گلگت بلتستان کے معذور افراد، خواتین اور اقلیتوں کو اب بھی سرکاری نوکریوں میں نظر انداز کیا جارہا ہے

گلگت بلتستان کے معذور افراد، خواتین اور اقلیتوں کو اب بھی سرکاری نوکریوں میں نظر انداز کیا جارہا ہے

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(ارسلان علی) واضح قانون اوروزیرعلیٰ گلگت بلتستان کے احکامات کے باؤجود گلگت بلتستان حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں ہونے والی بھرتیوں میں خواتین،معذور افراد اور اقلیتوں کا کوٹہ غائب کر دیا جس کی وجہ سے خواتین، معذار افراد اور اقلیتوں کی حق شکنی ہو رہی ہے۔ملک بھر میں سرکاری سطح پر ہونے والی تمام بھرتیوں میں خواتین کا دس فی صد،معذار افرادکا دو فی صد اور اقلیتوں کاپانچ فیصد کوٹہ مقرر ہے مگر گلگت بلتستان میں اس قانون پر سرے سے عمل نہیں ہو رہا اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والی بھرتیوں کے علاوہ باقی ہر سطح پر ہونے والی تمام بھرتیوں میں خواتین،معذور افراد اور اقلیتوں کے لیے مختص کوٹے کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔مختلف اوقات میں حکومتوں کی طرف سے کئی بار تمام سرکاری محکموں کو اس کوٹے پر عملدرآمد کے لیے لیٹر زبھی جاری ہوتے رہے ہیں مگر سرکاری محکمے تاحال اس پر عمل درآمد سے قاصر ہے۔ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کی انتظامیہ کو کیبنٹ سیکرٹریٹ اسلام آباد سے 1989میں ایک سرکاری لیٹر کے ذریعے یہ ہدایات جاری کی گئی تھی کہ وہ تمام سرکاری اسامیوں پر خواتین،معذور افراد اور اقلیتوں کا کوٹہ مختص کرے اس وقت سے اب تک 27سالوں میں کم و بیش اس حوالے سے 19ایس آر اوز جاری ہو چکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سروسز ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان نے 14فروری2015کو ایک اخباری اشتہار کے ذریعے تمام سرکاری محکموں کو خواتین،معذور افراد اور اقلیتوں کے لیے کوٹہ مختص کرنے کا پابند بنایا مگر اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بھی تین مئی 2016کو لیٹر نمبر CM-Secc-C-3(1)2015/85میں اس کوٹے کے حوالے سے واضع احکامات جاری کئے تھے مگر وہ لیٹر بھی کارگر ثابت نہیں ہوا اورگلگت بلتستان میں ہونے والی تمام بھرتیوں میں اس مختص کوٹے کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق جس اسامی کی اشتہار میں خواتین،معذور افراد اور اقلیتوں کا کوٹہ واضع طور پر بیان نہ ہو وہ اشتہار غیر قانونی قرار پاتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین کی آبادی 52فی صد ہے جبکہ معذور افراد اور اقلیتوں کی بھی اچھی خاصی آبادی موجود ہیں سرکاری اسامیوں میں انہیں نظرانداز کرنے سے ان کی حق شکنی ہو رہی ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔