ربیع اول۔۔۔۔ماہ اتحاد امت مسلمہ

ربیع اول۔۔۔۔ماہ اتحاد امت مسلمہ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد خان طورمکی
روئے زمیں جہالت کی تاریکی میں ڈوبتا جارہاتھا،آباواجداد کی محبت اور ان کے وراثت کی حفاظت انہیں دیوانہ کر رہے تھے،ناتواں اور گو شت پوست سے ڈھکی ہوئی ہڈیوں کے طاقت پر انہیں ناز تھا اور آئے دن اس کے جوہر دکھانے کیلئے میداں سجتے تھے،ایک طرف وجود انسانی کے محور و مرکز عورت کی اہمیت سے بیگانہ تھا اور انہیں وقت پیدائش ذندہ درگور کرتے تھے تو دوسری طرف زندہ رہ جانے والیوں کو مقابلہ حسن میں لے آتے اور اپنی اہمیت سے ناشناس شعراء دو وقت کی روٹی و شہرت کیلئے انکے زلفوں کیلئے تعریف کے پل باندھتے اورشرکائے محفل خوشی سے جھوم اٹھتے۔وہ لوگ انا پرستی اور بت پرستی کے عالم اس قدر مشغول تھے اور انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اب آنے والا وقت ہمارئے ہاتھوں سے نکل کر اس زمیں کے حقیقی وارث کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ایسے میں یک دم آسمان کے رنگ بدل گئے اور رحمت کے بادل چھاگئے،انسانی فکر کی دنیا پر چھائے جہالت کے سیاہ رات تبدیل ہونے لگی اور عرب کے بنجر زمینوں اور صحراؤں سے اللہ اکبر اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہونے لگی،فرشتے قطار در قطار آسمان سے زمیں پر اترنے لگے اور حوروغلماں خوشیاں منانے لگی،شیطان کے چہرے پر غم کے ااثار نمایاں تھے جہنم کے دروازے ایک ایک کرکے بند ہونے لگے اور جنت کے دروازے درودو سلام کے ساتھ کھلنے لگے اور حضرت جبرائیل ؑ نے حضرت عبداللہ کے گھر میں مسیحائے انسانیت اور کشتی نجات کے راہی کی تشریف آواری کا اعلان کیا۔مسلمانوں کے دو بڑئے فرقے اہلسنت اور اہل تشیع کے مستند روایات کے مطابق بل ترتیب 12ربیع اول اور17ربیع اول کو سرکار دو عالم دنیا تشریف لائے،جسے آج کل مسلمان ہفتہ وحدت کے نام سے مناتے ہیں۔آپ کے مبارک آمد کے چند برس بعد آپ کے والد حضرت عبداللہ اور والدہ حضرت آمنہ اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور چھ سال کی عمر میں آپ کے پرورش کی ذمہ داری آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے سنبھالی،جب آپ نے دین اسلام کی تبلیغ شروع کی تو ابتدائی ادوار میں بہت سے مشکلات سے سامنا ہوا یہاں تک آپ کے رشتہ دار آپ کے جانی دشمن بن گئے لیکن حضرت ابوطالب کے چمکتے اور تیز تلوار کی دھار کے سائے میں دعوتہ ذولعشیرہ کامیاب ہوے،دعوت ذولعشیرہ اسلام کی تاریخ میں نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہیں سے اسلام کی پہلی کانفرس شروع ہوئی ہے۔آپ خدائے واحد کے وہ واحد محبوب ترین بندہ تھا جس کو خدا نے ملاقات کیلئے معراج پر بلایا اور آپ کے وجہ تخلیق بیان کرتے ہوئے لولاک لما خلقتاافلاک فرمایااور آپ کو کمال انسانیت کا پیمانہ قرار دیا۔آپ کی ذات وہ واحد ذات ہے جس کی تعریف خود خداوندئے عالم کی ہے اور آپ کی شان میں قرآن پاک کو نازل فرمایا۔آپ کے اخلاق کی دھار اس قدر متاثر کن تھا کہ دشمن کی صفوں میں بغیر کسی چڑھائی کے خودبخود ہلچل مچتے اور دشمن دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر مجبور ہوجاتے ۔آپ کے صبرواستقامت اور اپنے دشمن سے محبت دیدنی تھی آپ کے جسم مبارک پر کوڑا کرکٹ پھیکنے والی عورت کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے آپ کی زندگی کا ہر لمحہ بنی نوع انسان کیلئے نمونہ عمل ہے ،قرآن خود اس بارئے میں فرماتی ہے کہ بے شک تمہارے لئے رسول اکرم کی زندگی اسوہ حسنہ ہے یعنی قرآن اعلان کر رہی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں چاہے سائنس کی میدان ہو یا ٹیکنالوجی کی،ریاست کے اصول ہو ںیا سیاست کے،رہنمائے قوم کے ذمہ داری ہو یا جمہور کے،جمہوریت کے تقاضے ہو یا عدل و انصاف کے الغرض زندگی کے تمام پہلووؤں میں حضور کی سیرت سے بڑھ کر کوئی اور نمونہ عمل نہیں ،خلوت میں ذکر خدا میں آپ کی حالت غیر ہوجاتی تھی،عبادت الہی میںآپ کے خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا کہ گریہ و زاری سے آپ کے جسم اطہر کانپ جاتے اورہچکیوں اور سسکیوں سے سجدہ ریز ہوتے تھے،جب آپ میدان کارزار میں ہوتے وہاں بھی آپ مسلمانوں کی رہنمائی فرمارہے ہوتے اور اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کیلئے فکر مند رہتے تھے،جسکی ایک مثال جنگ احد کا وہ واقعہ ہے جب مسلمانوں نے دشمنوں کو گرفتار کیا تو آپ نے ان کی رہائی کے بدلے دس دس مسلمان بچوں کو پڑھانے کی شرط رکھ کر یہ وضاحت فرمایا کہ دین اسلام حصول علم کی تاکید اور تائید کرتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد حصول علم کے سوا کچھ اور نہیں،دشمنوں سے بھی آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ان کیلئے بددعا کی بجائے ان کے حق میں دعائے خیر کرتے تھے اور گھر کا دروازہ ہر کسی کیلئے کھلا رہتا تھا یہی وجہ تھی کہ چند سالوں میں حجاز کے بے آب؂ و گیاہ صحراوں میں توحید کے پیروکاراں کی تعداد ہزاروں ہوگئے اور سب کے سب ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے لیکن آپ کے بعد مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک خدا،ایک رسول،ایک کلمہ ،ایک کعبہ اور ایک دین کے پیروکار ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں،اگرچہ ان کے درمیاں نوے فیصدمشترکات ہیں لیکن ان نوے فیصد مشترکات کو اہمیت دینے کے بجائے دس فیصد جزویات کو انا کی نذر کرتے ہوے اپنا دین و دنیا تباہ و برباد کر رہے ہیں اور اس مقدس دین کوبھی بدنام کر رہے ہیں،آج قرآن پاک اوراحادیث مبارکہ ہم پر اور ہمارے کردار پر لعنت کر رہے ہیں کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان بنے ہوے ہیں اور ہماری کوئی قول و فعل اسلام کے مطابق نہیں،ہم دین کی بجائے انا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انا پرستی اور شخصیت پرستی کی دوڑ میں اسلام کی رسی ہمارے ہاتھوں سے چھٹ گئی ہے یہی وجہ ہے اختلافات اور تعصبات کی بھوت نظریاتی کشمکش کی شکل ہمارے درمیاں میں سر چڑکر بول رہے ہیں اور انسانیت اس کے پیروں تلے سسک سسک کر جان دے رہی ہے،آج دنیا میں خاص کر پاکستان میں ہم پر جو گزر رہی ہے وہ ہماری ہی محنت کا پھل ہے ورنہ خداتو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ہمارے شہیدوں کے خون سے لگائے گئے گلاب پر اس وقت امن و بھائی چارہ گی کے پھول کھل سکتے ہیں جب ہم ان کی قدر کریں،اس کا واحد راستہ اسلام اور حضور اکرم کی پیروی ہے۔ ہمارے اختلافات سے کوئی تیسرا گروہ فائدہ اٹھا رہا ہے اور اسلام کا روشن چہرہ مسخ کر رہا ہے اسلام کی پیروی سے نہ صرف ہم سچے مسلمان بن سکتے ہیں بلکہ دنیا بھی اسلام کے اصل چہرے سے بھی آشنا ہوگی،ورنہ ایک پیدائشی کافر اور ہمارے درمیان میں کوئی فرق نہیں رہتا کیونکہ خدا نے تمام انسانوں کو فطرت اسلام پر پیدا کیا ہے،بنیادی فرق ہی ہے کہ مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق ہوتا ہے جبکہ کافر قرآن حدیث کے خلاف،اور ایک مسلمان کی دنیا اور آخرت میں بھلائی اور کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے درمیاں وحدت کی فضا قائم کرتے ہوئے محور دین و دنیا ختم المرتبت حضور اکرم کی پاکیزہ اسوہ حسنہ پر عمل کرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔