صحت انصاف کارڈ 

صحت انصاف کارڈ 

89 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

صحت انصاف کارڈ خیبر پختونخوا کی حکومت کا انقلابی پروگرام ہے اس پروگرام پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی مطلوبہ سہولتیں فراہم کی گئیں تو خیبر پختونخوا کے غریب عوام کو ناروے ، سوئیڈں اور دیگر فلاحی ریاستوں کی طرح علاج کی مفت سہولت حاصل ہوجائیگی اکسیڈنٹ کامریض نجی ہسپتال پہنچا یا جائے تو اس کے تیمارداروں سے کثیر ویلٹی میں دو لاکھ روپے جمع کر نے کا تقاضا کیا جاتاہے پہلے دو لاکھ روپے ، اس کے بعد مریض کا بلڈ پر یشر دیکھا جائیگی نبض پر ہاتھ رکھی جائیگی اگر زندہ ہے تو علاج پر غور ہوگا اگر پیسہ جمع کر نے دوران جہان فانی سے عالم جاو دانی کو سد ھار گیا تو نبض دیکھنے والے ڈاکٹر کی فیس اور دیگر اخراجات کے ساتھ وقت ضا ئع کر نے کا جر مانہ کا ٹ کر بقیہ رقم واپس کی جائیگی اگر مریض کو داخل کیا گیا تو ایکسرے ، لیبارٹری وغیرہ کو سہولتیں دی جائینگی اکسیڈنٹ کا یہی مریض اگر سرکاری ہسپتال کی کثیر ویلٹی میں لے جا یا گیا تو اس کا داخلہ کے لئے 20 دن ، ایکسرے کے لئے 16 دن اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے 10 دن کا وقت دیا جائے گا گروہ ، اپنڈکس یا سپا ئنل انجر ی کا مریض اگر اتنی مدت تک ایڑیاں رگڑ رگڑ کا زندہ رہا تو علاج ہوگا ورنہ موت کا یک دن معین اور مقر ر ہے یہ دن ہسپتال میں لکھا گیا تھا موت کو بھلا کو ٹال سکتا ہے

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا !

حقیقت یہ ہے کہ ہسپتال میں سہولت موجود ہو تو ’’ صحت انصاف کارڈ‘‘ مریض کے کسی کام نہیںآئے گا اس وقت صوبے کے بڑشیر ی کئیر سنٹر وں میں علاج معالجہ کی سہو لتوں کی ختم کر دیا گیا ہے خود مختاری کے نام پر بڑے ہسپتالوں کے پورے سسٹم کو نا کارہ بنا دیا گیا ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں انفر اسٹر کچر کو برباد کر دیا گیا ہے جس خوش نصیب کو نجی ہسپتال کا صحت انصاف کارڈ مل گیا وہ مفت علاج کا فائد ہ اُٹھا سکے گا جس کو سرکاری ہسپتال کا صحت انصاف کارڈ ملا اُس کو کچھ بھی نہیں ملے گا صوبائی حکومت نے صحت سہولت پروگرام کے فیز ٹو کے تحت اس فلاحی پروگرام کا دائر ہ صوبے کے 25اضلاع تک بڑ ھا دیا ہے اس پر حکومت 536 ملین روپے خرچ کر رہی ہے جو 5 ارب 3 کروڑ 60 لاکھ کے برابر بنتی ہے پروگرام انشورنس سیکم کے ساتھ منسلک ہے حکومت ہر مریض کے لئے پر یمئیم ادا کرتی ہے علاج کا خرچ انشونس کمپنی برداشت کر یگی اس غر ض سے سروے کر نے کے بعد ہر ضلع کی نصف آبادی کو کارڈ فراہم کیا جارہا ہے یہ وہ آبادی ہے جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے یعنی گھر میں کمانے والا کوئی نہیں اگر ایک کمانے والا ہے تو دو معذور افراد ، دو بوڑھے شہری اور کم از کم چا ر سکو ل جانے والے بچے یا بچیاں گھر میں ہیں اس خاندان یا کنبہ کے 8 افراد کو انشورنس کمپنی مفت علاج کی سہولت دیگی یہ ایک اہم سکیم ہے جس کے تحت ہر خاندان کو سالانہ 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک کا علاج مفت ملے گا اور فیز ٹو کے تحت صوبے کی 50 فیصد آبادی اس سکیم سے فائد ہ اُٹھا ئے گی اگلے مرحلے میں سرکاری ملا زمین کو بھی یہ سہولت دی جائیگی گل امان خان کا خاندان اس سہولت سے فائد ہ اُٹھا نے کا استحقاق رکھتا ہے مگر اس کا گھر ضلع دیر ، سوات ، لکی مروت یا ڈی آئی خان یا چترال کے ایک گاؤں میں واقع ہے اس گاؤں کے قریب جو بی ایچ یو ہے وہ پی پی ایچ آئی کی تحویل میں ہے وہاں نہ ڈاکٹر ہے نہ لیبارٹری ہے نہ ایکسرے ہے ، تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال 150 کلو میٹر دور ہے وہاں ایکسرے مشین ہے بجلی نہیں ، لیبارٹری ہے اپر یشن تھیٹر اورسرجن نہیں لیڈی ڈاکٹر نہیں ڈینٹل سرجن نہیں ڈسڑکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال 300 کلومیٹر دور ہے کچی سڑک پر 12 گھنٹے کا راستہ ہے وہاں ایم آرآئی نہیں سی ٹی سکین کی سہولت نہیںیو این کلچر جیسا معمولی ٹیسٹ بھی نہیں ہوتا

اگر گل امان خان کو سرکاری ہسپتال کا انصاف کارڈ ملا تو وہ انصا ف کے لئے کہاں جائے گا ؟ اس کو کس جگہ انصاف تلاش کرنا ہوگاصوبائی حکومت کو بھی اس بات کا علم نہیں کہ محکمہ صحت کا پورا انفراسٹر کچر تباہ ہو چکا ہے تحریک انصاف کے چےئر مین عمران خان کے علم میں بھی یہ بات نہیں لائی گئی کہ صوبے کے اندر ہسپتالوں کا پورا نظام برباد ہوچکا ہے جس ہسپتال کو کٹیگر بی کا درجہ دیا گیا اس میں کٹیگری ڈی والی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں ہماری حکومت کہتی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ایکسرے ، لیبارٹر ی ، ڈاکٹر ، اپریشن تھیٹر ، بجلی اور ٹیکشین وغیرہ لانا ممکن نہیں ضلع چترال میں ایک بی ایچ یو اور دو آر ایچ سی یونٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آغا خان ہیلتھ سروس کو ئیے گئے ہیں اور اس ادارے جہاں ساری سہولتیں فراہم کردیں جو حکومت کے لئے نا ممکن قرار دی گئی تھیں علاج معالجے کا نظام جدید مشینری کا تقاضا کرتا ہے ان مشینوں سے کام لینے کے لئے آپ کو قابل ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے انفراسٹر کچر مل جائے ، ڈاکٹر آجائے تب ’’ صحت انصاف کارڈ ‘‘ کام دے سکتا ہے انفراسٹرکچر نہ ہو ، ڈاکٹر نہ ہو تو صحت انصاف کارڈ کے ذریعے گل امان خان کے کُنبے کو صحت کی سہولت کہاں ملے گی اور کس طرح ملے گی ؟ نیپال کا وزیراعظم ہفتے میں ایک دن کسی پہاڑی گاؤں کے ایک غریب کنبے میں گذار تا ہے بغیر پروٹوکول کے وہاں جاتاہے اس کنبے کی دال ساگ جو بھی ہے وہ کھاتا ہے اس کنبے کے چھوٹے کمرے میں رات گذارتا ہے کنبے کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے اور کسی پروٹوکول کے بغیر واپس آکر بڑی شاہراہ پر اپنے پروٹوکول والوں کے قافلے میں شامل ہوجاتاہے اگر عمران خان یہ تجربہ کرلیں کسی چھوٹے گاؤں میں ایک دن یا ایک رات گذاریں ان کو پہاڑی اضلاع میں صحت کی سہولیات کا پتہ چل جائے گا پھر وہ ’’ صحت انصاف کارڈ‘‘ کسی کو دید ے تو یہ کارڈ کسی غریب کے کام آئے گا اس وقت حکومت کے دئیے ہوئے انصا ف کارڈ اور ہسپتالوں میں دستیاب سہولتوں میں کوئی مطابقت نہیں گل امان خان کے پاس انصاف کارڈ ہے جس پر 20 ہزار روپے کے مفت علاج کے لئے اس کو 40 ہزار روپے جیب سے خرچ کر کے سہولت والی پرائیویٹ ہسپتال تک جانا پڑتا ہے یہ صحت کا تقاضا تو ہے سہولت اور انصاف کا تقاضا ہر گز نہیں فیض نے اسی لئے کہا تھا

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گز ید ہ سحر
یہ وہ سحر تو نہیں کہ جس کا انتظار تھا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔