اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے

عبدالقیوم راہی

معاشرہ کسی ایک فرد کے عمل سے وجود میں نہیں آتابلکہ مختلف لوگوں کے بحثیت رکن روابط سے معاشرہ وجود میں آتا ہے۔لیکن اس معاشرے کو بگاڑنے اورسنوارنے میں فرد واحد کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہرشخص اپنی کامیابی کو اپنی محنت اور دوسروں کی کامیابی کو قسمت سمجھتا ہے۔ سب اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ہر حد پار کرتے ہیں ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہے کہ اپنا کام نکالنے کے لئے جو اقدامات اٹھاتے ہیں اس سے ہمارے معاشرے پہ کیا اثر پڑتا ہے۔ہمارا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ خود کو ٹھیک کرنے سے پہلے معاشرے کو سدھارنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ہم خود کچھ نہیں کرتے بلکہ دوسروں سے ایسے ایسے توقعات رکھتے ہیں جو ہم خود اپنے خیال میں بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہر کوئی معاشرے کی خرابی کا رونا روتے ہیں لیکن خود اس معاشرے کی بگاڑ میں کس قدر شامل ہیں کبھی نہیں سوچتے۔ بقول احمد فراز

 شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے

اور ایک مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ معاشرے کی بہتری کے لئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اْس کے اس کام میں حصہ دار بننے کی بجائے ہم اْس کے ٹانگ کھینچنے میں لگ جاتے ہیں اور اس طرح تنقید کرتے ہیں کہ جیسے وہ کوئی جرم کر رہا ہو۔ یا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ایسے کام محض اپنی عزت،شہرت،نام،اور دولت کے لئے کرتے ہیں۔

چلو مان لیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے لئے کام کرتے ہیں لیکن اْنکے اس عمل سے معاشرے میں کتنی بہتری آتی ہے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔بحیثیت رکن معاشرہ ہمارے اندر یہی خامی ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہم دْوہری شخصیت کے مالک ہیں۔ ایک چیز کو ایک جگہے پر مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں اگرکسی کو ٹریفک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھے تو شدید تنقید لے کرتے ہیں لیکن خود ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں ۔

اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہمیں روزمرہ زندگی میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہمارے اندر ضمیر نام کی چیز ہوتی ہے لیکن اْسے بے حسی کے نیند کی گولی کھلا کر ایسے ایسے کام کرتے ہیں جن سے انسانیت بھی شرماجاتی ہے ،اور غلطی سے بھی اپنے ضمیر کو چند لمحوں کے لئے جگانا مناسب نہیں سمجھتے۔

انتہائی معزرت اْن لوگوں سے جو سمجھتے ہیں کہ انقلاب ایک گروہ کی وجہ سے آتا ہے، میں سمجھتا ہوں کی انقلاب تب آتا ہے جب ایک بندے کی سوچ بدل جاتی ہے اور وہ اپنے غلط کیے پر شرمندہ ہو کر خود کو تبدیل کرتا ہے۔سوچ تبدیل ہونے سے اْسکا رویہ اور رویہ ٹھیک ہونے سے اسکے اعمال اور اعمال ٹھیک ہونے سے ایک اچھا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

آخر میں اس اْمید کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہم سب کو معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ہماری سوچوں کوبدلنے کی تو فیق عطا فرمائیں۔(آمین)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments