہ ہے ان دردناک واقعات میں سےحال ہی میں نوربخشی برادری کا روحانی پشیوا بوا فقیرابراہیم کی موت کا المنا ک حادثہ شامل ہے۔

ذیل میں ایسےحادثات کی وجوہات اوران سے بچنے کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت اور عوام سے چند گزارشات ہیں جن پر عمل کرکے اسطرح کے واقعات میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔۔۔

گلگت بلتستان میں تمام سڑکوں کی اپ گریڈیشن از حد ضروری ہے جوکہ حکومت ِوقت کی ذمہ داری ہے۔زیادہ تر روڈ جن پر چند سال پہلے اکا دکا گاڑیاں نظر آتی تھیں، اب وہاں پر گارڑیوں کی لائنیں لگی رہتی ہے اورتمام سڑکوں پر بوجھ برداشت سے زیادہ ہے۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں 12لاکھ کی کاریں جو کہ اب 2 لاکھ میں دسیتاب ہے اور ایسی گاڑیاںاب عام لوگوں کی قوتِ خریدمیں ہے جو لوگ چند سال پہلے بائی سائیکل کا بھی سوچ نہیں سکتے تھے اب اپنی ذاتی گاڑی ہےمگر نان کسٹم گاڑیاں جتنی سستی ہے اتنی جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے ۔چونکہ کسٹم سے بچنے کے لیے گاڑیوں کے اعضا الگ الگ کر کےبیرون ملکوںسے پاکستان منتقل کیے جاتے ہیں بعد میں الٹریشن کر کے فیٹنگ کی جاتی ہے جو کہ ناپیدار اور کمزور ہوجاتی ہے اور کسی بھی نازک موڑ پر اپنے اصلیت دیکھادیتی ہے لہذا NCP گاڑیوں پے پابندی لگا دی جائے۔۔۔

گلگت بلتستان میں این سی پی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بغیر ٹیسٹ اورتجربے کے محض چند ہزار روپے کے عوص ڈرئیونگ لائنس بھی مل جاتی ہے جس کہ وجہ سے سڑکوں پر ہر دوسرا شخص گاڑیاںدوڑاتے نظر آتے ہیں۔ جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔حا دثات کا ایک اہم وجہ غیر تربیت یافتہ ڈرئیور حضرات بھی ہیں۔حکومت کو ان اداروں کو ڈرئیونگ قوانین پرسختی سے عمل درآمدکرانے کے لیے قدم اٹھانا چاہیے۔۔۔۔

حادثات کا ایک اور وجہ ملک کے دوسرے حصوںکار بکنگ کر کے آنے والےسیاح حضرات ہیں جو کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے رینٹ والوں سےکار بکنگ پہ لے آتے ہیں اوراکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ان کاروں کے ساتھ غیر تربیت یافتہ اور گلگت بلتستان کی راستوں سے ناواقف ڈرئیوروں کو بیجتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کی ان خطرناک پہاڑی راستوں پہ ڈرئیو کرنے کے لیے تجربہ اور مہارت اورجگر گردےوالے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں سفر کرنے کے لیے موسم کی صورت حال سے بخوبی معلومات ہونا بھی ضروری ہے کسی بھی وقت موسم خراب ہونے کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ اور نالوں میں طغیانی کی صورت حال بن جاتی ہے جس سے سفرکرنےوالے پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے مد نظر سفر کے دوران ضروری سفری سامان مثلاـ گاڑی کے اوزار ،خوراک، گرم کپڑے، سیلپنگ بیگ اور فرسٹ ایڈ بکس وغیرہ ہمیشہ ساتھ رکھنا چاہیے۔۔۔۔

سفر کرنے والوں کوسکردو گلگت روڈ پر روڈ کی صورت حا ل سےبروقت آگاہی فراہم کرنے کے لیے لیےحکومت کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جن میں روڈ کے اطراف میں ضرری ہدایات، موبائل کمیونیکشن ٹاور کی تنصب اورایف ایم ریڈیوکے زریعے اطلاعات وغیر ہ شا مل ہیں۔۔۔۔

راولپنڈی سے سکردو اوردوسرے لانگ روٹ پر سنگل ڈرئیورسے کام چلانا نہایت خطرناک کا م ہے حکومت کو چاہئے کہ ٹرانسپورٹ اورٹوورکمپنیوں کواس بات پرعلم درآمد پرعمل یقینی بنائےکہ وہ لانگ روٹس پرسکینڈڈرئیور رکھے۔۔۔۔

ٹرانسپورٹرز کی یہ شکایت بھی بجا ہے کہ مسافر حضرات بہت زیادہ سامان ساتھ لیتے ہیں جو کہ ان دشوار گزار اورسنگلاح پہاڑی راستوں پر حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ زیادہ سامان ہونے کے صورت میں گارگو کرنا بہتر ہےتاکہ آپ کی سفر بخیروعافیت ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔