چلاس شہر کے بنیادی مسائل، حل کون کریگا؟ 

چلاس شہر کے بنیادی مسائل، حل کون کریگا؟ 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یوں تو چلاس شہر سینکڑوں مشکلات اورمسائل کے گرداب میں ہے،لیکن آج کل چلاس شہر میں بسنے والے لوگوں کو جن چار اہم اور بنیادی مسائل کا سامنا ہے راقم نے ان تمام اہم اور ضروری مسائل کی طرف ارباب اقتدار کی توجہ دلانے کیلئے قلم اُٹھانا مناسب سمجھا ہے ،چلاس اور اس کے مضافات میں رہائش پذیر ہزاروں آبادی والے اس شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے سب سے اہم مسلہ پانی کا رہا ہے ،اوراس اہم مسلے کو ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا،چلاس شہر کا دوسرا بڑا مسلہ شہر کے اندر صفائی و ستھرائی کا ناقص نظام ہے،اس بدقسمت شہر کا تیسرا اور چوتھا مسلہ صحت اور بجلی ہے ،جو اب تک سہولیات کی عدم دستیابی اور متعلقہ اداروں کی غفلت کی وجہ سے ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔50ہزار سے زائد آبادی والا یہ شہر شلکٹ تا زیرو پوئنٹ چلاس سے لیکر باب چلاس اور ہربن داس تک جتنی بھی آبادی آتی ہے مونسپل کمیٹی کا ایریا کہلاتا ہے ۔اس شہر میں کل ۸ مونسپل وارڈز ہیں ،اور یہاں سے مونسپل کمیٹی کے الیکشن میں 8ممبر منتخب ہوتے ہیں اور انہی 8ممبران کے اوپر ایک مونسپل چیرمین ہوتا ہے جو پورے شہر کے بلدیاتی نظام کو چلاتا ہے ۔مشرف دور کے بعد بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کے بلدیاتی سسٹم کو ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں بلدیاتی آفیسر چلاتا آرہا ہے۔چلاس شہر میں بلدیاتی انتخابات کے مختلف ادوار سے لیکر اب تک منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کی بے حسی ،غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے 1972سے اب تک یہ شہر زندگی کے ہر سہولیات سے محروم رہا ہے ،پیپلز پارٹی کا دور ہو ،مسلم لیگ کا یا پھر امریت کا دور ہو ضلع دیامر ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہوا ہے ،لیکن یہاں کے منتخب عوامی نمائندوں نے ماسوائے اپنی زاتی پراپرٹی بنانے کے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔1972سے کئی سال پہلے آباد ہونے والا شہر چلاس کے مکین اور باسی آج بھی پینے کے صاف پانی کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ،چلاس شہر کے 50فیصد محلے اور کالونیاں پانی کے مسائل سے دوچار ہیں ۔شاہین کوٹ چلاس ،جلیل گاوں،بوٹی ہیٹ،کے کے ایچ ایریا اور سرکل کالونی کے مکین صاف پانی کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ان محلوں کے مکین مسجدوں کے پائپ لائنوں سے پانی لانے کیلئے دن رات لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کررہے ہوتے ہیں ،لیکن ارباب اختیار کی بے بسی کم ہونے میں نہیں آرہی ہے اور ستم یہ ہے کہ دریائے بٹوگا اور دریائے تھک کے کنارے واقع اس شہر میں سب سے بڑا مسلہ اس وقت پانی کا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندے اس شہر میں اب تک پانی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے ،پانی کے مسلہ پر عوامی دہائیوں نے انتظامیہ کی انکھیں تو نہیں کھول سکے ،تاہم گزشتہ مہینوں سابق اسسٹنٹ کمشنر چلاس خرم پرویز جو آج کل اے سی گلگت ہیں کی کوشیشوں سے ایک نجی بینک نے چلاس شہر کیلئے پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلئے 22 ہزار فٹ پائپ لائن دینے کا اعلان کیا تھا ،جو ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے شہر کے مختلف محلوں اور کالونیوں میں بچھائے جائیں گے ، جس کا گزشتہ روز موجودہ اسسٹنٹ کمشنر چلاس ظہور علی نے باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے ۔مذکورہ 22 ہزار فٹ پائپ لائن چلاس شہر کیلئے تو ناکافی ہے ،انتظامیہ کو بینکوں پر انحصار کرنے کے بجائے عوامی مسائل کو سیریزلیتے ہوئے پورے شہر کیلئے جلد پائپ لائن بچھانے کیلئے اقدمات اٹھانے ہونگے اور منتخب عوامی نمائندہ کی طرف سے حالیہ دنوں رکھے جانے والا ۸اینچ پائپ لائن سکیم کو عملی جامہ پہنا کر پانی کے بحران پر قابو پایا جائے۔آجکل چلاس شہر میں صفائی و ستھرائی کے حوالے سے کچرے کے انبار پر نظر دوڑائی جائے تو لگتا ہے 60فیصد بھی کچرہ ٹھکانے نہیں لگایا جارہا ہے ۔چلاس میں ان دنوں مونسپل کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے نہ لگانے کے باعث شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نے شہریوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ان دنوں شہر کے گلیوں سمیت باب چلاس سے چلاس بازار کو لنک کرنے والی سڑک اور بٹوکوٹ روڈ پر بھی کچرہ ہی کچرہ دیکھائی دے رہا ہے ،جس سے پیدل چلنے والے افراد سمیت گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو بھی سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ۔چلاس شاہین کوٹ کی گلیوں اور دیگر مقامات پر کچرے کے لگے ڈھیر سے سڑکیں تک بند ہوگئی ہیں ۔ضلع دیامر کے ہیڈ کواٹرچلاس شہر کے مختلف محلوں فاروق آباد،سرکل کالونی،شاہین گاوں ،جلیل محلہ،ہربن داس،بازار ایریا،تاکیہ محلہ،سرکاری کالونی ،پرانا بازاراور دیگر محلے شدید متاثر ہیں ،جہاں کچرہ بڑھتے بڑھتے سڑکوں پر پھیلا دیکھائی دے رہا ہے ۔صفائی و ستھرائی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے رہائشی علاقوں میں کچرہ جمع ہونے سے مختلف بیماریاں پھیلنے لگی ہیں اور ہر محلے سے بدبوآرہی ہے اور تعفن پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔چلاس شہر کے مختلف محلوں اور کالونیوں کے اندر دن بدن بڑھتے کوڑا کرکٹ اور کچرے کا ڈھیر اور اس سے اُٹھتی بدبواور تعفن ضلعی انتظامیہ کی کارکردی پر ایک سوالیہ نشان ہے،وہاں عوام اور شہریوں کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ گلی اور سڑک میں پھنکنے کی بجائے محفوظ مقام پر ٹھکانے لگائیں ،کیوں کہ صفائی و ستھرائی ہم سب کی زمہ داری ہے ،صفائی و ستھرائی کے حوالے سے صرف انتظامیہ کو قصوروار ٹھہرا کر بحثیت شہری ہم بریالزمہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔اس لیئے اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنے میں مونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہے اور انتظامیہ کو بھی چاہے کہ وہ وہ ہر گلی کے نکڑپر کوڑا کرکٹ پھنکنے کیلئے ڈسٹ بین رکھے اور شہریوں کو ڈسٹ بین کا استعمال کرنے کا پابند بنائیں ۔اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے ہفتہ وار خصوصی سپرے کیا جائے تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔چلاس شہر میں صحت کی سہولیات کا بھی بڑا فقدان ہے ،چلاس کے سب سے بڑا ہسپتال میں 35ڈاکٹروں میں سے اس وقت صرف 6ڈاکٹر ڈیوٹی دے رہے ہیں ،باقی 35ڈاکٹر دیگر اضلاع میں موج مستیاں کرکے چلاس ہسپتال آکر ڈیوٹی کرنے سے انکاری ہیں ،ڈسٹرکٹ ہسپتال چلاس ضلع دیامر کا واحد ہسپتال ہے ،جہاں داریل تانگیر،بابوسر،تھک گوہرآباداور جگلوٹ سے مریضوں کو یہاں لایا جاتا ہے اور نزدیک پڑنے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم اور شاہراہ بابوسر پر ہونے والے حادثات کے زخمیوں کو بھی چلاس ہسپتال لایا جاتا ہے ،لیکن یہاں پر ڈاکٹروں کی کمی ادویات کی عدم دستیابی اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں اور یہاں کے عوام اپنے مریضوں کو ملک کے دوسرے شہروں میں لے جانے پر مجبور ہیں ۔اسطرح نالہ جات کے اندر قائم ڈسپنسریاں بھی مکمل طور پر فعال دیکھائی نہیں دے رہی ہیں ،جس کی وجہ سے دیامر کے لوگ اکسیویں صدی کے اس دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ایک طرف صحت کی سہولیات کے عدم دستیابی اور دوسری طرف چلاس اور اس کے مضافات میں گزشتہ کئی مہینوں سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا حرام کر دیا ۔چلاس شہر کو بجلی سپلائی کرنے والے فیزتھور،فیز۲ تھک اور فیز۱ بٹوگاہ کے پاور ہاوسس کی مشنری ہر ہفتے خراب ہوکر ناکارہ ہوجاتی ہے ،اورمتعلقہ ادارے کی غفلت سے کئی کئی مہینوں تک بجلی غائب ہوجاتی ہے ،مجموعی طور پر ضلع بھر میں کئی بجلی گھر ہیں لیکن محکمہ برقیات کی نااہلی سے شہر میں بجلی کا نظام بحال نہیں رہتا ہے ۔دیامر کے عوام کو اپنے علاقے کے مسائل کے حل کیلئے اپنے منتخب نمائندوں کے گریبان پکڑنا ہوگا اور حکومت سے اپنے حقوق چھین کر لینے ہونگے،ورنہ یہ عوامی نمائندے کبھی بھی آپ کے مسائل کے حل کیلئے آگے نہیں بڑھیں گے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔