بگروٹ ، حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل ایک خوبصورت وادی

 علی تاج

بگروٹ کئی چھوٹے بڑے دیہاتوں پر مشتمل ایک خوبصورت وادی ہے جو کہ گلگت بلتستان کے دارلخلافہ شہر گلگت سے صرف ٢٧ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

یہ وادی اپنے دامن میں کئی بلند و بالا چوٹیاں جن میں درن پیک سب سے نمایاں ہے سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اس وادی میں دلفریب سبزہ رار کیساتھ گلیشر بھی ہے جو کہ سیاحوں کیلیئے سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

مگر بدقسمتی سے اس وادی تک پہنچنے کا راستہ نہایت ہی دشوار گزار ہے۔ گلگت شہر کے قریب ہونے کے باؤجود اس وادی کے لوگ پکی سڑک سے ًمحروم ہیں۔ لوگوں کی شکایت ہے کی ان کو سب سے زیادہ مشکلات زچہ و بچہ کو ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال پہنچانے میں پیش آتی ہیں۔ اور کئی مایئں وقت پر ہسپتال نہی پہنچنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوئی ہیں۔

جناب آفتاب حیدر جوکہ دو دفعہ ممبر قومی اسمبلی رہ چکے کا تعلق بھی بنیادی طور پر اسی وادی سے ہے مگر وعدے کے باؤجود آنجناب بگروٹ کے عوام کیلیئے پکی سڑک نہی دے سکے۔ اس سے پہلے جناب جعفر شاہ بھی کئی بار پکی سڑک کا وعدہ کرکے منتخب ہوئے مگر ان کا وعدہ کھبی پورا نہی ہوا۔

اس دفعہ جناب ڈاکٹر اقبال نے بھی وادی بگروٹ کے لوگوں سے پکی سڑک کا وعدہ کرکے ووٹ بٹورے ہیں۔ اور تو اور جناب محمد شفیع خان بھی اپنے الیکشن مہم وادی کے لوگوں سے یہی وعدہ کرچکے تھے۔ یہ دونوں حضرات اس وقت اس حلقے سے ممبر اسمبلی ہیں، ان سے مودبانہ اپیل ہے کہ وادی بگروٹ سے کیا گیا وعدہ پورا کریں۔ اس وادی کو سب سے پہلے پکی سڑک دیں۔ اس سے نہ صرف وادی کے عوام کی سفری مشکلات آسان ہونگی بلکی سیاحوں گلگت شہر سے کو چند منٹوں کے فاصلے پر زبردست سیاحتی مقام مل جایگا۔ اس سے حلقہ تین میں معاشی سرگرمیاں شروع ہونگی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں گے۔

حلقہ تین گلگت کے عوام کیلیئے بگروٹ کے سیاحتی مقامات آمدن کے بہترین ذرائع ہیں جن کو استعمال میں لانا ابھی باقی ہے۔

آپ کی رائے

comments