فر سودہ رسومات کی سر دردی 

فر سودہ رسومات کی سر دردی 

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : اقبال حیاتؔ آف بر غذی

نوح بن مریمؓ اپنی بیٹی کے لئے رشتے آنے پر ایک مجو سی پڑوسی سے مشورہ طلب کئے ۔ اس نے کہا “سبحان اللہ “لوگ آپ سے فتوے طلب کر تے ہیں۔ اور آپ ایک انتہائی نازک معاملے کے بارے میں میری رائے چاہتے ہیں۔ نوح بن مریمؓ نے کہا کہ پڑوسی کی حیثیت سے تمہیں مجھے مشورہ دینا پڑے گا۔ مجوسی نے کہا کہ فارس کا بادشاہ کسریٰ رشتہ جوڑتے وقت مال و دولت دیکھتا تھا۔ روم کا بادشاہ قیصر خوبصورتی اور حسن و جمال کو فوقیت دیتا تھا۔ عرب کا بادشاہ حب نسبت اور اعلیٰ خاندان کو ملحوظ خاطر رکھتا تھا۔ جبکہ آپ کے سردار محمدﷺ دیندار ، کردار اور سیرت کو مقدم سمجھتے تھے۔ اب یہ فیصلہ آپ خود کریں کہ آپ ان میں سے کس کی اقتدا کر نا پسند کریں گے ۔

خاندانی رشتے کے لئے انتخاب کے سلسلے میں اگر ہم خود کو اس آئینے میں دیکھنگے تو ہماری تر جیح خود بخود ابھر کر سامنے آئے گی ۔ اور ہم کبھی بھی دین سے وابستگی اور اخلاق و کردار کو پرکھنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ بلکہ اعلیٰ تعلیم عہدہ ، گھر اور خاندان ہماری اولین ترجیح ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہم اس قسم کے امور کی انجام دہی کے وقت بھی اپنے پیغمبر ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کو پیش پشت ڈال کر اپنی طرف سے وضع کردہ رسم و رواج کے ڈور کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ اور انکی ادائیگی میں کوتاہی کو ناک کٹنے کے مترادف قرار دے کر خود کو عار دلانے کے قابل سمجھتے ہیں۔ ان ہی رسومات کی وجہ سے بسا اوقات رشتے ٹوٹتے ہیں ۔اور زندگی بھر قرضوں کے بوجھ تلے بلکنا پڑتا ہے۔ اور یوں زندگی کی سہولتوں کو اپنے ہی ہاتھوں اپنے لئے مشکلات میں تبدیل کر نے کی حماقت ہر جگہ مختلف صورتوں اور رنگوں میں پائے اور اپنائے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خصو صاََ شادی بیاہ کے مواقع پر جس قسم کے رسومات اپنائے جاتے ہیں وہ ’’آبیل مجھے مار ‘‘کے مترادف ہوتے ہیں۔ بیٹی کی رخصتی سے قبل رشتہ جڑنے کے بعد دلہا کے خاندان والوں سے کپالہ لکھینو نام سے کئی جوڑے کپڑے دلہن کے کمرے کی آرائش کے لئے سامان کی نشان دہی اور نقد پیسوں کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ دلہن کے ساتھ ان کی نانہال سے ایک فرد کو دم چھلا بنا کر ’’ناخہ نشاک‘‘نام سے بھیجا جاتا ہے۔ جس پر سرتا پا پوشاک اور نقد رقم کی صورت میں خرچہ کیا جاتا ہے۔ دلہا کے خاندان سے حاصل کر دہ رقم سے گاؤں والوں کو کھانا دیا جاتا ہے۔ اور یوں بیٹی کی میراث میں حصہ داری کا لحاظ رکھے بغیر اپنی طرف سے اسکی رخصتی کا اہتمام کرنے کی بجائے اس کے گھر کو اجاڑ کر اسکی رخصتی عمل میں لائی جاتی ہے۔ نکاح کے فوراََ بعد دلہا اور دلہن کی منہ دکھائی کی رسم کو ببھا تے ہوئے نو بیاھتا۔ جوڑے کے سامنے پنیر یا دودھ کی بنی کوئی چیز رکھی جاتی ہے ۔ا ور اسکی طرف پہلے ہاتھ بڑھانے والے کو اسکی زندگی بھر کی بالا دستی سے تعبیر کی جاتی ہے۔ او ر میاں بیوی کی عمر بھر کی رفاقت کو محبت ، الفت اور رواداری کے اوصاف پر استوار کر نے کی آرزوں اور دعاؤں کی بجائے انہیں ایک دوسرے پر بالا دست ہونے کے تصورات سے آشنا ء کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر اس رسم کی ادائیگی کا اہتمام کر نے والی یا والوں کو دلہا کی طرف سے پیسے دئے جاتے ہیں۔ اور تماشہ بین خواتین کی دلہا کے لئے نا محرم ہونے کے باوجود ہنسی مذاق کی صورت میں اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

انہی رسومات میں مر دے کی میت کو زندگی بھر قدر دانی سے نا آشنا اولاد یا کسی اور رشتہ دار کی آخری دیدار کے لئے کئی گھنٹوں تک دفن کئے بغیر رکھنا اور عمر عزیز کا قیمتی سال بیت جانے پر ناقابل تلافی نقصان سمجھ کرکف افسوس ملنے کی بجائے دھوم دھام سے سالگرہ منانے کا رواج بھی آئے دن ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی پینب رہے ہیں ۔ اور یہ عقل کا جنازہ نکالنے کی کیفیت کے حامل ہیں ۔ بحر حال انسان خود اپنے لئے پریشانیوں کا سامان پیدا کر رہا ہے۔ اور خاص کر بحیثیت مسلمان اس حقیقت سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ کہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر مبنی طرز زندگی اپنانے میں جو لذت ، فرحت اور سکون قلب نصیب ہوتا ہے ۔ دنیا کا کوئی مذہب اور نظام اس کے مماثل طرز زندگی نہیں دے سکتے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔