مایوس ناظمین 

مایوس ناظمین 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ کا وہ جملہ صادق آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ’’ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی ‘‘ لوکل گورنمنٹ ایکٹ چاہے 2001 کا ہو یا 2015 کا وہ ایکٹ ہی ہوتا ہے اس ایکٹ سے توقعات بہت زیادہ وابستہ ہوتی ہیں آخر میں جا کر پتہ لگتا ہے کہ بات ہی دوسری ہے جس پر ’’ کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘‘ والا مقو لہ صادق آتا ہے 2001 کا لوکل گونمنٹ ایکٹ انقلابی قانون تھا جس کے تحت 3 ماہ کے اندر 11 محکمے ضلع کی سطح پر منتقل ہوئے ملازمین کی تنخواہ ، الا ؤنس ، ترقیاتی کام ، نا گہانی ضروریات کا فنڈ اور دیگر امور ضلع کے اندر حل ہوتے تھے صوبائی دارلحکومت پر کام کا بوجھ ہلکا ہوگیا تھا یہ سسٹم 2001 سے 2009 تک کامیابی کے ساتھ چلا سارے کام خوش اسلوبی کے ساتھ ہو رہے تھے 2015 کا لوکل گورنمنٹ آیا تو اس میں 2001 کے ایکٹ کو تبدیل کر کے نیبر ہُڈ کونسل اور ویلج کونسل کا نظریہ متعارف کر ایا گیا کم سے کم 2500 اور زیادہ سے زیادہ 6000 کی آبادی کو ایک کونسل دیدیا گیا اندازہ یہ تھا کہ یونین کونسل کے اختیارات اس دیہی کونسل کو ملینگے ایکٹ میں اس بات کاذکر تھا کہ دیہی کونسل کو اختیارات دئیے جائینگے لیکن انتخابات کو ایک سال چار ماہ گذر گئے دیہی کونسل کو اختیارات نہیں ملے اختیارات دارلحکومت میں بیٹھنے والے حکام کے پاس ہیں کاغذات میں فنڈ آتا ہے مگر عملی طور پر اس کا استعمال کر نے اور عوامی مسائل حل کرنے کا اختیار لوکل گورنمنٹ کے ڈائر یکٹر جنرل ، سکرٹری لوکل گورنمنٹ اور سکرٹری لوکل کونسل بورڈ کے پاس ہیں جوصوبائی دادالحکومت میں دربار لگاتے ہیں اگر یہ 1960 ، 1964 والا بلدیاتی نظام ہوتا تھا تو زیادہ فرق نہ پڑتا اُس نظام میں ناخواند ہ لوگ ، بزرگ شہری ، دیہاتی ملک ،ریٹا کرڈ حوالدار ، صوبیدار اور دوسرے با روزگار لوگ ممبر اور چےئر مین بن کر آتے تھے 2015 کے انتخابات میں ایم اے ایل ایل بی ، ایم کام ، ایم بی اے ، اور بی فارمیسی وغیر ہ پاس کر نے والے نو جوانوں کی بڑی تعداد ناظم اور کونسلر بن کر آگئی ہے یو تھ کونسلر وں کی اکثریت گریجویٹ ہے پولٹیکل سائنس اور انگلش لٹر یچر میں ماسٹر کرنے والے نوجوان سی سی ایس کا امتحان دینے کے بجائے یوتھ کونسلر منتخب ہوا ہے اس طرح خواتین کونسلروں میں انتہائی تعلیم یافتہ ، فعال اور درد مند دل رکھنے والی خواتین یا نو عمر بچیاں منتخب ہو کر آگئی ہیں دفتر کے افسر ان سے ملاقات نہیں کرتے، کلرک بھی اُن کے خط کا جواب نہیں دیتا ایک سال 4مہینے گذرگئے یہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر ے محوا انتظا ر ہیں کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے درخت پرکب شگوفے آئیں گے کب پھل لگے اور کب یہ پھل پکے گا سوا سال بعد مایوسی ہاتھ آگئی ہے کونسلروں اور ناظمین کے استعفے آناشروع ہوگئے ہیں ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان اختیارات کی جنگ ختم نہیں ہوئی ،تحصیل ناظم منتظر ہے کہ کب تحصیل کی سطح پر اختیارات اس کو ملیگے نیبر ہُڈ کونسل اور ویلج کونسل کے ناظمین نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ خاصا مایوس کن ہے یہ لو گ کہتے ہیں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے درمیان اختیارات کی جنگ ہورہی ہے این جی اوز کے پیسہ ہے وہ کمیونیٹی کے لئے کام کرنا چاہتی ہیں منتخب ناظمین کو ساتھ ملا کر کام کر نا چاہتی ہیں مگر ان کو ہر کام کے لئے سول اور ملٹری بیوروکریسی سے الگ الگ این او سی لینا پڑتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں اس کے لئے بہت اونچی سطح پر رسائی کی حاجت پڑتی ہے جو بڑے لوگوں کا کام ہے ناظمین اور کونسلروں کو خصوصی طور پر وہاں تک رسائی سے روکا گیا ہے ایک غیر تحریر ی قانون دیوار پر لکھا ہے کہ جہان بلدیاتی نما ئیندوں کا ذکر آئے وہاں دروازہ بند کرو کاغذات کو تالہ لگاؤ خیبر پختونخوا میں اب حساب کا وقت آگیا ہے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے صرف ڈیڑھ سال رہ گئے ہیں ایک بجٹ اور آنا باقی ہے 2018 میں انتخابات ہونگے ان انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت آگئی وہ بلدیاتی اداروں سے زیادہ ایم پی ایز ، ایم این ایز اور سینیٹر ز کا خیال رکھے گی اس طرح موجودہ ناظمین اور کونسلروں پر نئی ازمائش آئیگی اس طرح کا حساب رکھنے والے ناظمین مزید مایوسی کا شکا ر ہوچکے ہیں اور سب سے بڑی افتاد یہ ہے کہ پشاور کے نیبر ہُڈ کونسل کا ناظم ہو یا چترال اور شانگلہ کی ویلج کونسل کا ناظم یا کونسلر، بے شک وہ ایم اے ، ایل ایل بی ہو ، ایم کام یا ایم بی اے کی ڈگری رکھتا ہو اُس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے صوبے کی مخلوط حکومت مین تین جماعتیں ہیں کسی بھی جماعت کو کوئی قابل ذکر لیڈر ان کی بات سُننے پر امادہ نہیں ہے اردو میں اس کیفیٹ گٹھن اور انگریزی میں فر سیٹشن کہتے ہیں مرزا غالب کہتا ہے

وفا کیسی کہاں کا عشق ؟ جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

اگر چہ پی ٹی آئی کے پاس ڈیڑھ سال کا عرصہ ہے تاہم آڈھا سال انتخابی مہم میں گذر ے گا صرف سال کا عرصہ ایسا ے جس میں ناظمین اور کونسلروں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے معقول تجویز یہ ہے کہ پارٹی کی کو رکمیٹی کے اراکین جہانگیر ترین اور اسد عمر خیبر پختونخوا کو دو یا تین مہینے دیدیں مختلف اضلاع کا دورہ کرکے بلدیاتی نمائندوں کے کنو یشن منعقد کریں سول سول اور ملٹری بیو روکریسی سے ملاقاتیں کریں۔ پریس اور بار کے نمائندوں کو وقت دیں۔ اور لو کل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے مطابق بلدیاتی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرکے عوامی شکایات کا ازالہ کریں۔ اس طرح پارٹی کی کو ر کمیٹی کو بلین ٹری سو نامی اور دیگر منصوبوں کی مانیٹرنگ کا بھی موقع مل جا ئے گا۔ پی ٹی آئی کے چیر مین عمران خان کو بھی صوبے کے حالات سے آگاہی حاصل ہو گی ورنہ مقبول شاعر پر رو ہیلہ کے بقول یہی بات سچ ثابت ہو گیْ

یہ قصیدہ جو تیری شان میں ہیں
یہ قصیدے ہی اُس کی شان میں تھے
یہ جو تیری وفا کے گاہک ہیں
یہ ابھی دوسری دکان میں تھے

عمران خان کے دیرینہ مداح ، تعلیم یافتہ کونسلر اور نو جوان وکیل نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو ایک زمانے میں حبیب جالب نے کہا تھا

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔