صدسالہ عالمی اجتماع: چند تجاویز

صدسالہ عالمی اجتماع: چند تجاویز

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ

انجینئر عبدالرزاق عابدلاکھو گلگت بلتستان کے تین روزہ دورے پر آئے تھے۔کامیاب دورے کے بعد واپس جاچکے ہیں۔وہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کی نگرانی میں ہونے والے صدسالہ عالمی اجتماع کے  حوالے سے ملک بھر کے دورے کررہے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے گلگت بلتستان کا بھی سہہ روزہ دورہ کیا۔ پارک ہوٹل گلگت اور پریس کلب گلگت میں ان کی مسلسل نشستیں ہوئی۔ جن میں خصوصیت سے جے یو آئی گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے ذمہ داروں اور مجلس عاملہ و مشاورت کے اراکین نے شرکت کی۔ لاکھو صاحب کے ساتھ ایک نرم گرم نشست میری بھی ہوئی۔اس نشست کے بنیادی محور بشیر قریشی بنے۔ نشست میں جے یو آئی گلگت بلتستان کے جنرل سکریڑی میربہادر، سیکریڑی اطلاعات مولانا مقصود اور ضلع گلگت کے امیر منہاج صاحب بھی تھے۔ محترم لاکھو صاحب سے ہونے والی  شاندار فکری نشست میں بالخصوص صدسالہ کنونشن کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔لاکھو صاحب بہت باصلاحیت انسان ہیں، رسیلی گفتگو کرتے ہیں۔لاکھو صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جمیعت کی سوسالہ تاریخ میں صرف انہیں تین دفعہ سالار بننے کا موقع ملا ہے ورنہ  دو دفعہ بھی کسی کو سالاری کا موقع نہیں ملا۔ اور دو دفعہ جمیعت طلباء اسلام کا مرکزی صدر بھی رہے ہیں ۔آج تک ان کے علاوہ کوئی دوسری دفعہ صدر نہیں رہا۔صدسالہ عالمی اجتماع کے حوالے سے انہی کی زبانی سنتے ہیں۔ لاکھو صاحب کہتے ہیں۔

” ہجری سال کے مطابق اس سال جمیعت علماء ہند کے سوسال مکمل ہوچکے ہیں۔ اس حوالے س جمیعت علماء کے دنیا بھر  بشمول انڈیا کے قائدین نے مشاورت کرکے اتفاق رائے سے یہ ”صدسالہ اجتماع ” پاکستان میں منعقد کرنے کی تائید و تجویز دی ہے۔ جس کے لیے مولانا فضل الرحمان صاحب کئی ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔ امام الحرمین شیخ عبدالرحمان السدیس کو بھی مولانا نے بذات خود دعوت دی ہے اور انہوں نے قبول کرکے شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔بین الاقوامی زعماء کی مشاورت سے طے پانے والا یہ اجتماع پاکستان کے شہر پشاور میں  7،8،9 اپریل 2017ء  کو منعقد ہوگا۔چونکہ جمیعت کے کارکنان کی بھاری تعداد کے پی کے میں ہے اس لیے بھی پشاور میں منعقد ہوگا۔  پہلے جو  ڈیڑھ سو سالہ انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی تھی، بی بی سی اور سی این این کے مطابق اس میں 22 لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے۔ اب کی بار پچاس لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اور اس اجتماع میں سیکورٹی کا نظم و نسق اور رضاکاروں کی تربیت میرے ذمے ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر کے دورے جاری ہیں۔ قائد جمیعت نے خود پوری دنیا میں گھوم پھیر کر دنیا کے وہ ممالک جہاں جمیعت علماء کی ذیلی ونگز ہیں کے زعماء کو دعوت بھی دی ہے اور طویل مشاورت بھی کی ہے۔اس صد سالہ اجتماع کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی مسلم تحریکوں کو یہ حوصلہ دینا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ اور امریکہ بہادر اور اس کے نام نہاد اتحادیوں کو بھی یہ باور کروانا ہے کہ مظلوم مسلمانوں پر مزید ظلم سے باز رہا جائے۔انسانیت کا ڈھونڈور پیٹنا آسان مگر انسانیت کا احترام بہت مشکل ہے۔ لہذا انسانیت کا احترام سیکھتے ہوئے مسلمہ امہ کی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم کرے۔قائد جمیعت نے مسلم ممالک کے سربراہوں کے علاوہ امن پسند غیر مسلم ممالک کے سربراہوں کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے اور مزید دوروں اور دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا بھرکی طرح گلگت میں بھی صد سالہ اجتماع میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے قائدین جمیعت خود تشریف لائیں گے۔

میری بنیادی ذمہ داری صدسالہ اجتماع کے عوام و خواص کو سیکورٹی فراہم کرنا اور اجتماع کے نظم و نسق کو بہتر سے بہتر بنانا قرار پائی ہے۔ اس لیے کم از کم ایک لاکھ رضاکاروں کو ملک بھر سے جمع کرنے ہیں۔ ڈویژنل سطح پر دوروں کا سلسلہ جاری ہے اور رضاکاروں کی جمع آوری کی ترتیب برابر کی جارہی ہے۔ یہ رضاکار بنیادی طور پر جمیعت علمائے اسلام کی ذیلی ونگ انصارالاسلام  کے کارکن ہیں۔ انصارالاسلام کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ جمیعت کے پروگراموں اور اجتماعوں میں نظم و نسق کا بندوبست کرے۔ اسی طرح انصار الاسلام پاکستان کے دستور میں طے ہےکہ انصارالاسلام سماجی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی۔ بالخصوس سیلاب اور زلزلہ زدگان کی مدد کرے گی۔سندھ میں جو سیلاب آیا تھا اس میں پاکستان کی کسی بھی رفاہی تنظیم کے کارکنا ن سے پہلے انصارالاسلام کے رضاکار تھر کے صحراوں میں پہنچے تھے۔ اور پاکستان آرمی کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا تھا جس کا اعتراف فوجی آفیسروں  اور جرنیلوں نے باقاعدہ تحریری طور پر  بھی کیا ہے۔پہلے والا جو اجتماع کا نظم و نسق تھا اس کے حوالے سے اس وقت کے وزیرداخلہ معین الدین حیدر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ” ڈیڑھ فٹ کی چھڑی ہاتھ میں لے کر ان رضاکاروں نے جو نظم و نسق سنبھالا تھا وہ مثالی تھا۔اور دوسروں کو سیکھنے کا بہت سارا مواد بھی”  اب کی بھی بار بھی مثالی نظم و نسق کا بھرپور خیال کیا جائے گا۔ ویسے بھی مذہبی زعماء اور اجتماعات دھشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں، لہذا نظم و نسق کے ساتھ سیکورٹی کا بھی بھرپور انتظام کیا جائے گا”

بہر صورت یہ ایک انٹرنیشنل اجتماع ہوگا۔ اس کے لیے بہت سی تجاویز ہیں مگر چند سادھ سی تجاویز ارباب حل و عقد اور صاحبان فکر و دانش کی خدمت میں پیش ہیں۔ امید ہے سنجیدگی سے ان پر غور کیا جائے گا۔

1۔ میڈیا  کے حوالے سے عرض ہے کہ بالخصوص یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہبی وسیاسی مذہبی اجتماعات کو پاکستان اور دنیا بھر کی میڈیا کوریج نہیں دیتا۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا بھرکی تیز ترین میڈیا کو مجبور کریں کہ وہ اس صدسالہ اجتماع کو کماحقہ کوریج دے۔اس کے لیے ماہرین میڈیا سے استفادہ و مشاورت بہت ضروری ہے۔اور بڑے میڈیا ہاوسز سے مدد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور ریاستی میڈیا کو بھی مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ کوریج دے۔

2۔   من پسند شخصیات کو اجتماع میں عامۃ الناس سے خطاب کرنے کا موقع دینے کے بجائے دنیا بھر کے سیاسی ومذہبی اور دینی اداروں اور تحریکات بشمول مسلم و غیر مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ایک مناسب ترتیب کے ساتھ موقع دیا جائے۔ اس کے لیے بھی باشعور اور جہاندیدہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو یہ فیصلہ کرےکہ مسلم دنیا کے تعلیمی اداروں کے زعماء، سیاسی و مذہبی شخصیات اورحکمرانوں میں کس کو کتنا وقت دینا ہے۔ اس کا اختیار کلی طور پر اس کمیٹی کو دی جائے تاکہ اس پروگرام کی افادیت و اہمیت کو چار چاند لگ سکے۔

3۔   جن جن اشخاص نے اجتماع سے خطاب کرنا ہے ان میں موضوعات تقسیم کیے جائے۔ اہلیت و صلاحیت اور علمی وعملی کام اور شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو موضوع متعلقہ پر بات کرنے کی بروقت اطلاع کی جائے تاکہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ کم وقت میں مدلل بات کرسکیں۔

4۔ یقینا اجتماع کے بعد متفقہ سفارشات اور قرارداد منظور کرنی ہوگی اس کے لیے بھی بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اجتماع کے اختتام تک یہ سفارشات اور قرارد  تمام انٹرنیشنل زبانوں میں تیار کرے  اور بروقت پوری دنیا کی میڈیا کو یہ سفارشات جاری کیے جاسکیں۔

5۔   عالمی لیول میں اجتماع کو اجاگرکرنے کے لیے ابھی سے فی الفور رائے عامہ بنانے کی کوشش کی جائے جس کے لیے میڈیا کے تمام ٹولز اور رائے عامہ بنانے والی تمام تیکنیکس کو بروئے کار لایا جائے۔ اور انفرادی و اجتماعی  کوششوں کا آغاز کیا جائے۔ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک،ٹویٹر، یوٹیوب اور دیگر اہم ذرائع کا ابھی سے بھاری بھرکم استعمال کیا جائے ۔ اگر اس کے لیے ٹیکنیکل ماہرین پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے کر ایسے پیغامات تیارکروائے جائے اور موبلائز کیا جائے تو بہت کم خرچے پر انعقاد اجتماع سے پہلے ہی اجتماع پوری دنیا میں اپنی شہرت پاسکتا ہے۔ ان پیغامات کی لینگویج اردو ، عربی اور انگلش ہو۔ تاکہ کسی بھی انسان کو سمجھنے کی دشواری نہ ہو۔

بہرصورت اس اجتماع کے حوالے سے  دل و دماغ میں جو باتیں اور وسعت ہے کاغذ کے ان اوراق میں وہ نہیں۔ سردست انہی کو کافی و شافی سمجھا جائے ضرورت پڑنے بھی پھر عرض کریں گے او رایک گزارش جمیعت علماء اسلام کے کارکنان اور لیڈروں سے کہ جس طرح مولانا فضل الرحمان کے دل و دماغ میں جو وسعت دوسروں کے لیے ہے وہ آپ اپنے اندر بھی پیدا کریں تاکہ آپ کا پیغام آسانی کے ساتھ دنیا بھر میں پھیل سکے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔