گندم بلیک کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی ہوگی، گندم بیچ کر کروڑ پتی بننے کا دور ختم ہوگیا، وزیر خوراک

گندم بلیک کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی ہوگی، گندم بیچ کر کروڑ پتی بننے کا دور ختم ہوگیا، وزیر خوراک

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابد شگری)صوبائی وزیر خوراک محمد شفیق نے کہا ہے کہ گندم بلیک کرنے اور چور بازار کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیا ہے۔ آئندہ عوام کو گندم وافر مقدار میں ملیں گے۔گلگت بلتستان میں مقررہ کوٹے کے مطابق گندم پہنچ رہا ہے۔کسی بھی سرکاری اہلکار اور محکمہ سول سپلائی کے حکام گندم بلیک میں پکڑا گیا تو ان کیخلاف سخت اقداما اٹھائیں گے۔صوبائی وزیر خوراک نے شگر میں بلک ڈپو کا اچانک دورہ کیا۔جہاں انہوں نے گندم کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اور ڈپو انچارج سے گندم کی صورتحال اور آمد و رسد کے بارے میں سوالات کئے۔ جبکہ ڈپو کے ریکارڈ بھی چیک کئے۔جبکہ انہوں نے مقامی لوگوں سے بھی گندم کی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا۔

اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں گندم کی آمد و رسد کا نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔ اس وقت صوبے بھر میں گندم کے کہی پر بھی بحران نہیں۔ تمام ڈپو گندم سے بھرے ہوئے ہیں۔اور گندم کی آمد کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔اب وہ دور ختم ہوگیا جب گندم کو بلیک کرکے راتوں رات لوگ کڑور پتی بن جاتے تھے۔ ہم نے ایسا نظام بنایا ہے کہ گندم بلیک کرنے والوں کو سخت قانون کاروائی سے گزرنا ہوگا۔گندم کو بلیک کرنے اور لوگوں کو گندم سے محروم رکھنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔جہاں کہی بھی گندم کو چور دروازے سے فروخت کرتے ہوئے سرکاری یا دیگر کوئی ملوث پانے کی شکایت ملی تو ان کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گندم کی بلیک مارکیٹ فروخت پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی شکایات کی صورت میں فوری طور پر ان سے متعلقہ اہلکاروں کے بارے میں شکایات درج کریں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔