لالک جان شہید نشان حیدر ۔۔۔۔۔ پیدائش سے شہادت تک

لالک جان شہید نشان حیدر ۔۔۔۔۔ پیدائش سے شہادت تک

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔ دردانہ شیر

لالک جان شہید گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین ایک بعید ترین بستی ہندور میں ایک غریب کسان نیت جان کے گھر پیدا ہوئے نومولد کا نام لالک جان(سورج جیسا )رکھا گیا تب یہ بات کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگی کہ لالک جان سچ مچ جہاں تاب کی طرح نہ صرف اپنے دادا اور باپ کا نام روشن کریگا بلکہ ملک کے لیے بھی نام کمائے گا لالک جان شہید نشان حیدر کی والدہ فوت ہوچکی ہے والد نے دوسری شادی کرلی سوتیلی ماں لالک جان اور دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ خوب شفقت کا برتاؤ کرتی رہی لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے شروع کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ناردن لائٹ انفنٹری میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اور معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو اس کی چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے لالک جان نے اپنے چھٹی ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا ابو اب میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں لیکن چھ روز میں یہاں گھر میں گزارنے کی بجائے محاذجنگ پر گزارنا چاہتاہوں اور سوتیلی ماں سے کہا میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں شہید لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنی خون کا کا نذرانہ پیش کیا میرے لیے یہ بہت بڑا اعزا ز ہے کہ میں ایک شہید کا باپ ہوں لالک جان کے والد سے سب سے پہلے راقم نے انٹرویولیا یہ13اگست1999ء کا دن تھا جب راقم کو پتہ چلا کہ غذر کے ایک سپوت کو نشان حیدر ملنے والا ہے اس دن گاہکوچ سے راقم شہید لالک جان کے آبائی گاؤں ہندور کی طرف روانہ ہوا حالانکہ اس وقت شہید لالک جان کے والد کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ کل یعنی 14اگست کو ان کے شہید بیٹے کو ملک کا سب سے بڑا عسکری اعزاز سے نواز جارہاہے جب یہ خوشخبری ان کو دی تو ان کے یہ الفاظ تھے کہ میں بوڑھا ہوا ہوں تو کیا ہوا میرا جذبہ جوان ہے وقت آنے پر کارگل محاذ پر پہنچ جاؤنگا میرے شہید بیٹے لالک جان کو نشان حیدر ملنے کی جو نوید سنائی گئی ہے اس کو میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا

شہید لالک جان کی سوتیلی ماں محترمہ جور بیگم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے نے محاذ جنگ پر جام شہادت نوش کیا مادروطن کے لیے میرے بیٹے نے جو قربانی دی ہے اس پر مجھے فخر ہے حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے انھوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جسکی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے بحیثیت ایک جونیئر لیڈر انہوں نے اپنی جرات مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کردیئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی مئی1999میں یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھا اس موقع پر انھوں نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیے یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں حوالدار لالک نے اپنے سینئر افیسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کا اصرار کیا ایک انتہائی مشکل گزارپہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی جون کی آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان اور سلامتی سے بے پرواہ ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن زیرک لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرات کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھای نقصان پہنچایا سات جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائر گرادیا پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حولدار لالک جان اپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے

حولدارلالک جان نے جس بے باکی اور جرات مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مورچے کا بھر پور اور آخری وقت تک دفاع کیا اور دشمن کے پے درپے حملوں کو پسپا کیا اور اس کی مثال بہت کم نظر آتی ہے زخمی حالت میں بھی لالک جان دشمن سے نبردآزما رہے اور آخری وقت تک ملک کا دفاع کیا اس کی بے باکی حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر بعداز شہادت عطا کیا۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author