بتایا جائے کہ سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کو کیا مل رہا ہے، سینیٹر رحمان ملک کا قائمہ کمیٹی اجلاس میں سوال

اسلام آباد( ابرار حسین استوری)سینیٹ کمیٹی برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان کا اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹر رحمان ملک نے کها که گلگت بلتستان کا ایئر پورٹ سی پیک میں شامل کیا جائے اور یه بتایا جایے که سی پیک میں گلگت بلتستان کو کیا مل رہا ہے. رحمان ملک کا کمیٹی سے بار بار استفسار که بھاشا ڈیم پرانا پراجیکٹ ہےاور آج کہاجاتا ہے کہ سی پیک میں یه پروجیکٹ بھی شامل هے تو بتایا جایے که یه سی پیک میں کیسے شامل ہوا۔ ان کا کمیٹی سے یه بھی کہناتھا که سی پیک پر سب سے زیادہ حق گلگت بلتستان کا ہے کیونکه یه سی پیک کا نٹری پوائنٹ ہے، جبکه حکومت سی پیک میں گلگت بلتستان کو مکمل نظر انداز کر رہی ہے، ایسا ہر گزقابل قبول نہیں ہوگا اور نه ہی ہم نظر انداز کرنے دینگے۔

حکومت کو مخاطب کر کے ان کا کہنا تھا که آپ پرانے منصوبوں کی بات کر رہے ہیں مگر اب کا بتا دیں که گلگت بلتستان کو کیا دیا جا رہا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کها که کاغذات نہیں دکھائے جائیں، بلکہعملی طور پر کیا ہورہا ہے وہ بتایا جائے۔ سی پیک سے اگر کوئی پیسہ ملا ہے تو اس سے گلگت بلتستان کو کیا ملا ہے؟

سینٹر رحمان ملک نے کیمٹی کو کها که سی پیک میں گلگت کے انڈسٹریل ٹاور، ائیرپورٹ اور دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے کیا ہو رہا ہے تو کیمیٹی کی جانب سے کہاگیا که اسی حوالے سے کام ہو رہا ہے تاکه گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیے کچھ اچھا کیا جایے تاکه خطے میں ترقی ممکن ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments