جہنم کے راستے جنت کا سفر

جہنم کے راستے جنت کا سفر

35 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

صفدرعلی صفدر

میں اس طویل سفرکے دوران راستے میں آنے جانے والے ٹرکوں کے پیچھے لکھے گئے اشعار پڑھ پڑھ کر آخر نیند میں چلاگیا۔ابھی آنکھ لگ ہی گئی تھی کہ ایک عجیب وغریب مخلوق آنکھوں کے سامنے سامنے نمودار ہوکربڑی شائستگی کے ساتھ محو گفتگو ہوئی۔ پوچھنے لگی بیٹا تم اس وقت جہنم کے راستے جنت کے سفر پر نکلے ہو ناں؟

مجھے اس کی وہ بات بالکل سمجھ نہیں آئی اور حیرت سے اسے تکتا رہاتو اس نے وہ جملہ دوبارہ دہراتے ہوئے کہا ’بیٹا آپ کو شاید میرا سوال سمجھ جانے میں دشواری ہوئی‘ ۔ میں نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلادیا تو بولنے لگی بیٹا تم جس راستے سفرکررہے ہو اسے ہم جہنم کا راستہ کہتے ہیں اور جس مقام کی جانب جارہے ہو وہ ایک دنیاوی جنت ہے، یوں تم جہنم کے راستے جنت کے سفر پرنکلے ہو۔ پھر کہنے لگی دیکھو تم شاید اس جہنمی راستے سے نابلد ہو ، لیکن جہنم کے بارے میں تو سنا اور پڑا ہوگا ناں۔

اگر نہیں سنا ہے تو میں تمہیں بتادوں کہ جہنم ابدی زندگی میں وہ بدترین جگہ جس سے بچنے کے لئے تو ہم دنیا وی زندگی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور سربہ سجود ہوجاتے ہیں اور کبھی کبار تو رو روکراللہ پاک سے یہ دعابھی مانگتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں آخرت کے روز جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک نبیﷺ نے بھی ہمیں قرآن واحادیث کے زریعے جہنم کی نشانیاں اوراس میں داخل ہونے والے لوگوں پر بیت جانے والی صورتحال کے بارے میں واضح طورپر اگاہ کیا ہے۔ اس کے باوجود تم جہنم کے راستے سفرپربضدہو؟

میں نے اس کی پوری گفتگو کو غور سے سننے کے بعد پھر خاموشی سے ہاں میں سر ہلادیا،کیونکہ میں نے جانا تو ہر حال میں تھا۔ میری اس خاموشی پر وہ طیش میں آگئی اور اسی راستے پر سفرکرنے والے مسافروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ایک ایک کرکے ذکر کرنا شروع کردیا۔ بتانے لگی کہ یہ وہ جہنمی راستہ ہے جس پر سفرکے دوران کئی لوگ طرح طرح کے حادثات میں اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ آپ جیسے کئی نوجوانوں کے گھروں میں صف ماتم بچ گئی، کئی بچے یتیم ہوئے، کئی خواتین بیوائیں، یہاں تک کہ بعض اوقات تو پوری کی پوری فیملیز اسی راستے پر سفرکے دوران حادثے کا شکار ہوکر دریا برد ہوئیں، جن میں سے بعض کے گھروالوں اور عزیزواقارب کو ان کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا، جو آج بھی اپنے ان عزیزوں کویاد کرتے ہوئے زاروقطار رورہے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی قیمتی گاڑیاں، بسیں اور لاکھوں، کروڑوں مالیت کے سامان سے لدے ٹرک اس روڈ پر دوران سفر گہری کھائیوں میں ایسے جاگرے کہ آج تک ان کا کوئی نام ونشان کا پتہ نہ چل سکا۔ کیا تم نے ان حادثات سے بھی عبرت حاصل نہیں کی؟

تمہارے بائیں جانب جودریا بہتا ہے ، اس نے ان سب کو ایسا نگل لیا جیسا کہ مگرمچھ انسان کو، مینڈک مکھی کو، چیتا ہرن کو، شیرلومڑی کو اور انسان نرم وملائم لقمے کو نگلتا ہے۔ پھر کہنے لگی بیٹا میں تمہیں چند لمحوں کے لئے سوچنے کا موقع دے رہی ہوں کہ تم اپنے فیصلے پر غور کرو اوربخیروآفیت واپسی کا رخت سفرباندھ لو۔ تمہیں اندازہ ہے تمہارے اس جہنمی سفرپر نکلنے کے بعد تمہارے گھروالوں پر کیا گزررہی ہے۔ تمہارے بے چارے والدین کس قدرپریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ تم بڑے اطمینان سے کہہ رہے ہو کہ تم اسی جہنمی راستے پر سفرکرکے جنت میں پہنچ جاؤگے۔

اس پر میرے منہ سے بھی بے ساختہ یہ جواب نکلا ’انشاء اللہ‘ ۔ میرامختصر جواب شاید اس پر ناگوارگزا تو طنزاً بولی کمال کی بات ہے! پھر بولنے لگی ابھی چند ماہ پہلے کی تو بات ہے کہ تمہارا بااثر گورنر سرکار کی مضبوط ترین گاڑیوں کے قافلے میں سخت سیکورٹی کے حصار میں ہونے کے باوجود اسی جہنمی راستے پر سفرکے دوران حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ نکلے اور آئندہ کے لئے اسی روڈ پر سفر کرنے سے توبہ کیا۔ تمہارے ایک رکن اسمبلی نے تو اسی جہنمی راستے پر بار بار سفرکے خوف کے باعث خودکشی کرنے کی دھمکی دیدی ۔ کیا تم ان سے بھی طاقتور ہو، جو ایک تھکی ہوئی گاڑی میں اتنے اطمینان سے سفرپر نکلے ہو جیسا کہ تم ہوائی جہاز میں سفرکررہے ہو۔

ان کی اس بات پر میری ہنسی نکل آئی تو غصے سے مجھے گھورنے لگی۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھنے لگی کہ تمہیں کوئی جسمانی تکلیف کا سامنا تو نہیں؟ میں نے جواباً عرض کیا ’الحمدللہ‘ بالکل تندرست ہوں۔ وہ بولی فکرمت کرواگر تم اس جہنمی راستے پر کامیاب سفرکے بعد واپس گھرپہنچوگے تووہ دن بھی دیکھنے کو ملیں گے۔جب واپسی پر تمہارے جسم سے تمہاری اس تھکی ہوئی گاڑی کی طرح مختلف آوازیں آنا شروع ہوجائیں گی ۔ جب تمہارے جسم میں شدید تھکاوٹ اور تکلیف محسوس ہوگی تو پھر تمہیں میری یہ باتیں سمجھ آجائیں گی۔

میں نے ایک بار پھر خاموشی سے مسکردیا اوران کی باتوں پر کوئی خاص دہیان نہ دی ، تو بولنے لگی کہ تمہیں پھر بھی یقین نہیں آرہا ہے تو اس جنت کے کسی مکین کو ابھی ہی کال کرکے پوچھ لو کہ ان لوگوں کو اس جہنمی راستے کی وجہ سے کس قدرتکالیف کا سامنا ہے۔ شایدتم ان لوگوں کو مجھ سے بہترجانتے ہو جو باہمی تعاون، اخوت وبھائی چارگی، امن وامان، علاقائی غیرت وناموس اور اتحادواتفاق کے حوالے سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ انہوں نے کبھی بھی مذہب یا عقیدے کے نام پر ایک دوسرے کا خون نہیں بہایانہ ہی اشتعال انگیزی اور تفرقہ بازی کو ہوادینے کی کوشش کی بلکہ ہمیشہ انتہاپسندی اور فتنہ بازی پھیلانے والوں کی مل جل کر حوصلہ شکنی کی اور امن واتحاد کا درس دینے والوں کے سامنے سرتسلیم خم کیا، جبکہ تم جس شہرمیں رہتے ہو وہاں کی صورتحال کا تو تمہیں بخوبی اندازہ ہے۔

تم جس جہنمی راستے پر اس وقت سفرکررہے ہو اس کی یہ حالت آج سے چند برس قبل تمہارے شہر کی تھی۔ اگرچہ وہ بھی قدرتی حسن کے اعتبارسے کسی جنت سے کم نہیں مگربعض پوشیدہ طاقتوں نے فرقہ ورانہ کشیدگی کے زریعے اسے جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی لیکن تم لوگوں نے وقت پر ہوش کے ناخون لئے اور اپنی اس خوبصورت دھرتی کو جہنم کی آگ میں مذیدجلنے سے بچا لیا۔ آج دیکھو تمہارے شہرمیں کس قدرپرسکون ماحول ہے اور اسی پرسکون ماحول کی بدولت تمہارے اس جنت نظیرخطے کی سیاحت کتنی تیزی کے ساتھ ترقی کے منازل طے کررہی ہے جس کا تمہاری معیشت پر کتنا اچھااثر پڑرہا ہے ۔

میں سنتا رہا اور وہ بولتی رہی لیکن اس کی جسامت اور شکل وصورت دیکھ کر مجھ میں اس سے یہ پوچھنے کی جرات نہ رہی کہ آخر وہ ہے کون۔ تھوڑی دیربعدکہنے لگی کہ چلو مان لیا تم میں سننے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن میں تمہاری کیا مددکرسکتی ہوں، کاش اس جہنمی راستے پر کوئی اچھا سا ہوٹل بھی ہوتا تومیں تمہیں ایک کپ چائے ہی پلا لیتی جس سے تمہاری تھکن دورہونے میں مددمل جاتی۔ خیر تم تو جنت کے سفرپر نکلے ہوتو ظاہر ہے وہاں پر تم جومن چاہے کھا سکتے ہو۔

تمہیں اس بات کی فکرکرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔تمہاری منزل مقصود کے باسی مہمان نوازی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔ مجھے یقین ہے

تمہیں وہاں پر قیام کے دوران کسی بھی قسم کا مسلۂ درپیش نہیں ہوگا۔ وہاں کے باسی نہ بلاضرورت سڑکیں بندکرتے ہیں، نہ گاڑیاں روک کر مسافروں کی فرقے کی بنیادپر تلاشی لیتے ہیں، نہ ہی وہ لوگ جلاؤ گھیراؤ اور توڈ پھوڑ کے عادی ہیں۔ بس ان کا ایک ہی مشترکہ مطالبہ تھا، جس کے لئے انہیں وقتاً فوقتاً سڑکوں پر نکل آنا پڑرہا تھا۔بلکہ زیادہ تر تو وہ لوگ اخباری بیانات کے زریعے ہی اپنا وہ دیرینہ مطالبہ حکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن اب وہ مطالبہ بھی حل ہوگیا اور اگلے چندسالوں میں انہیں اس جہنمی راستے کے عذاب سے نجات مل جائیگی۔

پھر اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے وہ بولنے لگی کہ آخر تم نے میری باتوں پر عمل کرکے واپسی کا رخ اختیارکرنے کی بجائے اسی جہنمی راستے پر سفرکرنے کو ترجیح دی۔ مجھے یقین ہے تمہیں اس راستے کی تکالیف کا خوب اندازہ ہوا ہوگا۔ لیکن تم تو جوان ہو ، جوانی کی موج مستی میں اس طرح کی تکالیف کوئی بڑی بات نہیں۔ تم ان لوگوں کا سوچو جو ضعیف العمر ہیںیا کسی نہ کسی بیماری کی حالت میں ہیں،ان لوگوں پر اسی راستے پر سفر کرتے ہوئے کیا گزرتی ہوگی ؟

لہذا یہ تم لکھاریوں کافرض بنتا ہے کہ تم حاکم وقت کوان مشکلات سے اگاہ کرتے رہو اور انہیں بروقت اس جہنمی راستے کی حالت بدلنے کی تلقین کرتے رہو، کیونکہ انہیں خود تو کبھی اس طرح کے جہنمی راستوں پر سفرکرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ، اگر انہیں عوامی مشکلات کا تھوڑا سا بھی احساس ہوتا تو آج اس روڈ کی یہ حالت نہ ہوتی ۔

گفتگو ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایک زوردار سا جھٹکا لگنے سے میری آنکھ کھل گئی اور ڈرائیور نے بڑے احترام سے استفسار کیا ’سر ہم سکردوشہرمیں داخل ہوگئے ہیں،گاڑی کا رخ کس ہوٹل کی جانب موڑنا ہے‘ ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments