کیار وس کو گرم پانی تک رسائی مل گئی؟

کیار وس کو گرم پانی تک رسائی مل گئی؟

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے روس کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دینے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے دورہ اشک آباد کے دوران روس کو چائنا پاکستان اکنامک کارویڈور میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ گذشتہ ماہ روس نے غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مدد کرنے پر اتفاق کیا اور روسی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کا دورہ کیا۔ تحریک انصاف کے اہم رہنما کی طرف سے اس کا خیر مقدم ایک اہم پیش رفت ہے۔ نیز تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے عمران خان کی ہدایت پر پارلیمنٹ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ بھی ختم کردیا۔ اسلام آباد اور پشاور کے صحافتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ برف پکھل چکی ہے یا نہیں ؟ برف کا جو بھی حال ہو ۔ پگھلنے کی جو بھی کیفیت ہو۔ یہ بات طے ہے کہ روس کو گرم پانیوں تک رسائی مل گئی امریکی اور بھارتی حکام ، خفیہ ادارے اور قومی سلامتی کی تنظیمیں اس پر حیران اور انگشت بد انداں ہیں کہ کیا واقعی روس کو گرم پانیوں تک رسائی مل گئی ؟ جون ایلیا نے بہت پہلے ایک بات کہی تھی۔

کیا میری فصل کٹ گئی! ہاں فصل کٹ گئی

کیا وہ جواں گذر گئے ؟ ہاں وہ جواں گذر گئے

1980 کی دہائی میں پاکستان کے اخبارات ، ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں پر ایک بات دہرائی جا رہی تھی کہ روس گرم پانیوں تک رسائی کے لئے افغانستان میں داخل ہوا ہے اور گرم پانیوں کے دو راستے تھے ایک راستہ ایران سے جاتا تھا اور دوسرا راستہ پاکستان سے جاتا تھا۔ افغانستان پر امریکہ کا غیر اعلانیہ قبضہ مستحکم ہونے کے بعد ایران کا سمندری راستہ بھارت کو دیدیا گیا۔بھارت روس کا پرانا حلیف تھا۔ اب امریکیوں کا پکا اتحادی بن چکا ہے۔ روسیوں کے ہاں یہ نعرہ بہت عام ہے کہ ’’امریکہ کا جو یار ہے غداز ہے غدار ہے‘‘

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن طویل عرصے تک سویت یونین کی انٹیلی جنس ایجنسی کے جی بی سے وابستہ رہے ہیں۔دنیا کی نبض پر ان کی گہری نظر ہے۔ گوادر کا شغر شاہراہ کی مخالفت میں امریکہ اور بھارت نے دہشت گردی کا وسیع جال پھیلا یا ہے۔اس جا ل کا صدر پیوٹن کو علم ہے اس شاہراہ سے چین اور پاکستان کو جو فوائد حاصل ہونگے ان فوائد سے روسی قیادت پور ی طرح با خبر ہے اس لئے روس نے سی پیک میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے مشرف دور آئی ،معاہدہ ہوا تو امریکہ اور بھات نے مخالفت کی روس نے اُس وقت بھی منصوبے میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا لیکن ہماری حکومت امریکی دباؤ سے باہر نہ آسکی اور روس کو منصوبے میں سرمایہ فراہم کرنے کی ترغیب نہ دے سکی اس وقت تاجکستان ،افغانستان ،پاکستان انڈیا کے لئے گیس کا منصوبہ تاپی (Tapi) زیر غور ہے یہ بھی بہت بڑا منصوبہ ہے طرح کے اہم منصوبوں کے ذریعے علاقائی ترقی کو نئی جہتوں سے دیکھنے کا اچھا موقع ملے گا اگر و سطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے نقشوں کو سامنے رکھ کر روس اور چین کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو چارواضح انداز میں سامنے آجاتی ہیں پہلی بات تو ہے کہ روس درّہ سالانگ کے ذریعے افغانستان سے ملا ہوا ہے سالانگ ٹنل کے راستے بھاری گاڑیوں کی ٹریفک چل رہی ہے اس راستے کو پشاور کے قریب گوادر کاشغر شاہراہ سے ملانے کے لئے ظورخم کا راستہ موجود ہے اور یہ گوادر بن سکتا ہے دوسری بات یہ ہے سی پیک کا ایک راستہ چمن کے قریب سے گزرتا ہے یہ ترکمنستان کو جانے والی شاہر اہ کو گوادر سے ملا سکتا ہے تیسری بات یہ ہے کہ چین نے کاشغر سے تا شقر غن کے راستے کر غیزیہ (Kirghezia) کو سنکیانگ اور ارومچی سے ملانے والی شاہر اہ کھول دی ہے کر غیزیہ سے تاجکستان ،ازبکستان اور ترکمنستان کے راستہ افغانستان اور پاکستان تک رسائی کے لئے شاہراہوں کا بہترین نیٹ ورک ہوجود ہے یہ نیٹ ورک گوادر تک آجا ئے تو سی پیک کو تین کی جگہ 7 راستے مل سکتے ہیں گوادر کی بندرگاہ سے روزانہ 10 ہزارٹن کی جگہ 50 ہزار ٹن سامان کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے چوتھی اہم بات یہ ہے کہ چین اور روس کو گوادر میں گہرے سمندر کی بندرگاہ تک رسائی مل سکتی ہے تو پاکستان اور افغانستان کو وہی حیثیت حاصل ہوگی جو حیثیت قطر ،دوبئی ،سنگاپوراور ہانگ کانگ کو حاصل ہے گوادر سے وسطی ایشیا کو چار بڑے راستے جاتے ہیں طورخم ازبکستان کا راستہ ہے چمن اور ترکمنستان کا راستہ ہے خنجراب سے کاشغر اور قا شقر غن کا راستہ ہے ،لواری ٹنل کے راستے چترال اور واخان سے پامیر ،تاجکستان ،دوشنبہ جانے کا ارستہ ہے

جی جے آلڈر کی کتاب برٹش انڈیاز نادرن فرنٹیر 1961 ء ؁ میں شائع دفاعی تجزیہ کار اور محقق نے اپنی کتا ب قیام پاکستان سے پہلے لکھی تھی اس میں مصنف نے ثابت کیاہے کہ چترال کا راستہ سب سے زیادہ محفوظ ہے اور قدیم زمانے میں شاہر اہ ریشم کا یہی متبادل راستہ تھا وزیر اعلی پرویز خٹک نے سیاسی مخالفت کے باوجود سی پیک میں روس کی شمولیت کا ٰخیر مقدم کر کے نہ صرف اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا بلکہ قومی مفاد کے معاملات میں گروہی سیاست اور پارٹی لائن سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت کا بھی ثبوت دیا اب وہ دن دور نہیں جب انیسویں صدی کے آغاز تک یا اٹھارویں صدی سے پہلے مغربی ترکستان اور مشرقی تر کستان کے جو کارواں گھوڑوں پر سوار ہو کر چترال ،چغہ سرائے جلال آباد اور پشاور سے گرزرتے تھے وہی قافلے اور وہی کارواں اب بسوں ،لاریوں اور کنٹینروں کی قطاروں میں یہاں سے گزرینگے اور ہم اپنے دیدہ و دل اُن کے قدموں میں نچھاور کرینگے ساغر صدیقی ہمارے ہی جذبات کی ترجمانی کی ہے ۔

شاید یہیں کہیں ہو تیر ا نقش پائے ناز

ہم نے گر ادیے ہیں سر ہگذارپھول

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔