“ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں”

“ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں”

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

لبنان کے عظیم فلسفی خلیل جبران لکھتے ہیں

“تہذیب جدید نے قدرے دانائی بخشی ہے لیکن مرد کی حرص و ہوس نے عورت کے دکھوں کو سوا کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔کل کی عورت ایک مسرور رفیقہ حیات تھی اور آج کی عورت ایک مظلوم داشتہ!اگر عورت کی زندگی کا ایک رخ نہایت روشن ور دوسرا اتنا ہی بھیانک ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ معاشرے میں روباہ صفت اور بھیڑیا نما مردوں کی اکثریت ہے”

(زرد پتے از خلیل جبران)

گزشتہ دنوں ملک کے ایک انگریزی روزنامے میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی حوّا کی بیٹیوں کو سکالر شپ کا جھانسہ دے کر عصمت فروشی پر مجبور کرنے کی خبریں زینت بنیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق اس مکروہ دھندے میں مبینہ طور پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے کچھ ممبران کے ساتھ ساتھ چند بیوروکریٹس بھی شامل ہیں ۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد گلگت بلتستان کی سیاسی فضا میں ایک ہلچل کا سماں پیدا ہوا جبکہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے ایک اخباری بیان میں خبر کے غلط ہونے کے ساتھ ساتھ متعلقہ اخبار کے کرائم رپورٹر کے معافی مانگنے کا بھی برملا اظہار کیا۔لیکن رپورٹر نے بعد ازاں حقائق پر مبنی ایک اور رپورٹ چھاپنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو بے نقاب کرنے کا عندیہ دے دیا۔اس کیس کے حوالے سے شالیمارپولیس سٹیشن میں تحقیقات جاری ہیں جبکہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے بھی اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کمیٹی کے سربراہ سپیکر فدا محمد ناشاد ہونگے۔گلگت بلتستان کے حوالے سے وفاقی دارلحکومت میں پیش آنے والے اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے اور بلاشبہ یہ علاقے کی بدنامی کا بھی سبب بن رہا ہے۔گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی دارلحکومت کی پولیس اس سکینڈل میں ملوث تمام مجرمان بالخصوص با اثرافراد کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دے گی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک برہنہ حقیقت ہے کہ ہم اخلاقیات سے عاری اور سطحی مذہبیت سے مملو ایک ایسے غیر مہذب معاشرے کا حصہ ہیں کہ جہاں بنتِ حوا کو ہمیشہ حرص و ہوس کے محدب شیشے کی مدد سے دیکھا جا تا ہے اور اس سماج کے اقدار اس حد تک فرسودہ ہیں کہ مرد کو سکھایا جاتا ہے کہ عورت ایک جسم ہے ۔ایک ایسا فرد نہیں کہ جس میں تمام صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔یعنی عورت ایک ایسا جسم ہے کہ جو بندر کی طرح شعور رکھتا ہے اور حریص مرد کے اشاروں پر خوف و سزا کے سبب اپنا جسم پیش کرتا ہے حالانکہ جہل کی بنیادوں پر قائم سماج اس بات کو نظر انداز کرتا ہے کی عورت ذات ہی ہے جو خدائی صفات کا پر تو ہے یعنی خالق کے معنوں میں وہ ایک بچے کو پیدا کرکے دنیا میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے جبکہ اسی بچے کو دودھ پلا کر رزّاق کا کردار ادا کرتی ہے۔

کسی بھی معاشرے کی اخلاقی اقدارکی بنیاد دولت سے متصل کی گئی ہواور حتیٰ کہ جہاں انسان کے کردار ،شرافت اور اخلاق کو بھی دولت ہی کے پیمانے سے تولا جائے اور جہاں دولت مندی انسان کے تمام عیوب پر پردہ ڈالنے کا موجب بن جائے تو معاشرے میں درندہ صفت افراد کا صاحبِ اختیار یا صاحبِ اقتدار بن جانا ایک معمولی سی بات بن جاتی ہے جبکہ لقمہ ء حرام جب انسان کے وجود میں سرایت کر جاتی ہے تو معاشرے میں روحانی اور اخلاقی بیماریاں کسی وبا کی طرح پھیل جاتی ہے۔بنتِ حوّا کو رسوا کرکے گلگت بلتستان کی بد نامی کا سبب بننے والے اس واقعے میں ملوث افراد کو پاک دامن ثابت کرنے کے چند افراد کی مقامی اخبارات کے ساتھ سوشل میڈیا پر دینے والے دلائل کو دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے کہ اشرف المخلوقات کے لقب کا حامل حضرتِ انسان اقتدار،اختیار یا چند مفادات کی خاطر کس حد تاریکی و پستی کی تاریک راہوں میں بھٹک جاتا ہے

بقول ساحر لدھیانوی!

ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

میرے قارئین اکثر مجھ سے گلہ کرتے ہیں کہ میری تحریروں میں بہت زیادہ تلخی شامل ہوتی ہے تو یقیناًمیں اس جرم کا اقرار کرتا ہوں بقول منٹو”ہماری تحریریں آپ کو کڑوی اور کسیلی لگتی ہیں۔مگر اب تک مٹھاسیںآپ کو پیش کی جاتی رہی ہیں۔نیم کے پتّے کڑوے سہی ،مگر خون ضرور صاف کرتے ہیں۔اور اگر میری تحریریں نا قابلِ برداشت ہیں تو یقیناََ یہ معاشرہ بھی ناقابل برداشت ہے”

گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے اس واقعے کے حوالے سے ایک کمیٹی ضرور تشکیل دی ہے جو اس معاملے کے حوالے سے تحقیقات کرے گی لیکن پاکستان میں معرض الوجود میں آنے کے بعد 69 سالوں میں لیاقت علی خان قتل کیس سے لے کر بینظیر قتل کیس تک ہزاروں واقعات کی تحقیقات کے لئے ہزاروں کمیٹیاں تشکیل دی گئی آخر اس کا کیا نتیجہ نکلا ۔۔۔۔۔۔؟کیا تمام واقعات کے حقائق منظر عام پر لائے گئے۔۔۔۔۔؟اور کیا تمام واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بلاشبہ یہ ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے جس کا سرا آسانی سے ہاتھ آنا مشکل ہے۔اسی طرح گلگت بلتستان حکومت کی تحقیقات کے لئے بنائی جانے والی کمیٹی مستقبل میں حقائق کو منظر عام پر لاکر واقعے میں ملوث عام افراد کے ساتھ ساتھ با اثر افرادکو بھی بے نقاب کرے گی یا تمام نزلہ چند عام افراد پر گِرا کر تحقیقات کوسرد خانے کی نذر کیا جائے گا اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔

اردو ادب کے نامور شاعر محمدابراہیم ذوق نے کیا خوب کہا تھا۔

وہی قاتل ،وہی شاہد ،وہی منصف ٹھہرے
اقرباء میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔