قربانی تو ہو گئی

قربانی تو ہو گئی

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سیرل المائد کیس میں اپنے قریبی ساتھی اور کابینہ کے اہم وزیر پرویز رشید کو وزارت سے بر طرف کر دیا ہے ۔ ان کے پاس وزارت اطلاعات و نشریات کا اہم قلمدان تھا ۔29اکتوبر کی شام کو اسلام آباد پریس کلب میں اس پر گفتگو جا ری تھی ۔ ایک سنئیر اخبار نویس نے خبرسے خبر نکالتے ہو ئے پوچھا قربانی تو ہو گئی مگر یہ بتاؤ یہ قربانی قبول بھی ہو گی یا نہیں ؟اصل بات قبولیت کی ہے ۔ 06اکتوبر کو انگریزی اخبار میں سیرلاالمائد کی دی ہوئی خبر شائع ہو ئی خبر میں باوثوق ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیاں فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔ آرمی حکومت سے خوش نہیں ہے ۔ خبر میں میٹنگ کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں ڈی جی آئی ایس آئی لفٹننٹ جنرل رضوان اختر، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار وغیرہ شریک تھے ۔
خبر میں میٹنگ کی اندرونی کہانی دی گئی تھی ۔ حکومت نے خبر دینے والے صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ۔ خبر کی تردید نہیں کی البتہ خبر لیک ہو نے کی تحقیقات کا حکم دیا پھر صحافی کا کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔ آئی بی ، الف آئی اے ، آئی ایس ، آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے خبر لیک ہونے کی تحقیقات کروائی گئی ۔ ابھی تحقیقات کا عمل جاری تھا کہ عمران خان نے اسلام آباد کو بند کر نے کیلئے 2نومبر کی تاریخ مقرر کی اسلام آباد اور راولپنڈی میں جھڑ پیں ہوئیں دفعہ 144 لگایا گیا ، ٹرپل ون بریگیڈ کو بلا یا گیا ۔ اوراس ہنگامے کے اندر اندروں خانہ مذاکرات ہو ئے ، سودے بازی ہو ئی ۔پرویز رشید کی وزارت کو قربان کیا گیا ۔پرویز رشید وفاقی کا بینہ کے ساتھ ساتھ کچن کینٹ کے بھی طاقتور وزیر تھے ان کا شمار چار پیاروں میں ہو تا تھا ۔ جن کے ذمے اطلاعات کا کام تھا وہ خود بے خبر نکلے ۔ بھٹو کی کابینہ میں مولانا کو ثر نیازی وزیر اطلاعات تھے ۔ جب مارشل لا ء آیا تو کوثر نیازی نے 5جون والی رات کی کہانی لکھی۔ کتاب کا نام رکھا “اورر لائن کٹ گئی”کو ثر نیازی لکھتے ہیں ۔4جون کے دن جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم کو اپنی وفاداری کا پورا یقین دلا یا ۔ اورکہا ملک چلا نا فوج کا کام نہیں سیا ستدانوں کا کام ہے ۔ رات 11بجے میرے گھر کی دیواریں پھاندکر فوجی اندر گھس آئے میں فون ملانے کیلئے ریسیور اٹھا یا ، نمبر ملا یا ۔
میں پوچھ رہا تھا یہ کیا ہو رہا ہے مزید فوجیوں کے اندر آنے کی آواز آئی اور لائن کٹ گئی گویا بھٹو کی کابینہ کے وزیر اطلاعات سب سے ذیادہ بے خبر نکلے ۔ علامہ اقبال نے کہا ۔
ستارہ کیا میرے تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود افلاک میں ہے خوار وزبوں
قدرت اللہ شہاب نے اپنی سوانخ عمری شہاب نامہ میں اپنے تجربات کا جو نچوڑ بیاں کیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ سکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میں اہم پوزیشن پر فائز تھا مگر اس پوزیشن پر کام کر تے ہو ئے میں انے ایک ہی بات سیکھی وہ یہ کہ کونسی اطلاع اپنے آپ تک محدود رکھی جائے ۔ یغنی کو نسی بات چھپائی جائے ۔ وزیر اطلاعات کی قربانی کے بعد اندروں خانہ حالات بہتر ہو نے کے امکانات پیدا ہو ئے ہیں ۔ مگر ابھی ڈومور کے چند مراحل باقی ہیں ڈومور والا قصہ ابھی ختم نہیں ہوا ۔
ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
ابھی تو امپائر کی ایک انگلی اٹھی ۔ آگے مزید انگلیوں کے اٹھنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔ اسلام آباد 2نو مبر کو بند ہو نا ہے اور وزیر عظم سے استعفی لیکر عمران خان کو ان کی جگہ وزیر اعظم بنانے تک بند ہی رہنا ہے ۔ اسلام آباد بند ہو نے کے دوران پارلیمنٹ ہاوس ، اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر حملے بھی ہو نے والے ہیں ۔ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ حملہ آوروں کے ٹارگٹ ہو سکتے ہیں ۔ یہی وہ تین ادارے ہیں ۔ جو عمران خان کو نا پسند ہیں ۔ اب اس بات کا انحصار قربانی کی قبولیت پر ہے ۔ اگر قربانی قبول ہو گئی تو اسلام آباد بند نہیں ہو گا ۔ اسلام آباد بند ہوا تو سمجھ لینا چاہئے کہ مزید قربانیوں کی ضرورت ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارت اطلا عات کا قلمدان کس کو ملے گا ۔ وزارت خاجہ کے انتظار میں بیٹھی ہو ئی مریم نواز بھی آسکتی ہے ۔ کپٹن صفدر کے نام پر بھی انعامی بانڈ نکل سکتا ہے ۔ خواجہ سعد رفیق ،دانیال عزیر اور مشاہد اللہ خان میں سے ایک کی لاٹری نکل سکتی ہے ۔ میاں نواز شریف اگر جی ایچ کیو کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ ماحول میں ساز گار رکھنا چاہتے ہیں تو دانیال عزیز بہتر اپشن کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ موصوف نے 2000سے 2008تک جی ایچ کیو کی قربت میں وقت گزار ا ہے ۔ اور جی ایچ کی نبص کو پہچاننے کے سارے گر جا نتے ہیں ۔ خوب گزرے گی جومل بھیٹینگے دیوانے دو ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ قربانی تو ہو گئی پر اس کی قبولیت کا معاملہ لٹکا ہو ا ہے ۔ ابھی یہ مسلہ اپنی جگہ موجود ہے کہ قربانی قبول ہو گی یا نہیں ۔ ہمارے ممدوح پرویز رشید فیض کا یہ شغر ضرورت گنگناتے ہونگے ۔
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا،ہارے بھی تو بازی مات نہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments